- الإعلانات -

مالدیپ میں پاکستان

آزادی کی قدر صرف وہ لوگ جانتے ہیں جنہوں نے کبھی غلامی کے ایام بھی دیکھے ہوں۔ہم اپنے باپ دادا سے کبھی غلامی کی باتیں سنتے تھے تورونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔غلامی ہر لحاظ سے ناقابلِ برداشت ہو تی ہے۔لیکن جب وہ غلامی غیر مذہب یا کافر کی ہو تو سوچ کے ہی دل دہل جاتا ہے۔پاکستان میں بھی صرف چند دنوں کے بعد آزادی کا مہینہ شروع ہونے والا ہے۔یکم اگست کو لوگ اپنے سینوں پر پاکستان کے جھنڈے کے بیج او ر سٹیکر لگا لیں گے۔آزادی کی تقریبات شروع ہو جائیں گی۔نوجوان نسل کی آزادی کی نعمت سے آگاہ کرنے کیلئے تعلیمی اداروں میں تقریری مقابلے شروع ہو جائیں گے۔کل مجھے ایک ٹیلیفون کال نے انتہائی محبت بھرا پیغام دیا ۔ یہ ٹیلیفون بلوچستان کے سب سے زیادہ گڑ بڑ والے علاقے پنجگور کے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی پرنسپل نجمہ رفاقت کا تھا۔میں جب اپنی کتاب بلوچستان ’’ عکس اور حقیقت ‘‘ کے سلسلے میں بلوچستان کے شہروں اور خاص کر تعلیمی اداروں کے چکر لگا رہا تھاتو اس کالج بھی گیا تھا۔اس وقت سے پھر پرنسپل صاحبہ سے علیک سلیک رہی۔انہوں نے بتایاکہ 14 اگست یومِ آزادی کے موقع پر ہمارے کالج میں تقریری مقابلے ہو رہے ہیں اور اردو کی تقریر کیلئے جو عنوان رکھا گیا ہے وہ علامہ اقبال کا یہ شعر ہے۔اصل شعر کچھ اس طرح ہے:۔
نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آبو گل ایراں ، وہی تبریز ہے ساقی
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
جب مکران ڈویژن کے پنجگور جیسے شہر میں ایسے موضوعات پر تقریریں ہو رہی ہوں تو پاکستان کیلئے بڑا نیک شگون ہے۔ بات ہو رہی تھی آزادی کی۔ 26جولائی کو مالدیپ کا52واں یومِ آزادی تھا ۔ مالے مالدیپ کا دارالخلافہ ہے ۔ وزیراعظم اپنے وفد کے ہمراہ مالدیپ پہنچے تو پورے مالدیپ میں جشن کا سماں تھا۔یو مِ آزادی کے موقع پر مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم نے وزیراعظم نواز شریف کو آزادی کی تقریبات میں بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی دعوت دی تھی۔وزیراعظم کو ائیرپورٹ پر سات توپوں کی سلامی اور دونوں ملکوں کے ترانے گونجنے لگے۔آزادی کی سب سے بڑی تقریب قومی فٹ بال گراؤنڈ میں منعقد کی گئی۔مالدیپ کے صدر اور وزیراعظم نوازشریف جب گراؤنڈ میں پہنچے تو پورے گراؤنڈ میں پاکستان کے سبز جھنڈے نظر آ رہے تھے۔بچوں نے سبز رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا۔مالدیپ کے اپنا جھنڈا بھی درمیان سے سبز ہے اور وہ بھی ہلالی پرچم ہی ہے۔لیکن اس خوبصورت منظر میں یہ محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے یہ مالدیپ کا یومِ آزادی نہیں بلکہ پاکستان کو یومِ آزادی ہے۔بچوں نے چمکتے دمکتے کاغذوں کے جو پھول بنا رکھے تھے ان کو لہرا کر وہ ڈانس کر رہے تھے وہ سب بھی سبز تھے۔چھوٹے چھوٹے بچوں نے وہ سبز پرچم لہرا کر انتہائی شیریں زبان میں ملی نغموں کے ساتھ وزیراعظم کا استقبال کیا اور ایک نغمے کے بول تو یہ تھے:
