- الإعلانات -

پانامہ کیس، سپریم کورٹ کا تاریخ ساز فیصلہ

سپریم کورٹ نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے پانامہ کیس کا فیصلہ سنا دیا، پانچوں ججزنے متفقہ طورپر وزیراعظم محمد نواز شریف کو ناہل قرار دیدیا اور نیب کو چھ ہفتے کے اندر نواز شریف، کیپٹن (ر)صفدر، مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز اور اسحاق ڈار کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔3اپریل کو پانامہ پیپرز کا انکشاف ہوا تو ملکی سیاست میں بھونچال دکھائی دیا اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ، امیر جماعت اسلامی سراج الحق ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی طرف سے وزیراعظم اور دیگر کے خلاف نا اہلی کیلئے آئین کے آرٹیکل (3)184کے تحت درخواستیں دائر کیں تھیں پہلے تو یہ درخواستیں رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر واپس کردیں تاہم بعدازاں سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست سماعت کیلئے منظور کرلیں۔ عدالت نے مسلسل سماعتوں میں فریقین کے اعتراضات اور موقف سن کر21جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ مقدمے کی کارروائی میں14 ہزار صفحات پر مشتمل مواد عدالت عظمیٰ کے روبرو پیش کیا گیا۔ واجد ضیاء کی سربراہی میں جے آئی ٹی نے 60روز تک تحقیقات کیں ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اس کیس میں 315 مقدمات کے حوالے دئیے گئے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی لارجر بنچ کے دو ارکان نے وزیراعظم کی نا اہلی کی سفارش کی تین ججز نے مزید تفتیش پر زور دیا تھا جس کے تناظر میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی رپورٹ کے تناظر میں آج سپریم کورٹ میں تاریخ ساز فیصلہ سنا دیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں پانامہ کیس سے متعلق فیصلہ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ 10جولائی کو جے آئی ٹی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد کیس کی پانچ روز تک مسلسل سماعت کے بعد تین رکنی عمل درآمد خصوصی بنچ نے 21جولائی کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔ فیصلہ سنانے والے دیگر ججز میں جسٹس اعجاز افضل خان ، جسٹس گلزاراحمد ، جسٹس شیخ عظمت سعیداور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔کیس کا فیصلہ کورٹ روم نمبر 1 میں عدالت نے فیصلہ سنایا۔پانامہ کیس کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کرے گا جس کے منفی یا مثبت اثرات لمبے عرصہ تک اور دور تک جائیں گے۔سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں، اس فیصلے کا اثر بین الاقوامی سطح تک جائے گا۔شریف خاندان بیرون ملک جائیدادوں اور کاروبار کی منی ٹریل پیش کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد مزید تحقیقات یا ٹرائل کی ضرورت نہیں۔واضح رہے بین الاقوامی صحافتی تنظیم انٹر نیشنل کنسوریشم آف انوسٹی گیٹیو جرنلسٹس آئی سی آئی جے نے پانامہ میں لوگوں کی خفیہ دولت کے حوالے سے 2016میں انکشاف کیا ، اس حوالے سے پانامہ پیپرز لیکس کیئے گئے اور پانامہ لیکس کو ایک ایسی انڈسٹری قرار دیا جہاں لوگوں نے اپنی خفیہ دولت آف شورز کمپنیوں کی صورت میں چھپا رکھی ہے ، اس حوالے سے ہونے والے انکشافات کے نتیجہ میں پوری دنیا میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا جس کا اثر پاکستان پر بھی ہوا جس کی وجہ شریف فیملی سمیت 450افراد ایسے تھے ،جن کا تعلق پاکستان سے تھا۔آخر کار معاملہ سپریم کورٹ میں آگیا جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سسربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے دو اور تین کی اکثریت سے فیصلہ دیا جبکہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی اہلیت کے معاملے پر فیصلہ تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ سے مشروط کردیا گیا،آخر 60دن کی تحقیقات کے بعد 10جولائی کو سپریم کورٹ آف کے تین خصوصی بنچ میں جے آئی ٹی کی جمع کروائی گئی حتمی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، حسن نواز ، حسین نواز، مریم نواز کے خلاف نیب آرڈیننس کے تحت ریفرنس بھیجنے کی سفارش کی ہے۔