- الإعلانات -

نیپال سے پاکستانی شہری کے اغوا میں ’’را‘‘ ملوث

2014ء میں پاک فوج سے ریٹائر ہونیوالے کرنل محمد حبیب ظاہر نوکری کی تلاش میں تھے اور اسی سلسلے میں انہوں نے چند ماہ قبل لنکسٹرن اور اقوام متحدہ کی ویب سائٹس پر سی وی لوڈ کیا ۔ کچھ عرصے بعد حبیب ظاہر کو بھارتی ہوسٹ ویب سائٹ کے ذریعے رابطہ کیا گیا اور نوکری کی پیشکش کی گئی۔ حبیب ظاہر اور کمپنی کے درمیان ای میلز اور ٹیلی فون کالز کا بھی تبادلہ ہوا۔ حبیب ظاہر کو برطانیہ سے مسٹر تھامسن نامی شخص کی کال بھی آئی۔ ان رابطوں میں حبیب ظاہر کو 8 ہزار 500 ڈالر کی تنخواہ اور زونل ڈائریکٹر کے عہدے کی پیشکش کی گئی، کمپنی نے حبیب ظاہر کو بزنس کلاس ٹکٹ بھیجا اور عمان بلوایا، عمان میں جاوید انصاری نامی شخص نے انہیں نیپال پہنچنے کا کہا اور وہاں پہنچ رابطہ کرنے کے لیے ایک نمبر بھی دیا۔ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ حبیب ظاہر 6 اپریل کو نیپال پہنچے جہاں انہیں بھارتی سرحد سے صرف 5 کلومیٹر دور علاقے لمبینی میں لے جایا گیا۔ ان کے غائب ہونے کے بعد سے بھارت سے ہوسٹ ہونے والی ویب سائٹ بھی مکمل طور پر بند ہو گئی جبکہ برطانیہ سے مسٹر تھامسن کے نام سے آنے والی کال کا نمبر بھی جعلی نکلا۔ اس کے بعد سے حبیب ظاہر کا اپنی فیملی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔دفترخارجہ نے سابق لیفٹیننٹ کرنل محمد حبیب کی نیپال میں گمشدگی کی تصدیق کر تے ہوئے بتایا کہ وزارت خارجہ نے معاملہ نیپالی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے۔ سابق فوجی کے اہل خانہ سے بھی رابطے میں ہیں۔ حبیب ظاہر کی گمشدگی کی اطلاع اہل خانہ نے دی۔رابط کرنے پر نیپالی حکام نے لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر کو بھارت لے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ۔ نیپالی پولیس کے مطابق کرنل حبیب ظاہر نیپال میں موجود نہیں تاہم ہو سکتا ہے کہ انہیں بھارت لے جایا گیا ہو۔ یوں لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر کی گمشدگی کا معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا ۔ نیپالی پولیس کے جواب کے مطابق حبیب ظاہر سے متعلق کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ البتہ نیپالی پولیس کو حبیب ظاہر کی سی سی ٹی وی فوٹیج مل گئی ہے جس کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہر کو لمبینی ائیرپورٹ پر بھارتی شہری نے ریسیو کیا، اس لیے ہو سکتا ہے کہ انہیں بھارت لے جایا گیا ہو۔کرنل(ر) حبیب ظاہر کی گمشدگی کے بعد ان کی بیوی نے UNHRCP کے دفتر میں ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اپنے پہلے خط جو 18 اپریل کو لکھا، کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے خاوند کی بازیابی کیلئے درخواست کی۔ انہوں نے لکھا کہ مجھے اقوام متحدہ پر پورا یقین ہے اور میں قانون کی طاقت پر پورا یقین رکھتی ہوں۔ اس وقت میں اور میرے بچے کرب کی اذیت سے دوچار ہیں اور جانتے ہیں کہ کرنل (ر) حبیب ظاہر کے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہورہا۔ میں گورنمنٹ آف پاکستان کو پہلے ہی حبیب ظاہر کی گمشدگی کے بارے میں اطلاع دے چکی ہوں اور انہیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس معاملے میں بھارت ملوث ہے۔ میں ایک بار پھر انسانی حقوق کی تنظیم سے درخواست کرتی ہوں کہ میرے خاوند کی بازیابی میں میرا ساتھ دیں۔ نیپال پولیس کے ایس ایس پی تیپک تھاپا کا کہنا ہے کہ حکام کو اس شخص کی تلاش ہے جس نے لمبینی کے قریب بھیروا ہوائی اڈے پر حبیب ظاہر کا استقبال کیا تھا اور جس کے ساتھ وہ ہوائی اڈے سے روانہ ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا ‘ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ کرنل حبیب جہاز کے ذریعے کھٹمنڈو سے بھیروا پہنچے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کا استقبال ایک شخص نے کیا جس کی شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔’پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کرنل حبیب جہاز سے دستی سامان اور بیک پیک کے ہمراہ اترے۔ فوٹیج کے مطابق انھوں نے خارجی گیٹ پر ایک ‘نامعلوم شخص’ کے ساتھ کچھ دیر باتیں کیں اور پھر دونوں اکٹھے چلے گئے۔نیپال کے دفتر خارجہ کے ترجمان بھرت راج نے کہا تھا کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے درخواست موصول ہونے پر نیپال کے دفتر خارجہ نے وزارت داخلہ اور پولیس کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ کرنل (ر) حبیب کی گمشدگی میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ہاتھ ہے۔ ان کی بازیابی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ کرنل (ر) حبیب ملازمت کی تلاش میں تھے، انہیں ’’را‘‘ نے دھوکہ دے کر اپنے جال میں پھنسایا اور اغواء کرلیا۔ ان کی گمشدگی کا معاملہ اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جائے اور انہیں بازیاب کرایا جائے۔کرنل (ر) حبیب ظاہر کی گمشدگی کے معاملے میں ایسے چند فیک ویب سائٹس، ٹوئٹر اکاؤنٹس اور فون نمبرزاستعمال ہوئے جن کو بھارت سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ سب سے پہلے ایک تھامس نامی شخص جس نے کرنل (ر) حبیب ظاہر سے رابطہ کیا ، وہ فون نمبر برطانیہ کا تھا۔ اس نے کرنل (ر) حبیب ظاہر کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام نیپال میں جاب کرنے کی آفر کی اور نیپال میں ہی جا کر انٹرویو دینے کو کہا۔ جہاں پہنچتے ہی کرنل (ر) حبیب ظاہر کو اغوا کر لیا گیا۔ پاکستان نے اس حوالے سے بھارتی حکومت سے رابطہ کیا کہ وہ کرنل (ر)حبیب سے متعلق معلومات پر معاونت کرے لیکن اس کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔پاکستان کا کہنا ہے کہ نیپال میں پاکستانی فوج کے سابق افسر کے لاپتہ ہونے میں غیرملکی ایجنسیوں کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ان کے بیٹے کی جانب سے ان کی گمشدگی کے حوالے سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں بھی یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ انھیں ’دشمن‘ خفیہ اداروں نے اغوا کیا ہے۔ ہم کرنل (ر) حبیب کے معاملہ میں دیکھ رہے ہیں کہ بھارت کی جانب سے پاکستان سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔ اس سلسلے میں نیپال سے بھی ہمیں وہ تعاون نہیں ملا جو ملنا چاہئے تھا۔ اس سارے مسئلے میں بھارت علاقائی طور پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔ آج کل نیپال بھارت کے شکنجے سے نکلنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ کرنل (ر) حبیب ظاہر کے واقعے کے بعد بھارت یہ کہہ رہا ہے کہ نیپال غیر ملکیوں کیلئے محفوظ ملک نہیں۔ یوں وہ ایک پنتھ دو کاج کے مصداق ایک طرف تو پاکستان کو اپنے دام میں لانا چاہتا ہے تو دوسری طرف نیپال کو اپنے قدموں میں جھکانا چاہتا ہے۔