- الإعلانات -

مودی کا دورہ اسرائیل تہران اوردہلی میں فاصلے بڑھنے لگے

ایک طائرانہ جائزہ لیا جائے تو ماضی میں ہمارے برادر عرب ممالک کے بھارت سے ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں اور اب ہیں، جس کی مثال سعودی عرب کی جانب سے مودی کو پچھلے سال سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا جبکہ یو اے ای کی جانب سے پہلی بار دبئی میں مندر کیلئے سرکاری زمین دی گئی-ذرا اس سے پیچھے چلے جائیں تو یاسر عرفات اندرا گاندھی کو بہن بولا کرتے تھے مگر دوسری طرف بھارت در پردہ اسرائیل سے بھی جڑا رہا۔مودی سے قبل یہ تعلقات پوشیدہ رہے لیکن اب آ کر بی جے پی کی بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے اور پہلی بار مودی تل ابیب جا پہنچے۔بلاشبہ اسرائیل کے معاملے پر عرب ریاستیں بھی تقسیم ہیں لیکن کئی ریاستیں تل ابیب کو تسلیم نہیں کرتیں اور کوئی بھی اور ملک اس کے قریب ہوتا ہے تو اس سے انکے سفارتی فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ایران اور انڈیا کے تعلقات بھی اچھے تھے لیکن مودی کے دورہ اسرائیل کے بعد ایران نے انڈیا اسرائیل گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایران کی تشویش بجا بھی ہے کہ مودی سرکار نے دوہرے معیارات اپنا لیے ہیں۔ایک طرف وہ ایران پر دوستی کے جال پھینکتا ہے تو دوسری طرف وہ کبھی اسرائیل سے پینگیں بڑھاتا ہے تو کبھی امریکہ سے دفاعی معاہدے کررہا ہے۔امریکہ اور اسرائیل یہ وہ دو ممالک ہیں جو ایران کے وجود کے در پے ہیں۔عرب خطے میں انہی دو ممالک کی وجہ سے ایران کو شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔اب اگر مودی اسرائیل کو سینے سے لگاتا ہے تو اس سے صاف مراد یہی ہے کہ وہ ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہا ہے۔کچھ بھی ہو جائے اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جو ملک اسرائیل کو اپنا دست راست سمجھے اور ایران اس پر چیں بجبیں نہ ہو۔شاید یہی وجہ ہے کہ مودی کے دورہ ایران کے بعد ایران نے ٹھوک بجا کر کشمیر پر بیان جاری کیا.ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عالم اسلام کو واضح پیغام دیا کہ اسے چاہئے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کی بھرپور حمایت کریں۔آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے ملک کی عدلیہ پر بھی زور دیا کہ وہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرے ان کے اس بیان کو گزشتہ سات سالوں میں ان کی جانب سے کشمیر کی پہلی کھلے عام حمایت تصور کیا گیا۔اس سے قبل جب 2010میں انھوں نے کشمیر کے بارے میں بات کی تھی تو ہندوستانی حکومت نے تہران کے سامنے باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔ایران کی طرف سے کشمیر کی حمایت کا کھلم کھلا پیغام درحقیقت بھارت کو واضح پیغام دیا گیا کہ ایران نے بھارت کے ساتھ جاری اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی شروع کر دی ہے کیونکہ اسرائیل کے ساتھ ہاتھ ملانے والا ایران کا کھلا اور صریحاً دشمن ہو سکتا ہے۔4جولائی کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اپنے پہلے اسرائیلی دورے پر تل ابیب پہنچے تو ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔اس موقع پر اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل مارک سوفر کا کہنا تھا کہ بھارت اوراسرائیل ایک ہی طرح کے دشمن سے پریشان ہیں،اور ان کا دشمن مشترک ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ لشکر طیبہ اور حماس میں کوئی فرق نہیں، دہشت گرد،دہشت گرد ہی ہوتا ہے۔یہ بیان ایران کے تن بدن میں آگ لگانے کے مترادف ہے۔بھارت اچھی طرح باخبر ہے کہ ایران حماس کا سب سے بڑا سپورٹر ہے اوراسرائیل کے ظلم وستم کے خلاف اگر کوئی مزاحمت ہے تو حماس ہے۔