( مرحبا نوازشریف ۔ خوش آمدید نواز شریف)
یہ نغمے انہوں نے اپنی زبان میں گائے تھے۔ بعد میں ان کا ترجمہ بتایا گیا تھا۔پوری تقریب میں مالدیپ سے زیادہ پاکستان کے جھنڈے لہرائے جا رہے تھے۔ ملی نغموں میں بچوں نے جودوسرا ملی نغمہ گایا تھااس کا مقصد بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنا تھاکہ مالدیپ میں کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہے۔اس کو چھوٹے بچوں نے بہت انجوائے کیا۔اسی طرح پھر کالج لیول کی لڑکیوں نے ایک نغمہ گایاجس کا مقصد عورتوں کو اپنے حقوق سے آگاہ کرنا تھا اور اپنے گھریلو فرائض کا احساس دلانا تھا۔ان تمام نوجوان بچیوں نے بھی سبز لباس پہنا ہو ا تھااور گراؤنڈ میں بیٹھی تمام معزز خواتین نے اس نغمے کو دل کھول کر داد دی۔میں سوچ رہا تھا کہ پاکستان میں اس قسم کی تقریبات اپنے دوست ملک چین کے صدر کی آمد پر ہوتی ہیں اور یا پھر سعودی عرب کے حکمران کے آنے پر ایسے جشن ہوتے ہیں ۔ وہ بھی ایسی صورت میں کہ وہ بھی یومِ آزادی کے اہم موقع پر تشریف لائیں ۔ مالدیپ نے نوازشریف کی شرکت کو بہت زیادہ اہمیت دی ۔ بہت ہی زیادہ خوشی کا اظہار کیااور وزیراعظم کو ناقابلِ فراموش عزت دی۔وزیراعظم کو ملنے والی عزت پاکستان کی عزت تھی اور مالدیپ کے صدر اور عوام پاکستانی عوام کو اپنی محبت کا مقروض کر لیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کبھی مالدیپ کی اس محبت کا قرض اتار سکے گا یا نہیں۔مالدیپ آبادی کے لحاظ سے ایشیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔جو چھوٹے چھوٹے 1200جزیروں پر مشتمل ہے۔ان جزیروں کے لوگوں کا کسی حد تک کلچر بھی مختلف ہے۔وہاں صدارتی نظامِ حکومت ہے۔اور ہر چار سال کیلئے صدر کا چناؤ کیا جا تا ہے۔وہاں کی پارلیمنٹ 54ارکان پر مشتمل ہے۔جسے وہ اپنی زبان میں مجلس کہتے ہیں۔وہ 54ارکان کی مجلس پہلے صدر کا چناؤ کرتی ہے اور پھر سارے ملک کی عوام کو اس کی تائید کرنی ہوتی ہے۔اگر صدر عوام سے اعتماد کاووٹ نہ لے سکے تو پھر مجلس کے چناؤسے وہ صدر نہیں بن سکتا۔ اس کے لئے انتہائی ہر دلعزیز شخصیت ہی یہ عہدہ حاصل کر سکتی ہے۔ وہاں کی 80فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے اور وہ بڑے پرامن اور مہذب لوگ ہیں۔مالدیپ کے یومِ آزادی پر ایک بات بڑی کا بڑی شدت سے احساس ہوا کہ وہ ایسی تقریبات کو اپنے مخصوص ثقافتی رنگ میں مناتے ہیں ۔ ان کی ہر تقریب میں ان کی اپنی ثقافت کا بھرپور رنگ ہوتا ہے۔مالدیپ ایک خاص پر یشانی میں مبتلا ضرور ہے جب سے2004ء میں سری لنکا میں سونامی آیا تو مالدیپ بھی چونکہ 1200جزیروں پر مشتمل ہے اور موسمی تغیر و تبدل میں سمندر کے پانی میں بھی اتار چڑھاؤآتا رہتا ہے۔اس لئے مالدیپ کے لوگوں کے دلوں میں یہ خوف ضرور رہتا ہے کہ خدانخواستہ ہمیں بھی کہیں سونامی جیسے خوفناک حادثے کا شکار نہ ہونا پڑ جائے۔میں آخر میں ایک مرتبہ پھر یہ تحریر کرنا چاہتا ہوں کہ مالدیپ کے لوگوں نے پاکستان کے حکمران یا وزیراعظم کو اتنی زیادہ عزت دے کر پاکستان اور پاکستانی عوام کو اپنی محبت کا مقروض کر لیا ہے۔