جے آئی ٹی نے اپنے تفصیلی تجزیہ میں مدعا علیہان میاں محمد نواز شریف ، حسین نواز شریف اور حسین نواز شریف، مریم نواز کے ظاہر کردہ اور معلوم زرائع آمدن اور ان چاروں کے پاس موجود دولت میں ایک واضح تفاوت کی نشاندہی کی ہے ، جے آئی ٹی نے اپنے اخذ کردہ نتائج میں لکھا ہے کہ مذکورہ بالامدعا علیہان کی پاکستان میں موجود کمپنیوں کا مالیاتی ڈھانچہ ان کے پاس موجود دولت کا ٹھوس جواز مہیا نہیں کرتا ۔ جے آئی ٹی نے کہاکہ وہ احتساب آرڈیننس 1999 کی سیکشن 9(a-v) اور سیکشن 14(c)، کے تحت قابل گرفت ہے ، جے آئی ٹی نے قانون شہادت کی مختلف شکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بارے ثبوت مدعا علیہان پر تھا، جے آئی ٹی نے قرار دیاہے کہ مدعا علیہان معلوم آمدن کے ذرائع کی تصدیق کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جو بادی النظر میں ذرائع آمد ن اور اثاثوں کو جائز ثابت نہ کرنے کے مترادف ہے ۔دوماہ کے عرصے میں ٹیم کے 59 اجلاس منعقد ہوئے اور اس دوران اس نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور ان کے اہلخانہ سمیت 23 افراد سے تفتیش کی۔قطر کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شہزادہ حمد بن جاسم کو دو مرتبہ ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے لیے بلایا تاہم انھوں نے پاکستان آ کر یا قطر میں پاکستانی سفارتخانے میں جا کر بیان دینے سے معذرت کی۔تحقیقاتی عمل کے آغاز میں پاکستان مسلم لیگ کے رہنماوں کی جانب سے تحقیقات میں تعاون کرنے کے بارے میں بیانات سامنے آتے رہے وہیں اختتامی ہفتوں میں ان بیانات کا لہجہ سخت اور تلخ ہوتا گیا۔ جبکہ پیپلزپارٹی جے آئی ٹی کو حکو متی ملی بھگت قرار دیتی رہی۔جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق ان کی تحقیقات کے دوران 28 کو طلب کیا گیا جن میں طلبی کے باوجود 5گواہ حاضر نہیں ہوئے ان گواہوں میں عماد بن جاسم بن الجبار المشانی ۔امریکی شہری شیخ سعید۔ اسحاق ڈار کی بیگم کے عزیز موسی غنی ۔ کاشف مسعود۔شیزی نیکول شامل ہیں۔جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد کیس کی مسلسل سماعت ہوئی جبکہ 21جولائی کو تین رکنی خصوصی بنچ نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا ۔اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ پانامہ کیس کا فیصلہ ملک کی سیاسی اور عدالتی تاریخ کااہم ترین فیصلہ ہے جو پاکستان کی تاریخ پر انقلابی اثرات مرتب کرے گا۔ سپریم کورٹ نے تاریخ ساز فیصلہ دے کر قوم کے دل جیت لئے ہیں یہ فیصلہ ملکی سیاست پر دوررس نتائج مرتب کرے گا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تاریخ کے سنہری اوراق میں ہمیشہ کیلئے محفوظ رہے گا۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے یہ فیصلہ ممدومعاون ثابت ہوگا، قانون سے بالاتر کوئی نہیں عدلیہ جو بھی فیصلہ کرتی ہے وہ قانون اور آئین کے تناظر میں کرتی ہے فیصلے کو قبول کرنا ہی سیاسی تدبر اور بصیرت ہے۔ نواز شریف سیاست سے بے وطن دکھائی دے رہے ہیں مسلم لیگ ن کی حکومت قانونی ، اخلاقی اور سیاسی جواز کھو بیٹھی ہے ان کو چاہیے کہ اس فیصلے کو مانتے ہوئے نئے وزیراعظم کا انتخاب کریں اور پارٹی کو حکمت عملی سے چلائیں۔ پانامہ کیس میں جہاں جے آئی ٹی کو کریڈٹ جاتا ہے وہاں درخواست گزار بھی پہلے نمبر پر ہیں جنہوں نے اس کیس کو زندہ رکھا اور آخر کار پانامہ کا ہنگامہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا اور عوام کی بے تابی اور بے قراری ختم ہوئی۔ پانامہ لیکس کا یہ معاملہ نتیجہ خیز ثابت ہوا توقع ہے کہ نیب سپریم کورٹ کے حکم پر فوری عمل کرتے ہوئے ریفرنس دائر کرنے میں کوئی لمحہ ضائع نہیں کرے گی۔ پانامہ کیس کرپشن کے خاتمے کا سبب بنے گا کرپشن نے ہی ملکی اداروں کو کھوکھلا کررکھا ہے، سپریم کورٹ کایہ فیصلہ دوررس نتائج کا حامل قرار پائے گا۔