- الإعلانات -

نواز شریف کو ایک اور مشورہ

سپریم کورٹ نے ایک تاریخ ساز فیصلہ دے کر ملک میں کرپشن اور صادق و امین کے حوالے سے ایک بنیاد رکھ دی ہے ، اب ہر کسی کو معلوم ہو جانا چاہیے کہ جو بھی کرپشن کرے گا یا سیاست میں رہ کر جھوٹ یا لغو بازی کا سہارا لے گا تو اس کا بھی حال کچھ ایسا ہی ہو گا ، نواز شریف جہاں تک نااہل ہونے کا مسئلہ ہے تو راقم الحروف نے کچھ عرصہ قبل جب یہ وزیر اعظم تھے تو مشورہ دیا کہ وہ ایک کمیشن قائم کر دیں جس سے کرپشن کی دولت ملک میں واپس لانے اور آئندہ کیلئے پابندی عائد کرنے کے حوالے سے کہا گیا تھا اوریہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ اسٹیپ ڈاؤن کر جاتے تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے ، کسی کو بھی اپنی جگہ وزیر اعظم بناتے جو ان کا بااعتماد ہوتا اس کے بعد دیگر معاملات خود چلاتے رہتے اس طرح ملک میں کوئی ہسل بسل نہ ہوتی ، آج جب انہیں نااہل قرار دیدیا گیا ہے تو پھر راقم انہیں ایک اور ادنیٰ سے مشورہ دینا چاہتا ہے کہ وہ بہتر ہے کسی کومستقل وزارت عظمیٰ کی تعیناتی کے چکر میں نہ پڑیں کیونکہ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا ن لیگ کیلئے اتنی ہی مشکلات پیدا ہوتی جائیں گی مشورہ یہ ہے کہ ان حالات میں وہ کسی بااعتماد شخصیت کو عارضی طور پر وزیر اعظم کیلئے نامزد کریں ،چونکہ وفاقی کابینہ تو پہلے ہی تحلیل ہو چکی ہے پھر وہ صدر مملکت کے ذریعے اسمبلیاں بھی تحلیل کرنے کا کہے تین مہینے کے اندر اندر انتخابات ہوں ، چونکہ یہ معاملہ ابھی تازہ تازہ ہے ، اور ممکن ہے کہ عوام کے دلوں میں زیادہ ہمدردی ہو اور ن لیگ کامیاب ہوجائے ، ہمارے خیال میں نواز شریف کے پاس عابد شیر علی سے زیادہ موزوں اور وفادار کوئی نہیں ، اب جو وزیر اعظم نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کیلئے نامزد کیا ہے اس سے بھی بہت سارے مسائل پیدا ہوں گے کیونہ ماڈل ٹاؤن کا معاملہ بھی دوبارہ تازہ ہونے جا رہا ہے ، اس کے علاوہ شوگر ملوں کی بھی ایک شہر سے دوسرے شہر منتقلی کا معاملہ ہے ، اس وجہ سے اس اقدام کو اٹھانے کے بعد نواز شریف کو پھر سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت انتہائی زیرک نظری اور ٹھنڈے مزاج سے فیصلہ کریں، کوئی بھی فیصلہ ن لیگ کی سیاست کو ڈبو سکتا ہے ، تاہم ایک بات تو واضع ہے کہ سپریم کورٹ نے تاریخ رقم کردی ہے اور اتنا زبردست فیصلہ تو شاید مغرب کی دنیا میں کوئی عدالت نہ دے سکتی ہو ، جیسکا کے عمران نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جو کام 60دنوں میں کیا ہے یہ مغرب میں بھی نہیں ہوسکتا ، اس تمام پاناما کیس کو غور سے دیکھا جائے تو یہ چیز بھی واضع ہے کہ ہمارے ملک میں اہلیت اور قابلیت کی کوئی کمی نہیں ، ہم ترقی یافتہ قوموں میں شامل ہو سکتے ہیں ، آج یہ داغ بیل رکھ دی گئی ہے ، ہم یہاں ایک اور بھی عرض کرتے چلیں گے اب جو کرپشن کیخلاف یا آئین آرٹیکل 63,62 کے حوالے سے کام شروع ہوا ہے اس کو جاری رہنا چاہیے ، جیسا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ اسمبلیوں میں ڈاکو بیٹھے ہیں تو اس پر بھی توجہ دینا چاہیے ، جس نے بھی ملک و قوم کا پیسہ کھایا بلا تفریق اس کا احتساب ضروری ہے ، جب ایک مثال قائم ہو جائے گی تو پھر کسی کی جرات نہیں گی کہ وہ قوم کا مال ودولت لوٹ کر بیرون ملک لیکر جائے ، یہ وطن ہمارے لئے ہے ، ہم نے یہاں رہنا ، جینا اور مرنا ہے ، آج کا دن ایک تاریخی دن ہے ، کیونکہ قوم کو ایک ایسا راستہ دکھا دیا گیا ہے جس میں تمام ترقی کے راز مضمر ہیں ، لہذا اب ان لوگوں کو فکر مند ہونا چاہیے جنہوں نے ہمیشہ اس ملک و قوم کو لوٹا سیاست کو بندر بانٹ بنایا جاتا رہا، ہم تو یہاں یہ بھی کہیں گے پاکستان سے موروثی اور شخصی سیاست کو بھی ختم ہونا چاہیے ، یہ رائے بھی دیں گے کہ جس خاندان میں سے کوئی ایک شخص سیاست کے اعلیٰ عہدے پرفائز ہو تو وہاں پر چاچے، مامے ، تائے کی سیاست نہیں ہونا چاہیے ،دراصل خرابی ہے موروثی سیاست میں ہے ، جب خاندانوں سے نکل سیاست عام عوام میں آئے گی تب ہی ملک ترقی کر سکے گا، پھر یہ قانون بھی ہر صورت پاس کرنا چاہیے کہ وزارت عظمیٰ کیلئے ایک شخص دودفعہ سے زیادہ امیدوار نہ ہو اور جب وہ سیاست سے آؤٹ ہو تو پھر ہی اس کے خاندان کا دوسرا فرد سیاست میں قدم رکھے ، سیاست اور بزنس کو بھی علیحدہ ہونا چاہیے ، جو بھی بزنس مین ہو اس کیلئے سیاست کے دروازے بند ہونا چاہیے ، کیونکہ جب بھی کوئی بزنس مین سیاست میں قم رکھتا ہے تو اسے ملک و قوم کے مفاد سے زیادہ اپنا بزنس مقدم ہوتا ہے ، وہ لاکھوں میں آتا ہے پھر کروڑوں اربوں تک جا پہنچتاہے ، جو کہ ایک انتہائی غلط روایت ہے ، لہذاموروثی سیاست ،وزارت عظمیٰ کیلئے دو مرتبہ اور سیاست دان کو کاروبارسے ماوراء ہو کر قوم کی خدمت کرنا چاہیے ، اس کیلئے تمام سیاستدانوں کو ایک ہونا ہوگا، آج کے بعد کچھ ایسا بھی قانون پاس کرنا چاہیے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس کو بھول جائیں آنے والے وقت پر نظر رکھیں اور بااختیار لوگ یہ طے کریں کہ جس جس کی بیرون ملک جتنی بھی دولت ہے وہ دو سے تین ماہ کے اندر اندر ملک میں واپس لے کر آئیں انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا ، کیونکہ اگر ہم اسی طرح ماضی لانجھوں میں پڑے رہے تو پھر شاید اسی طرح لکیر کو پیٹتے رہتے ہیں ، کچھ بھی حاصل نہ ہوسکے گا ۔