- الإعلانات -

ڈاکٹرمجیدنظامی آبروئے صحافت

پاکستان میں نظریاتی صحافت کااگر کوئی دعویداریاعلمبردارہے تو حقیقی معنوں میں وہ نوائے وقت اخبار ہے کہ جس کے بانیان نے تحریک پاکستان میں اپناکردار بھرپور طریقے سے اد اکیا اور برصغیر کے مسلمانوں کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم اور اس کے پرچم تلے جمع ہونے کی طرف راغب کیا۔نوائے وقت سے میرا رشتہ کم وبیس نصف صدی سے چلاآرہاہے کہ میرے دادا مرحوم غلام سرو ر خان اوروالد مرحوم کی ایماء پر ہمارے گھر روزنامہ نوائے وقت اور مشرق اورپھرکچھ عرصہ کیلئے امروزاخباربھی آیاکرتاتھا۔ راقم نے اپنی پہلی تحریر نوائے وقت لاہور کیلئے لکھی۔ ہوا یہ کہ زمانہ طالب علمی میں مجھے اپنے سکول میگزین کاایڈیٹربنادیاگیا جس کی وجہ سے طبیعت لکھنے کی طرف مائل ہوئی ۔ میں نے انہی دنوں جناب مجید نظامی صاحب کو ایک خط لکھا کہ میں حالات حاضرہ کے حوالے سے کچھ لکھناچاہتا ہوں مجھے اس وقت خوشگوارحیرت کاسامنا کرناپڑا جب مجھے لاہور سے ڈاکٹرمجیدنظامی صاحب کاجوابی خط موصول ہوا جس میں انہوں نے فرمایا کہ نوجوان ہمارے ملک کااثاثہ ہیں اور اگر وہ شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہوں تو اس سے بڑی نعمت اوربھلاکیاہوسکتی ہے آپ نوائے وقت کیلئے لکھیں اور بھرپورانداز میں لکھیں۔چنانچہ اس کے بعدگاہے بگاہے میری تحریریں نوائے وقت لاہور میں شائع ہوتی رہیں۔میری پہلی بارملاقات ڈاکٹر نظامی سے برادر محترم نوازرضاصاحب کے توسط سے ہوئی وہ ان دنوں پریس کلب راولپنڈی کے صدر تھے تو نظامی صاحب ایک تقریب میں شرکت کیلئے تشریف لائے تو میں نے انہیں خط کاحوالہ دیکر یا ددلایا جس پر وہ بہت خوش ہوئے اور حوصلہ افزائی کی ۔1999ء میں مجاہدملت حضرت مولانا عبدالستارخان نیازی نے مجھے ڈاکٹرمجید نظامی کیلئے ایک تعارفی خط دیا جس میں انہوں نے لکھا کہ یہ میرے عزیزدوست غلام سرور خان کاپوتا ہے اسے میں نے نوائے وقت میں تعینات کردیاہے تنخواہ کاتعین آپ کردیں۔جب میں لاہور پہنچا اور ڈاکٹرمجید نظامی صاحب کو یہ خط دیاتو وہ دل کھول کرہنسے اور فرمایا کہ اب تنخواہ کاتعین بھی نیازی صاحب خود ہی کریں گے۔باوجوہ میں نوائے وقت کے قافلے کاشریک نہ بن سکا مگر جب بھی لاہورجانا ہوا تو نظامی صاحب کی قدم بوسی کیلئے ضرور حاضر ہوا۔پھرایک بارجناب ایس کے نیازی صاحب کے ہمراہ ان کے ٹی وی انٹرویو کرنے کیلئے لاہور جانے ہوا تو تب بھی ان سے بھرپور ملاقات کاشرف حاصل ہوا۔مجید نظامی کی ساری زندگی ملک میں جمہوری اقدار کی بالادستی کیلئے گزری۔ انہوں نے اپنی زندگی کوجمہوری فروغ اور استحکام کیلئے وقف کررکھا تھافیلڈمارشل ایوب خان ،یحیٰ خان اورضیاء الحق کے مارشل لاء نوائے وقت کیلئے کچھ اچھے نہیں تھے مگر جناب مجیدنظامی اور ان کی ٹیم نے ایک لمحے کیلئے بھی محسوس نہیں کیا کہ انہیں کسی قسم کی پریشانی یاکوئی دشواری ہے بلکہ انہوں نے ببانگ دہل اپنا فریضہ بھرپور طریقے سے سرانجام دیا۔ذوالفقارعلی بھٹو کے زمانے میں نوائے وقت کے اشتہارات تقریباً بند تھے کیونکہ یہ حزب اختلاف کااخبارسمجھا جارہا تھا جس میں لکھنے والے حکومت پر کڑی تنقید کیا کرتے تھے اورخبریں بھی تقریباًحکومت مخالف شائع ہوا کرتی تھیں۔چنانچہ جب ضیاء الحق کامارشل لاء آیا تو فوجی حکام کاخیال تھا کہ نوائے وقت انہیں فل ٹائم سپورٹ کرے گا مگر تاریخ گواہ ہے کہ ضیاء الحق کا سب سے بڑامخالف نوائے وقت اخبارثابت ہوا اوربھٹو کی بیٹی محترمہ بینظیربھٹو کو سب سے زیادہ سپیس نوائے وقت نے فراہم کی۔ میاں نوازشریف نے ایک موقع پر انہیں صدرپاکستان تعینات کرنے کی خواہش کااظہار کیا تو ڈاکٹرمجید نظامی نے کہاکہ یہ کام ان کانہیں بلکہ ان کاکام صحافت ہے جسے وہ پوری ایمانداری سے بجالاناچاہتے ہیں نوائے وقت کی پیشانی پرلکھے جملے ’’جابرسلطان کے سامنے کلمہ حق کہناسب سے بڑاجہادہے‘‘
(باقی:سامنے والے صفحہ پر)