- الإعلانات -

بھارتی صدارت بھی آر ایس ایس قبضے میں ؟

اس امر سے سبھی آگاہ ہیں کہ بھارت میں ہر آنے والے دن کے ساتھ ہر شعبے میں ہندو جنونی اپنے پنجے نہ صرف گاڑ چکے ہیں بلکہ اپنی اس گرفت کو ہر طرح سے مضبوط کر رہے ہیں ۔ اور لگتا ہے کہ ہندوستان کا نام نہاد سیکولر ازم آنے والے کچھ عرصے میں پوری طرح سے قصہ پارینہ بن جائے گا ۔ اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی کے طور پر RSS نے ہندوستان کی صدارت اور نائب صدارت جیسے اہم ترین مناصب پر بھی قبضہ کر لیا ہے ۔ اور ہندوستانی صدارت جیسی مسند پر 71سالہ ’’ رام ناتھ کوِند ‘‘ فائز ہو چکے ہیں ۔ جبکہ 5 اگست کو نائب صدارت کے انتخابات میں کٹر ذہنیت کے مالک RSS کے ونکیا نائیڈو کا براجمان ہونا یقینی ہے ۔کانگرس اتحاد کی جانب سے نائب صدارت کے امیدوار کے طور پر مہاتما گاندھی کے پوتے ’’ گوپال کرشن گاندھی ‘‘ کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ ’’رام ناتھ کوِند‘‘ ذہنی طور پر RSS کے ا نتہائی قریب ہیں اور خود کو پیدائشی رام سیوک مانتے ہیں اور اس امر کا کھلے عام فخریہ اظہار کرتے ہیں کہ ان کا مقصد حیات رام راجیے اور اکھنڈ بھارت کا قیام ہے ۔ ان کی ہر ممکن سعی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ’’ ڈاکٹر کیشو ہیگواڑ ‘‘ ( RSS کا بانی) کے پوری دنیا پر ہندو راج کے سپنے کو عملی جامہ پہنا پائیں ۔ دوسری جانب’’ ونکیا نائیڈو‘‘ کو بھارت کا نائب صدر بنایا جا رہا ہے ۔ یاد رہے کہ وہ چند روز قبل تک وزیر اطلاعات و نشریات کے علاوہ ’’اربن ڈیولپمنٹ ‘‘ کے وزیر تھے ۔ علاوہ ازیں موصوف 2002 سے 2004 تک بی جے پی کے صدر بھی رہے ۔ باخبر حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ نائیڈو ان پارٹی لیڈروں میں شامل تھے جنھوں نے گجرات کی نسل کشی کے بعد مودی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کی مخالفت کی تھی ۔ مزید یہ کہ لوک سبھا الیکشن سے پہلے مودی کو آگے بڑھانے کی مہم میں بھی نائیڈو نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ ونکیا نائیڈو کو نائب صدر کا الیکشن لڑنے کے لئے بی جے پی نے جو ٹکٹ دیا ہے ، اس سے موہن بھاگوت کا یہ خواب پوراہو گیا کہ بھارت کے تمام کلیدی عہدوں پر آر ایس ایس کے کارندے متعین ہو جائیں ۔ نائیڈو کا انتخاب اس اعتبار سے اہم ہے کہ جن لوگوں کو میدان میں اتارنے کی بات ہو رہی ہے ان میں نجمہ ہیبت اللہ بھی شامل تھیں مگر اس کے نظریات سے درکنار انھیں صرف اس وجہ سے رد کر گیا کیونکہ وہ نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ ’’ابوالکلام آزاد‘‘ کی نواسی بھی ہیں۔ مگر بھلے ہی کوئی مسلمان شخصیت بھارت نوازی میں شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفادار ثابت ہو ، مگر اس کامسلمان ہونا ایسا منفی پہلو ہے جو BJP اور RSS کیلئے قطعاً ناقابلِ قبول ہے ۔ واضح ہو کہ ’’ موہن بھاگوت ‘‘ کئی مرتبہ کھلے عام اس موقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ 2025 یعنی RSS کے قیام کے سو سال پورے ہونے سے پہلے پورے بھارت پر RSS کی بلا شرکت غیرے حکومت ہو گی اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو اگر بھارت میں رہنا ہے تو انھیں RSS کے نظریات کو قبول کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارنا ہو گی ۔RSS اور BJP کے جنونی ہندوؤں کا یہ موقف بذاتِ خود ہندوستان کے سیکولر ازم پر ایسا طمانچہ ہے جب پر شاید مزید کچھ نہ کہنا ہی بہتر تبصرہ ہو گا !
*****