- الإعلانات -

شہبازشریف کونیاقائدایوان بنانے کافیصلہ

پانامہ کیس میں وزیراعظم محمدنوازشریف کی نااہلی کے بعد اب اگلامرحلہ نئے قائدایوان کا ہے جس کافیصلہ باہمی مشاورت سے کرلیاگیا ہے ۔ قومی اسمبلی آئندہ ہفتے نئے قائد ایوان کا انتخاب کرے گی،ملک کے 21ویں وزیراعظم کا انتخاب ہو گا، صدر مملکت نئے وزیراعظم سے حلف لیں گے۔ ایوان میں حکمران اتحاد کے اراکین کی تعداد 218تھی نواز شریف کی نا اہلی پر یہ تعداد 217 رہ گئی ہے اس میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد 198، دیگر اراکین کا تعلق اتحادی جماعتوں سے ہے۔،قومی اسمبلی کا اجلاس آئندہ ہفتے اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہو گا، حکومت اپوزیشن جماعتوں سے نئے قائد ایوان کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کے بارے میں مشاورت کی جائے گی۔یہ اجلاس ایک نکاتی ایجنڈے کے تحت ہو گا، جس میں قائد ایوان کے انتخاب کی کارروائی کا اعلان کیا جائے گا اور کاغذات نامزدگی جمع کروانے کیلئے وقت مقرر کیا جائے گا، نئے قائد ایوان کا انتخاب اسپیکر قومی اسمبلی کی نگرانی میں ہو گا، خوش اسلوبی سے یہ مرحلہ مکمل ہونے پر صدر ممنون حسین نئے وزیراعظم سے حلف لیں گے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق آئندہ ہفتے ایوان میں نواز شریف کے حلقہ این اے 120لاہور خالی قرار دیئے جانے کا باضابطہ اعلان اور وزیراعظم کی عدالتی نااہلی سے باقاعدہ طورپراراکین قومی اسمبلی کو آگاہ کریں گے اور نئے قائد ایوان کے انتخاب کیلئے طریقہ کار کے بارے میں اراکین قومی اسمبلی کو بتایا جائے گا، جلد ایوان صدر سے قومی اسمبلی کے اجلاس کی طلبی کا حکم نامہ جاری ہو جائے گا، صدارتی حکم نامہ براہ راست اسپیکر قومی اسمبلی کو ارسال کیا جائے گا اور انہیں وزیراعظم کا عہدہ خالی ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے نئے قائد ایوان کے انتخاب کی ہدایت کی جائے گی۔ آئین کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی کاغذات نامزدگی جمع کروانے کیلئے وقت کا تعین کریں گے، کاغذات نامزدگی جمع ہونے پر ڈویژن کی بنیاد پر ایوان میں وزیراعظم کا انتخاب ہو گا۔اس سے قبل پاکستان کے لیاقت علی خان،خواجہ ناظم الدین، محمد علی بوگرہ، چوہدری محمد علی، حسین شہید سہروردی، ابراہیم اسماعیل چندی گڑھ، ملک فیروز خان نون، نور الامین، ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو، محترمہ بے نظیر بھٹو، غلام مصطفیٰ جتوئی(نگران)، میاں محمد نواز شریف، میر بلخ شیر مزاری(نگران)، معین قریشی(نگران)،ملک معراج خالد(نگران)، میر ظفر اللہ خان جمالی، چوہدری شجاعت حسین، شوکت عزیز، میاں محمد سومرو(نگران)، سید یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، ہزار خان کھوسو(نگران)، وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ میاں محمد نواز شریف پاکستان کے واحد وزیراعظم ہیں جو اس عہدے پر 3بار فائز رہے۔ بے نظیر بھٹو دو بار اس عہدے پر فائز رہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں ایک تفصیلی مشاورتی اجلاس ہوا جس کی صدارت سابق وزیراعظم نواز شریف نے کی، اجلاس میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان، گورنر پنجاب رفیق راجوانہ، گورنر سندھ زبیر عمر، راجہ ظفر الحق، اکرم درانی، اعجاز الحق، خواجہ سعد رفیق، اسپیکر ایاز صادق، ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی، برجیس طاہر، گلگت بلتستان کے وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمان، عابد شیر علی اوردیگر شریک ہوئے۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اورنواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ شہبازشریف رکن قومی اسمبلی منتخب ہو کر نئے وزیراعظم بنیں تا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک میں بجلی بحران کے خاتمے، سی پیک منصوبے سمیت دیگر میگا پراجیکٹ شروع کئے ہیں وہ تکمیل کو پہنچ سکیں اور شہباز شریف میں یہ مکمل صلاحیت موجود ہے کہ وہ سارے معاملات کو بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں۔اجلاس میں 45 دن کیلئے عبوری وزیراعظم کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور اس حوالے سے کئی نام زیر غور آئے جن میں شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر خان اور شیخ آفتاب کے نام شامل ہیں۔شہبازشریف کی وزارت عظمیٰ سے نوازشریف کی پالیسیوں کاتسلسل جاری رہے گا اور یہ ایک اچھا فیصلہ ہے جو تدبر اور سیاسی بصیرت کاحامل ہے ۔مسلم لیگ نون کی حکومت کو خارجہ پالیسی پر بھی نظرثانی کرنی ہوگی اور حکومت کی ناکامی کے اسباب پرگہری نظررکھنی ہوگی۔شہبازشریف پراب یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نون لیگ کوپہلے کی طرح مستحکم رکھیں تاکہ مسلم لیگ نون مستحکم اورفعال رہے اگر شہبازشریف اس مشن میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو نون لیگ آئندہ الیکشن میں بھی قدکاٹھ برقرار رکھنے میں کامیاب قرارپاسکتی ہے۔

