- الإعلانات -

پاکستان کے دشمن

آج وطن عزیز پاکستان چاروں اطراف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے دنیا بھر کے یہود و ہنود اور دیگر کفار نے ہمیں اپنے اپنے انداز سے نشانے پر لے رکھا ہے کوئی مسلح دہشت گردی کروا رہا ہے تو کوئی ثقافتی دہشت گردی کوئی تعلیمی دہشت گردی پر مصر ہے تو کوئی ہماری دینی شعار کو جڑ سے اکھاڑنے کے درپے ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دشمن روح محمد صل اللہ علیہ وسلم ہمارے بدن سے نکالنے کے درپے ہے تعلیم میں اصلاحات کے نام پر ہمارے دین دار معاشرے میں وہ کچھ ترویج دینے کی کوشش کی جارہی ہے جس کو 99 فیصد عوام پاکستان قطعی قبول نہیں کرتے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے تذکرے احادیث اور آیات قرآنی کو نصاب سے خارج کیا جارہا ہے اور مسٹر چپس کو پروموٹ کیا جارہا ہے دین دار اور محب پاکستان زعما کی اولادیں انتہائی اخلاق باختہ عورتوں کو دفاتر میں بٹھا کر فحاشی اور اخلاق باختگی کے فروغ کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہیں ہمیں تو اب ان کی تربیت پر بھی شک گزرتا ہے کہ ان کے بزرگوں کا عوام میں کیا امیج تھا اور اب کیا ہو رہاہے کیا یہ واقعی ان کی آئندہ نسل کہلانے کی مستحق ہیں غیر ملکی ایجنڈے اور فنڈنگ کے ذریعے بے حیائی اور بے پردگی کو فروغ دیا جارہا ہے کچھ عرصہ قبل پاکستانی خواتین کی تقریب میں ان پر صرف اس لئے حملہ کیا گیا ہے کہ مقررات با حجاب تھیں. پاکستان بھر کے بڑے شہروں میں قائم شدہ مساج پارلر جو زیادہ تر فحاشی اور غلط کاری کے اڈے ہوتے ہیں باقاعدگی سے انہیں فنڈنگ کے ذریعے اور منصوبہ بندی کے ساتھ پروموٹ کیا جارہا ہے انڈیا کی نقل کرتے ہوئے ٹی وی پر ایسے پروگرام دکھائے جارہے ہیں جن کا ہمارے معاشرے اور ہماری اقدار سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں عام آدمی کو ایک مادر پدر آزاد معاشرے کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے اسی طرح کے پروگراموں کا شاخسانہ ملاحظہ فرمائیے کہ آج کا ہندوستانی معاشرہ درندگی کی حد تک جنسی بے راہ روی کا شکار ہے دنیا بھر کے ملکوں نے اپنے باشندوں کو ہندوستان جانے سے اجتناب کرنے کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ انتہائی ضرورت کے تحت ہی ہندوستان کا سفر کیا جائے اور سختی سے کہا گیا ہے کہ خواتین کو قطعی انڈیا نہ لے جایا جائے چند دن قبل ایک برطانوی خاتون سیاح ڈاینالے مک لالن کو گوا میں اغوا کر کے جنسی تشدد کے بعد قتل کردیا گیا ہے دوسری جانب ایک معروف انڈین سیاستدان خاتون کو 5 افراد نے اغوا کرکے جنسی تشدد کا نشانہ بنا دیا خیر ہوئی کہ کسی نے پولیس کو اطلاع کردی اور پولیس کارروائی کے سبب خاتون سیاستدان کی جان بچ گئی اسی طرح کے بے راہ رو پروگراموں کے سبب جنسی تشدد میں بہت زیادہ اضافہ ہورہا ہے یہی پروگرام پاکستان میں بھی دکھائے جارہے ہیں بلکہ نجانے کیوں ایک حالیہ فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ نے ان پروگراموں کی پاکستان میں نمائش پر عائد پابندی ختم کردی ہے جبکہ انہیں پروگراموں کی وجہ سے پاکستان میں بھی بچوں پر جنسی تشدد کی وارداتیں شروع ہو گئی ہیں جو ہمارے پورے معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ ہے اس غیر ملکی ثقافتی یلغار کا رخ اب پاکستان کی مسلح افواج کی جانب بھی ہوگیا ہے چونکہ اللہ کے فضل سے پاکستان کا دفاع انتہائی محب وطن اور مومن فوج کے ہاتھ میں ہے اور یہ ما شا اللہ ناقابل تسخیربھی ہے تو اب ہم پر روسی ماڈل کی طرز پر حملہ کیا جارہا ہے قارئین کو یاد ہوگا سوویت یونین ایک بہت بڑی فوجی قوت تھی جس کے پاس ہر نوع کے ہتھیاروں کی فراوانی تھی بلکہ عددی طور پر بھی سوویت فوج امریکی فوج سے زیادہ بڑی تھی جس کو آسانی سے شکست نہیں دی جاسکتی تھی لیکن مغرب اور امریکہ نے اسے جنگ میں الجھا کر اقتصادی طور پر کمزور کردیا گیا یوں سوویت معیشت اس جنگ کے اثرات کو نہ سہ سکی اور سوویت یونین ہی تحلیل ہو گئی اور اس کے بطن سے کئی ممالک برآمد ہو گئے پاکستان پر بھی یہی فارمولہ آزمانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ماضی قریب میں تحریک طالبان پاکستان ایجاد ہوئی انہیں ملت فروش دہشتگردوں کے ذریعے امریکہ اور افغان طالبان کے مابین جنگ کو پاکستان منتقل کرنے کی کوشش کی گئی جس کو افواج پاکستان نے اپنے لہو کا نذرانہ دے کر ناکام بنا دیا لیکن اندورنی محاذ پر یہ کوشش بدستور جاری ہے اور اس کا پہلا ہدف بدقسمتی سے افواج پاکستان ہی ہیں ایبٹ آباد حملے میں خود اندر کے لوگ ملوث تھے تحقیقات میں اصل سازشوں کی نشاندہی ہوتے ہی ایک مجرم کو تحفظ دے کر فرارکرادیا گیاکوئی ادارہ اس کے فرار میں رکاوٹ نہیں بنا آج وہی حسین حقانی امریکہ میں بیٹھ کر اس سازش میں ملوث تمام لوگوں کے نام لے رہا ہے سابق چیف جسٹس ٹی وی پر بیٹھ کر فرما رہے تھے کہ حسین حقانی کو بیرون ملک جانے سے روکنے کیلئے عدلیہ کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا یا للعجب اعلیٰ ترین عدالت کے جج یہ کہ رہے ہیں فوج کے خلاف سازشیں نئی بات نہیں اس سے پہلے امریکی اخبارات میں روگ آرمی کہ کر اشتہار چھپوائے گئے چند ماہ قبل ڈان لیکس جیسا دشمنانہ وار جس سے ملکی وقار اور اداروں کی نیک نامی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاپوری طرح سے کوشش کی جارہی ہے کہ ہر مصیبت کی گھڑی میں عام آدمی کے دکھ درد میں شریک ہونے والی افواج پاکستان اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کئے جائیں کچھ لوگوں کی خاطر مختلف محاذوں سے فوج پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے طرفہ تماشہ ہے کہ جو لوگ فوج کی مدد کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے وہی فوج کو مطعون کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور نہ سول اداروں میں اتنی پختگی پیدا ہو سکی ہے کہ وہ علاقے جنہیں فوج نے دہشتگردوں سے کلیئر کیا وہاں تاحال سویلین حکومت سیاسی عمل کے ذریعے اپنی رٹ قائم نہیں کرسکی ہے اور نہ اس کی کوئی دلچسپی نظر آرہی ہے پچھلی دو حکومتوں کے ادوار میں ریکارڈ قرضے لیئے گئے ہیں اتنے قرضے 2008 سے پہلے کے ساٹھ سال میں نہیں لئے گئے اور یہ قرضے مقررہ آئینی حد سے تجاوز کر چکے ہیں شاید اس وقت کا انتظار ہے کہ ریاست ڈی فالٹ کر جائے اور دشمنوں کے وہ مطالبے ماننے پر مجبور ہو جائے جس کا خواب ہمارے دشمن دیکھ رہے ہیں تاکہ بن گوریان کی روح کو سکون پہنچے جس نے اپنی آئندہ نسلوں کو پاکستان کے خاتمے کی وصیت کی تھی اب عوام پاکستان کا کام ہے کہ وہ وقت کے گوربا چوفوں کو پہچانے ابھی نہیں تو کبھی نہیں کی نوبت آن پہنچی ہے فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے اور اللہ آپ کو درست فیصلوں کی توفیق عطا فرمائے اللہ پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو تباہ برباد فرمائے ان شا اللہ ، اللہ پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔آمین