- الإعلانات -

عدالتیں مفروضوں پرفیصلے نہیں کرتیں

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے جہانگیر ترین نا اہلی کیس کی سماعت پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرضی باتوں پر کسی کو کیسے نا اہل کر سکتے ہیں، جہانگیر ترین کو جاری شوکاز پر عمل ہی نہیں ہوا، جرمانہ ادائیگی پر ایس ای سی پی اور جہانگیر ترین کا معاملہ ختم ہو گیا، جو معاملہ ختم ہو گیا اس پر آرٹیکل 62کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟کیا کوئی صرف جرمانہ دینے پر صادق اور امین نہیں رہتا؟آپ چاہتے ہیں کہ ہم کہہ دیں 12سال بعد جہانگیر ترین صادق نہیں رہے،عدالت نے جہانگیر ترین کے وکیل سے 5سوالوں کے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق حنیف عباسی کی درخواست پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیاہر پارلیمنٹرین کے خلاف کیس براہ راست سپریم کورٹ لایا جاسکتا ہے، آج جہانگیر ترین کل کسی اور رکن اسمبلی کے خلاف درخواست آئے گی، ملک میں دوسرے فورمز کی موجودگی میں کیس یہاں لایا جاسکتا ہے؟ وکیل نے کہا کہ پانامہ کیس آف شور کمپنیوں کے باعث یہاں لایا گیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا پانامہ کو بنیاد بنا کر یہاں کیس سنیں؟ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین نے زرعی اراضی پر ٹیکس ادا نہیں کیا،جہانگیر ترین کے خلاف چار آئینی گراؤنڈز ہیں، جہانگیر ترین اثاثے ظاہر نہ کرنے پر صادق اور امین نہیں، جہانگیر ترین نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے بچوں کی آف شور کمپنیاں ہیں۔ عاضد نفیس نے کہا کہ جہانگیر ترین نے آف شور کمپنیاں اور لندن اثاثے ڈیکلیئر نہیں کئے، جہانگیر ترین نے اپنی آمدن چھپائی‘ زرعی ٹیکس ادا نہیں کیا، جہانگیر ترین کی کمپنی نے 49 ملین کا قرضہ معاف کردیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا کسی اور رکن اسمبلی کا نام بھی پانامہ لیکس میں آیا۔ عاضد نفیس نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق اور کسی ممبر اسمبلی کا نام پانامہ کیس میں نہیں۔ یونائیٹڈ شوگر مل کے شیئر جہانگیر ترین نے خریدے یونائیٹڈ شوگر مل کی خریداری کے وقت جہانگیر ترین وزیر انڈسٹری کے عہدے پر تھے۔ عدالت نے کہا کہ جن دستاویزات پر آپ انحصار کررہے ہیں وہ آپ نے کیسے حاصل کیں۔ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جو پبلک دستاویزات ہیں جہانگیر ترین کے خلاف غیر امانت داری کا مکمل کیس ہے۔ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین کے خلاف الزامات تسلیم شدہ ہیں ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ مہربانی کرکے آرٹیکل 62 کی شق ایف ون پڑھیں۔آرٹیکل 62 کی شق ایف ون میں کورٹ آف لاء کا ذکر ہے۔ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ چیف جسٹس نے بجا فرمایا عدالت محض مفروضوں پر کسی کو نااہل قرار نہیں دے سکتی۔ عدالت جو بھی فیصلہ کرتی ہے وہ آئین اور قانون کے تناظر میں کرتی ہے ہمارے ہاں اس وقت جو رجحان زور پکڑتا جارہا ہے یہ کسی بھی لحاظ سے سود مند نہیں ایک طرف مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہوتے ہیں اور دوسری طرف سیاستدان ان پر رائے زنی کرنا شروع کردیتے ہیں۔ سیاسی تدبر، بصیرت تو یہ ہے کہ عدالتی فیصلے کا انتظار کرلیا جائے جب تک عدالت فیصلہ نہیں دیتی کسی قسم کی رائے دینے سے گریز کیا جائے۔ مقدمات پر ایک دوسرے کو اہل اور نا اہل قرار دینا درست نہیں کسی کو اہل اور نا اہل قرار دینا عدالت کا کام ہے اور عدالت ہی کیس کو سنتی ہے اور اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اس کا آئینی فیصلہ کرتی ہے۔ عدالت کا کام عدالت کو ہی کرنے دیں۔ سیاستدان اپنی اپنی عدالتیں لگانے سے گریز کریں۔ چیف جسٹس نے جو ریمارکس دئیے ہیں وہ بہت ہی اہم ہیں ان سے سبق حاصل کرنا ضروری ہے۔

