- الإعلانات -

دھماکے حکومتی رویے اور انڈیا

گزشتہ دنوں پھر لاہور خون میں نہا گیا ماضی کی طرح آج بھی ہدف پولیس اہلکار ہی تھے جو فیروز پور روڈ پر واقع ارفع کریم ٹاور کے قریب ناجائز تجاوزات کی مسماری کے آپریشن میں ایل ڈی اے کے عملے کی معاونت کر رہے تھے اس سانحے میں پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد کے علاوہ عام راہ گیر بھی شہید ہوگئے تازہ ترین اطلاع کے مطابق شہدا کی تعداد 26 ہوچکی ہے یہ بلا شبہ بہت بڑا انسانی المیہ ہے اس سے قبل مال روڈ پر ہونے والے خود کش حملے میں لاہور پولیس کے نہایت لائق اور دیانت دار اعلی افسران شہید ہوگئے خودکش بمبار کے سہولت کار کوپکڑلیا گیا تھا جو بعد ازاں حراست سے فرار ہوتے ہوئے مارا گیا تھا اس سے پہلے لاہور کے پارک میں ہونے والے دھماکے کے بعد بھی بلند و بانگ دعوے کئے گئے تھے کہ لاہور کو سیف سٹی بنایا جارہا ہے جس پر 12 ارب روپے خرچ ہوں گے جس میں 8 ہزار کی تعداد میں کیمرے نصب ہوں گے جن کے ذریعے شہر بھی کی نگرانی کی جائیگی لیکن اب تک صرف 1500کیمرے ہی نصب ہوسکے ہیں باقی کا کام کب مکمل ہوگا اب ہوگا بھی کہ نہیں اس کا یقین نہیں اس کام کی تکمیل میں دلچسپی کیوں نہیں لی جارہی یہ امر جواب طلب ہے طرفہ تماشہ ہے کہ جس مقام پر یہ خود کش حملہ کیا گیا وہاں کیمرے تو نصب تھے لیکن فعال نہیں تھے جس کا جواب اب تک نہیں ملا شاید ایک آدھ دن تک کوئی تکنیکی وضاحت نما بہانہ سامنے آ جائے کیمروں سے اگر نگہ بانی کی بھی جائے توکیا اس سے خود کش کو روک پائیں گے بہتر ہے کہ اپنے سیکیورٹی اپریٹس کو مزید بہتر بنائیں حکمران بھی جانتے ہیں اور بقول ہمارے وزیر دفاع کے جمہور کی یاداشت کمزور ہوتی ہے چند دن بعد لوگ سب کچھ بھول بھال جائیں گے اور زندگی یوں ہی رواں دواں ہو جائے گی اور جن کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہے وہ چند دن رو دھو لیں گے اور پھر امداد کے نام پر لواحقین کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا جائے گا اور وہ دھکے کھانے کے بعد بے بس ہوکر اللہ کے سہارے صبر کر کے بیٹھ جائیں گے یہی اب تک کی تاریخ ہے سچ بات یہ ہے کہ ہم ایک قوم نہیں رہے بلکہ ہم ایک ہجوم بن کے رہ گئے ہیں جہاں ہر شخص کی سوچ محض اپنی ذات تک محدود ہے ہر نفع نقصان کو اپنی ذات کے تناظر میں دیکھنے کی عادت سی پڑگئی ہے اجتماعیت کا تو شاید نام ہی رہ گیا ہے عرب کہتے ہیں "انسان اپنے بادشاہوں کے دین پر چلتے ہیں” جب حاکم ہی بے اعتنائی برتے گا تو عوام بھی وہی کچھ کریں گے جس کے مظاہرے ہم روزانہ اپنے آس پاس دیکھتے ہیں آپ عام آدمی کی حالت دیکھیں کہ کس حال میں ہیں جب بھی اس قسم کے اندوہناک واقعات ہوتے ہیں لقمۂ اجل عام آدمی ہی بنتا ہے جبکہ ہمارے حکمرانوں اور ان کے آل و عیال کی حفاظت کے لئے 3 ہزار پولیس اہلکار متعین ہیں جن میں کئی اعلی افسر بھی شامل ہیں اور حکمرانوں کی سیکیورٹی پر 18 ارب خرچ ہوچکے ہیں ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں لیکن حکمرانوں کو چھینک بھی آئے تو لندن سے پہلے بریک نہیں لگتی اتنا بڑا المناک سانحہ ہو گیا ہمارے محبوب وزیراعظم نے تین دن کے لئے ایک سیاحتی ملک کا دورہ ضروری سمجھا جہاں کی پارلیمنٹ کو وہاں کی حکومت نے تالے لگوا دئے ہیں آرمی چیف نے لاہور پہنچ کر ہسپتال کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی جسے زخمیوں ان کے لواحقین اور عوام نے سراہا پھر شکایت ہوتی ہے کہ بعض ادارے اہل سیاست کو کام نہیں کرنے دیتے. سراغ رساں اداروں کی جانب سے باقائدہ اطلاع دی گئی تھی کہ افغانستان سے 6 عدد خود کش بمبار براستہ چمن پاکستان میں ڈیرہ اسماعیل خان سے پنجاب میں داخل ہوں گے اور ان کا ممکنہ ہدف لاہور کے عوامی مقامات ہیں جب اس قدر واضح اطلاعات تھیں تو پھر اغماض کیوں برتا گیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والیا اداروں کے مابین عملی ہم آہنگی اور تعاون نہیں ہے اور ان کے ایک دوسرے سے تعاون میں کچھ مسائل لگتے ہیں جس پر غور و فکر اور ان پر قابو پانے کی ضروت ہے انڈیا ہمارا معروف دشمن ہے جس سے خیر کی توقع ایسا ہی ہے کہ آپ ببول کے پیڑ سے آموں کی امید رکھیں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق را کا افسر راجیو بھونسلے جو اس سے پہلے تاجکستان میں تعینات اور چینی ترکستان کے علیحدگی پسندوں کی مدد پر مامور تھا اب اسے قندھار کے انڈین کونصلیٹ میں تعینات کردیا گیا ہے جب سے یہ قندھار میں تعینات ہوا ہے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں کل کا دھماکہ بھی اسی سفارت کار نما دہشت گرد کی دیکھ ریکھ میں کیا گیا جو آخری لمحے تک اس خود کش حملہ آور سے اس کے ہینڈلر کے ذریعے رابطے میں تھا اس کی تعیناتی اجیت ڈوول کے خصوصی احکامات کے تحت کی گئی ہے اور آنے والے دنوں میں پاکستان کی مشکلات شاید دو چند ہو جائیں دھماکے کی ذمہ داری الاحرار گروپ نے قبول کی ہے جس کی ویب سائیٹ چنائی تامل ناڈ انڈیاسے چلائی جارہی ہے اور اس دہشت گرد تنظیم کا سربراہ مدراس کے اپولو ہسپتال میں زیر علاج رہ چکا ہے یہ نام نہاد مجاہدین دراصل پیشہ ور قاتل اور دہشت گرد ہیں جو پیسے کے لئے سب کچھ کرتے ہیں جس میں منشیات کا کاروبار شامل ہے ان دہشتگردوں کو انڈین را مختلف ناموں سے استعمال کر رہی ہے اور انڈین را انہی لوگوں کو استعمال کرتے ہوئے منشیات کی تجارت میں بھی ملوث ہے جس کے ذریعے فنڈز اکٹھے کئے جاتے ہیں جو تخریب کاری میں استعمال ہوتے ہیں انڈیا کا وجود اس پورے خطے کی لئے کسی عذاب سے کم نہیں جس کے خمیر ہی میں دہشت گردی ہے اس سے نمٹنے کے لئے لانگ آرم اسٹریٹجی کی ضرورت ہے اس طرح ہندوستانی تخریب کاری کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے انڈیا دوستی اور سفارت کاری کی آڑ میں مسلمان ملکوں میں اسرائیل کے لئے جاسوسی کر رہا ہے مسلمان ممالک کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیئے افغان حکومت اور امریکہ اپنی شکست کے لئے پاکستان کو الزام دینے کی بجائے افغان کٹھ پتلی حکومت کی کرپشن کو کنٹرول کرے جس کی وجہ سے افغان فوج درست تربیت نہ ہونے کے سبب طالبان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی افغان فوجی ہمیشہ ناکافی اور غیر معیاری خوراک کی شکایت کرتے رہتے ہیں اس پر امریکہ توجہ دے نہ کہ پاکستان کو مورد الزام ٹھہرائے اللہ ہمیں ان فتنوں کا ادراک کرنے اور ان سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے ۔آمین
*****

ہوئے تم دوست۔۔۔۔ شوق موسوی
وہ پریس والوں سے دُکھڑا تو کوئی روئے گا
دن کو جھگڑا کرے برباد وہ راتیں کر لیں
ہم پہ دشمن جہاں سو وار کئے جاتے ہیں
چلئے اِک دوست بھی اُٹھ کر باتیں کر لے