مسجد نبویﷺکے نائب امام، موذن الشیخ ایاد بن احمد شکری نے جامع مسجد اسحاق میں نماز جمعہ کاخطبہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ قتل و غارت، فتنہ وفساد ، لڑائی کو پسند نہیں کرتا ، کسی پر فتوے نہ لگاؤ اور کافر نہ کہو یہ کام جس کا ہے وہی کر سکتا ہے ،دین اسلام میں آسانیاں ہیں، ایمان صرف دعوے کا نام نہیں بلکہ عمل بھی ضروری ہے ،کوئی بھی حاکم وقت ،حکمران وقت خواہ وہ برائی بھی کرتا ہے اس کے خلاف افرا تفری نہ پھیلاؤ اس کے خلاف خرو ج نہ کرو ،امن و امان کو پسند کرنے والے صحیح مشن اور منہج پر ہیں ۔ عالم اسلام کے اتحاد،سلامتی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دعا بھی کرائی ۔ الشیخ ایاد بن احمد شکری نے اپنے خطبے میں کہا کہ اللہ رب العزت نے اپنے رسول محمد ﷺکو ہم سب کیلئے حادی و مرشد بنا کر بھیجا ، جنت کی خوشخبریاں سنانے والے اور جہنم سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور پھر اپنے محبوب کو ایسی توجیحات سے نوازا جن کے ذریعے رسول ﷺ اپنی امت کی تربیت کر سکیں۔رسولﷺ اللہ کی مرضی کے بغیر کلام نہیں کیا کرتے تھے ،اس لئے آپ ؐکی ہر بات شریعت ہے اور ایک مسلمان کو اس پر ایمان لانا چاہیے ۔ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کو جوتوجیحات دیں ان میں ایک توجیح یہ تھی اے میرے محبوب آپ کو جس طرح حکم دیا گیا ہے اسی طرح استقامت اختیار کیجیے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھاکہ تم کہہ دو میں اللہ پر ایمان لاتا ہو ں اور اس پر استقامت اختیار کر تا ہوں یہ کلمات دین اسلام کی اصل روح ہیں اور یہ وہ کلمات ہیں جس میں اسلام کو جمع کر دیا گیا ہے ۔ یاد رکھنا ایمان بہت بڑی نعمت ہے ۔صحیح مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کی جماعت سے الگ نہیں ہوتا اور اپنی زندگی نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارتا ہے ۔ صحیح مشن اور منہج وہ ہے جو انسان صحابہ کی برائی نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان ہستیوں کو اپنے محبوب کا وزراء بنایا ہے اور انہیں پوری کائنات سے چنا ہے ۔ نبی کریمﷺ ؐنے خود کہا میرے صحابہ کو گالی نہ دو اور جس نے گالی دی اس پراللہ اس کے فرشتوں اورپوری کائنات کی لعنت ہے۔ جو قتل و غارت ،فساد او ر لڑائی کو پسند نہیں کرتا جوامن کو پسند کرتا ہے وہ مومن ہے کیونکہ جو ایک مومن کو قتل کرتا ہے وہ امن و امان کو تہہ و بالا کرنا چاہتا ہے ۔ تقدیر کو نہ جھٹلائیں ،ہر قسم کی تقدیر چاہے وہ اچھی ہو یا وہ بری ہو اس کا فیصلہ اس رب نے کیا ہے ۔ ایمان پر شک نہ کرنا ایمان نیکی کرنے سے بڑھتا اور برائی کرنے سے کم ہوتا ہے ۔ دین میں جھگڑے نہ کرو لڑائی نہ کرنا جس کی زندگی کا مقصد یہ ہے وہ صحیح مشن پر ۔ صحیح منہج یہ ہے کہ اپنے سر کو اللہ اور اس کے رسول ؐ کے حکم کے آگے جھکا لے ۔مسجدنبویﷺ کے نائب امام کاخطبہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے اسلام امن وسلامتی کا درس دیتا ہے اس وقت مسلمانوں میں اتفاق واتحاد کی ضرورت ہے ۔نفاق مسلمانوں کیلئے مشکلات اورتباہی کاباعث بن رہاہے۔