پانامہ کیس کا فیصلہ جلد سنایا جائے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بنی گالہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں جج صاحبان سے درخواست کرتا ہوں کہ فیصلہ جلدی کیا جائے۔ پوری قوم کو پاناما کیس کے فیصلے کا انتظار ہے لہذا سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ کیس کا فیصلہ جلد سنایا جائے تاکہ قوم آگے بڑھ سکے۔ ملک میں حالات بگڑ رہے ہیں۔ معیشت تباہ ہوگئی ہے لیکن ساری حکومت وزیراعظم کی کرپشن بچانے میں مصروف ہے ۔ 4 میں سے 2 صوبے اور وکلا وزیراعظم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔ یہ قوم کو پاگل سمجھتے ہیں اور 30 سال سے بیوقوف بنا رہے ہیں۔صرف میں نے ہی لندن میں فلیٹ نہیں لیا۔ کاؤنٹی کھیلنے والے تمام کھلاڑی لندن میں فلیٹ لیتے ہیں۔ میرے چند لاکھ کے فلیٹ کو اربوں کے فلیٹ سے ملایا جا رہا ہے۔ میں نے باہر پیسہ کمایا اس میں کون سی غیرقانونی چیز تھی؟ آسٹریلیا میں تو میرے اوپر سوال نہیں اٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ نون لیگ کا شکریہ میں نے 40 سال کا ریکارڈ ڈھونڈ لیا۔ یہ کہتے ہیں کہ بابا آدم کے زمانے سے امیر ہیں۔ انہوں نے ایک بھی منی ٹریل نہیں دی ۔ ان کے وزیر اقامے لیے پھر تے ہیں، یہ سارے قوم کے مجرم ہیں اور واقعی گاڈ فادر ہیں جب کہ کسی جمہوریت میں کبھی نہیں ہواہوگا کہ کسی ملک کا وزیراعظم اقامہ لیکردوسرے ملک کا سیلز منیجربنا ہو۔حلال کی کمائی کو بینکوں کے ذریعے واپس لایا جبکہ ان کا زرخرید میڈیا بتانا چاہتا ہے کہ میرے اور ان کے فلیٹ میں فرق ہی نہیں۔ کیا میں جو پیسہ پاکستان لایا وہ منی لانڈرنگ کے ذریعے لایا یا میں نے ٹیکس چھپایا؟ اپنا فلیٹ تو میں نے 2003ء میں ڈکلیئر کیا تھا۔ میں نے کوئی قانون نہیں توڑا۔ فلیٹ لینے کی بھی منی ٹریل دکھا دی ہے۔ میں کوئی بزنس مین نہیں تھا ۔پوری قوم کو پانامہ کیس فیصلے کا انتظار ہے ‘ سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ وہ پانامہ کیس کا فیصلہ جلد از جلد سنائے ‘ ساری حکومت وزیر اعظم کی کرپشن بچانے میں لگی ہوئی ہے ‘ وکلاء اور سول سوسائٹی سمیت سب وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔ عمرا ن خان فیصلے کا انتظار کریں اور عدالت کو ڈکٹیٹ کرنے سے گریز کریں عدالت نے فیصلہ محفوظ کررکھا ہے جس کا انتظار کیا جائے۔ پانامہ کیس میں حکومتی وزراء اور سیاسی جماعتوں کے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ کسی بھی لحاظ سے درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پانامہ کا فیصلہ ملکی سیاست پر دوررس نتائج مرتب کرے گا اس کا انتظار کیا جائے۔ قوم کی نگاہیں اس وقت سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں اور سپریم کورٹ کا فیصلہ عوامی امنگوں کا ترجمان قرار پائے گا اور اس فیصلے کے دوررس نتائج مرتب ہونگے اور یہ فیصلہ عدل و انصاف کا آئینہ دار قرار پائے گا۔

آپریشن ردالفساد میں تیزی
ملک بھر میں آپریشن رد الفسادکامیابی سے جاری ،رینجرز،سی ٹی ڈی اورحساس اداروں نے گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران لاہور سے21مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا، گرفتار افراد میں تحریک طالبان سوات کے دہشت گرد بھی شامل ہیں۔آرمی چیف کی ہدایات پر آپریشن رد الفساد میں تیزی لائی گئی ہے جس کے تحت رینجرز پولیس، سی ٹی ڈی اور خفیہ اداروں نے لاہور میں مشترکہ آپریشن کیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد ردالفساد کا شروع ہونا دہشت گردوں کیلئے موت کا پیغام بنا دکھائی دے رہا ہے دہشت گرد ملک اور قوم کے دشمن ہیں ان کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی ملک میں امن قائم کیا جاسکتا ہے ۔ دہشت گردی کو ختم کیے بغیر ملک کو ترقی و خوشحالی کے راستے پرگامزن نہیں کیا جاسکتا ۔ ردالفساد کے مقاصد اوراہداف پورے کرنے کیلئے اس میں تیزی لانا وقت کا تقاضا تھا امید کی جاتی ہے کہ یہ آپریشن کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور دہشت گردی کا ناسور ختم ہو پائے گا۔