ایسی نازک صورتحال میں بھارتی وزیر اعظم کا دورہ اور پھر حماس سے متعلق بیانات یقیناًایران دشمنی کا ثبوت ہے۔ حماس سے متعلق بیان میں چھپی صیہونی ذہنیت سے عیاں ہے کہ حماس کو مشترکہ دشمن گرداننے کا مطلب بھارت کی حماس کے خلاف حمایت حاصل کرنا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے دوران بھارت نے اسرائیل کے ساتھ روابط بڑھانے سے گریز کیا، کیوں کہ اس وقت فلسطینیوں کی حمایت زوروں پر تھی لیکن سرد جنگ کے اختتام کے فوری بعد دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات قائم کیے جو پہلے بیک ڈور ڈپلومیسی پر چلتے رہے مگر اب مودی کھل کر سامنے آگیا ہے۔اسرائیل ان ممالک میں شامل ہے جن سے بھارت سب سے زیادہ جنگی اسلحہ خریدتا ہے۔حالیہ دورے کے موقع پر بھی بڑے بڑے دفاعی معاہدے ہوئے ہیں۔مودی کی اس منافقانہ سفارت کاری کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں.بھارت نے پاکستان دشمنی اور ایران کو پاکستان سے دور کرنے کی چال چلتے ہوئے بھاری سرمایہ کاری کا لولی پوپ دے رکھا ہے.چاہ بھار بندرگاہ کو گوادر کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر یہ بیل منڈھیر چڑھتی دکھائی نہیں دیتی جبکہ ایک گیس فیلڈ کی تعمیر پر بھی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر بھارت نے فرزادبی گیس فیلڈ کی تعمیر کے حوالے سے مناسب اور اطمینان بخش پیشکش نہ دی تو اسے روسی آئل کمپنیوں کے حوالے کر دیا جائیگا،جبکہ اس سے قبل بھارت نے ایران کو اس آئل فیلڈ کا ایک بلاک حوالے کئے جانے میں تاخیر پر ایرانی تیل کی خریداری روکنے کی دھمکی دی تھی.بھارت نے اپنی آئل ریفائنریز کو ایران سے تیل کی برآمد کا پانچواں حصہ معطل کرنے کا حکم دیا جبکہ اس کے جواب میں ایران نے بھارتی کمپنیوں سے تیل کی رقم کی ادائیگی کو 90 روز سے کم کر کے60 روز کر دیا۔اسی طرح نیشنل ایرانین آئل کمپنی نے بھارتی خریداروں کیلئے سمندری کرایے میں دی گئی رعایت کو 80 فیصد سے کم کر کے 60 فیصد کر دیا ہے۔ ایران اور بھارت میں فرزادبی گیس فیلڈ کی تعمیر پر کافی عرصہ سے تنازعہ چل رہا ہے.کئی بار ایک دوسرے کو دی گئی ڈیڈ لائنز بھی عبور کر چکے ہیں.بھارتی وزیر تیل کے گزشتہ سال کے دورہ تہران کے باوجود بھی کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔بھارت نے مارچ میں تین سے چار ارب ڈالر سرمایہ کاری کا ازسر نوپلان بھی پیش کیا تاہم ایران نے اس پیشکش کو ناکافی قرار دے کر ٹھکرا دیا تھا۔اب ایک بار پھر بھارت کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس نے مناسب پیشکش نہ کی تو اس گیس فیلڈ کو روسی کمپنیوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔بنیادی طور اب ایران سمجھ گیا ہے کہ بھارت کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں۔یقیناًاب ایران کی اعلیٰ قیادت کو بھی یہ بات سمجھ آ گئی ہو گی کہ یہ ایران میں بھارتی سرمایہ کار محض دکھاوا ہے۔ اصل مقصد پاکستان کیخلاف ایرانی سرزمین کو استعمال کرنا ہے۔کلبھوشن اس کی زندہ مثال ہے کہ کس طرح جعلی دستاویزات کے ذریعے ایرانی ایجنسیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر سرمایہ کار کے روپ میں’’ را‘‘ کا حاضر سروس اہلکار چاہ بہار پہنچا دیا گیا۔بھارت ایران کا کبھی مخلص نہیں رہا ہے2010میں IAEAکے ایک اجلاس میں امریکی قرار داد پر رائے شماری کے وقت بھارت نے ایران کے خلاف ووٹ دیا تھا۔عالمی ادارہ برائے نیوکلیائی توانائی ایک عالمی ادارہ ہے جو نیوکلیائی ہتھیاروں کے پر امن استعمال کے فروغ پر زور دیتا ہے۔ 2005 اور2006 میں بھی جب ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف قرارداد پیش ہوئی تو بھارت مخالفت میں پیش پیش رہا۔اتنا کچھ ہونے کے باوجود ایرانی قیادت بھارت کی قربت کیلئے کیوں مری جا رہی ہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔
****