- الإعلانات -

چوہدری نثار ! صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی کمر میں شدید درد ہے وہ آج کل اپنے فرائض منصبی بھی ادا نہیں کر پا رہے۔ مگر ہر طرف انہی کا چرچا ہے کوئی کہتا ہے کہ چوہدری صاحب وزارت چھوڑ دیں گے ۔ کسی کا خیال ہے کہ چوہدری صاحب وزار ت کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کو بھی خیر آباد کہہ دیں گے ۔ اور کچھ دل جلے دور کی کوڑی لائے ہیں ان کا خیال ہے کہ چوہدری صاحب پرانی تنخواہ پر ہی کام کرتے رہیں گے ۔
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا کہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیئے
ہم چپ رہے ہم ہنس دیے مقصود تھا پردہ تیرا
چوہدری نثار علی خان کے قول و فعل سے ان کی شخصیت و سیاست کے تین نمایاں پہلوؤں کا اظہار ہوتا ہے
اول: دبنگ شخصیت ، دوم بااصول سیاست، سوم بیماری گویا یہ تین عناصر ہوں تو بنتا ہے چوہدری نثار علی خان اب ان تین پہلوؤں کا ترتیب وار جائزہ لیتے ہیں دیکھتے ہیں کیا نکلتا ہے ۔ اس دبنگ راجپوت نے چند سال قبل پارلیمنٹ بلڈنگ کے باہر ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ کلمات فرمائے ۔اور پھر ایم کیو ایم والوں خصوصاََ موجودہ میئر کراچی وسیم اختر اور حیدر عباس رضوی وغیرہ کی لمبی اور گندی زبانیں پنجاب کے ہر گھر کے اندر تک پہنچیں اور عزت و تقدس کو پامال کر گئیں اور یہ راجپوت دیکھتا ر ہ گیا۔ اور پھر 2014میں اس دبنگ راجپوت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں چوہدری اعتزاز احسن سے پیچ پڑ گیا چوہدری اعتزاز احسن کا مّکا کئی بار اس دبنگ راجپوت کی ناک تک پہنچا مگر اس دبنگ راجپوت سے کچھ نہ بن پڑافقط تلملانے کے ! چوہدری نثار نے اس موقع پر فرمایا تھا میں حساب کتاب کیے بغیر رہ نہیں سکتا ۔ مگر جس پریس کانفرنس میں چوہدری نثار صاحب نے چوہدری اعتزاز احسن سے حساب لینا تھا وہ پریس کانفرنس ہوئی ضرور مگر اس حساب کتاب کا ذکر تک نہ ہوا جس کا بڑا چرچا تھا ۔ جب کچھ صحافیوں نے اس بارے میں سوالات کیے تو فرمایا آج نہیں پھر کبھی یہ قرض اتار دوں گا ۔ مگر وہ قرض اس دبنگ راجپوت پر آج تک واجب الادا ہے اور قیامت تک رہے گا۔اب کچھ تذکرہ اصولی سیاست کا ہو جائے۔ چوہدری صاحب اتنے بااصول سیاست دان ہیں کہ روز اول سے میاں نواز شریف کے ساتھ ہیں میاں نواز شریف کی طرز سیاست نے میرے پیارے وطن کا بیڑہ غرق کیا چوہدری صاحب میاں نواز شریف کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ میاں صاحب نے وطن عزیز کے اداروں کو تباہ و برباد کیا ۔ پاکستان کی صدارت جیسے عظیم و معزز و محترم منصب سے لے کر چیئرمین نیب ، چیئرمین SECPچیئرمین FBR،گورنر سٹیٹ بینک، صدر نیشنل بینک، وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، چیئرمین PEMRA، چیئرمین وایم ڈی، PTV، چیئرمین وایم ڈی۔ PIAغرض ہرادارے میں ۔ ذاتی پسند و ناپسند اور ذاتی منفعت کی بانء پر نااہل لوگ بھرتی کیے گئے ان اداروں کو شخصی آمریت کے تابع کیا گیا اداروں کے ریکارڈ تک میں مجرمانہ تبدیلیاں کی گئیں۔عملاََ ان کو غیر فعال اور ناکارہ اور بے وقعت کر دیا گیا عزت مآب سپریم کورٹ نے بھی اس حوالے سے کئی مواقع پر ریمارکس دیے۔ ڈان لیکس کی شکل میں پیارے وطن کی سا لمیت سے بھی کھیلا گیا ۔ اور اب توحالت یہ ہے کہ انسپکٹر جنرل سندھ کا عہدہ عملاََ بے بس وبے آبرو کر دیا گیا ۔ نیب کو قانون سازی کے ذریعہ صوبہ بدر کر دیا گیا۔ او ر وفاق خاموش تماشائی ہے ۔ بے بس ہے اس لیے کہ وفاقی حکومت کرپشن اور اداروں کی تباہی کی وجہ سے اپنی اخلاقی رٹ کھوچکی ہے ، پانامہ کرپشن کا ایشو اٹھے، ڈیڑھ سال ہونے کو ہے مگر اس سب کچھ کے باوجود بااصول چوہدری نثار علی خان سانس سانس کروٹ کروٹ اپنے قائد نوازشریف کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ اور سب سے طاقتور وزارت کے مزے لوٹتے رہے۔ مگر جوں ہی شہنشاہیت کے سورج کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوا۔ چوہدری نثار علی خان کی دبنگ شخصیت اور بااصول سیاست نے خواب غفلت سے انگڑائی لی۔ اور پھر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی اور غالباََ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اختلاف رائے کا اظہار اور اصولی سیاست کا رونا رویا گیا ۔ گویا چوہدری نثار علی خان کا بااصول سیاست کا بنیادی اصول یہ ہے ۔
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
اورچوہدری صاحب کی بیماری! تو چوہدری صاحب واقعی بیمار ہیں ان کی بیماری قابل علاج ہے یا لا علاج اتنا تو معلوم نہیں مگر جتنا معلوم ہے چوہدری صاحب کی بیمار ی لاجواب ضرور ہے۔ 2013ء سے اب تک انتہائی نازک اور ہم مواقع پر چوہدری صاحب بیمار ضرور ہوئے۔ چند دن منظر سے ہٹ گئے اور پھر جب گرد بیٹھ گئی تو
؂ تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو
چوہدری صاحب منظر عام پر آئے اب کی بار یہ بیماری شدید کمر درد کی شکل میں عود کر آئی ہے ۔ چوہدری صاحب منظر سے غائب ہوئے اور پھر اچانک اعلان ہوا کہ چوہدری صاحب اتوار 23جولائی شام5بجے پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے چونکہ گرد ابھی بیٹھی نہیں ۔حالات واضح نہیں اس لیے پریس کانفرنس ملتوی ہو گئی مگر کب تک
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھ ااس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
مگر اب میرا پیارا وطن بدل چکا ہے ، انشاء اللہ بہت جلد قوم بے اصول سیاست اور بیمار ذہنیت سے چھٹکارا پا لے گی۔18مئی 2013کے مقامی اخبار میں اپنے کالم ’’شریف خاندان ایک بار پھر امتحان گاہ میں‘‘ میں نے چوہدری نثار علی خان کے متعلق لکھا’’ایک شخص کی اقرباء پروری ،ذاتی پسند اور ناپسند اور گردن کے سریے نے قومی اسمبلی کے 4حلقے 56,55,53اور 59نگل لیے یعنی مسلم لیگ (ن) کو بری طرح شکست ہوئی ۔ چوہدری نثار علی خان اپنے آبائی حلقے NA-53 سے خان سرور خان کے مقابلے میں بری طرح شکست کھا گئے میں نے لکھا تھا کہ اگلے الیکشن میں چوہدری نثا ر علی خان NA-52سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے ۔2018ء کے انتخابات میں چوہدری نثار علی خان NA-52اور NA-53 دونوں سے انشاء اللہ بری طرح شکست کھائیں گے اور میر ا پیا را وطن انشاء اللہ تا قیامت زندہ رہے گا ،مہکتا رہے گا .