- الإعلانات -

پانامہ کیس کا فیصلہ ایک تاریخی قدم

آج دن کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ معزز ججوں نے پانامہ کیس کا فیصلہ سنا دیا جس میں انصاف کے تقاضے مکمل طور پر پورے کئے گئے بلکہ کچھ زیادہ ہی پورے کئے گئے تمام ملزموں کو بھرپور موقع فراہم کیاگیا بلکہ کچھ زیادہ ہی فراہم کیاگیا گو مستقبل کے چیف جسٹس صاحبان نے پہلی سماعت کے بعد جب عبوری حکم /فیصلہ سنایاتھا تو وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے عدالت سے حقائق چھپائے جارہے ہیں اور جھوٹ بولا جارہا ہے تو ان دو معزز جج صاحبان نے میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دے دیاتھا باقی 3 معزز ججوں نے اتمام حجت کے طور پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی اور ملزمان کو ایک بار پھر موقع دیا گیا کہ اگر ان کے پاس ایسا کوئی مواد یا دستاویز ہو تو وہ جے آئی ٹی کو پیش کی جائے تاکہ ملزموں کی بے گناہی ثابت ہو سکے لیکن” ڈھاک کے وہی تین پات” اور میں نہ مانوں کی بات دہرائی جاتی رہی اور جے آئی ٹی کو متضاد بیانات دیتے رہے اور باہرآکر کمال بھولپن سے میڈیا کے سامنے پوچھتے کہ ہمارا قصور کیا ہے سبحان اللہ کیا کہنے آپ پر کئی ماہ سے مقدمہ چل رہا ہے اور آپ کو پتہ تک نہیں دراصل یہ مقدمہ تکنیکی بنیادوں پر نہیں لڑا گیا کہ دفاع کے لئے کچھ تھا ہی نہیں سیاسی بنیادوں پر لڑا گیا کہ آگے چل کر سیاسی شہادت کا امکان تھا ہم ایک عرصے سے لکھ اور کہ رہے ہیں کہ میاں صاحب کا مزاج ہے کہ انہوں نے ہمیشہ بیٹھے بٹھائے بم کو لات مارتے ہیں یا کلہاڑی پر پیر مار لیتے ہیں اس کی اہم وجہ میاں صاحب کو مشورہ دینے والے ہیں جن کے مشوروں نے انہیں اس حال کو پہنچایا ہے یادش بخیر جب غلام اسحاق خان مرحوم سے اختلافات ہوئے تو اس کی بنیاد بھی میاں صاحب کا مزاج تھا غلام اسحاق خان مرحوم سے ہمارا نیازمندی کا تعلق رہا ہے انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے بطور بزرگ کچھ باتیں میاں صاحب کے گوش گزار کیں جس کا میاں صاحب نے برا منایا اور یوں اختلاف پیدا ہوئے اور بدقسمتی سے معاملات ذاتی انا تک چلے گئے اس کے بعد جنرل جہانگیر کرامت کے ساتھ معاملہ بھی لوگ نہیں بھولے جنرل مشرف بھی میاں صاحب ہی کا حسن انتخاب تھے اور آج کا فیصلہ بھی” میں نا مانوں” کا نتیجہ ہے ان کے مشیران اور حمایتی مولانا آج بھی کہ رہے ہیں کہ میاں صاحب کو اس جرم کی سزا دی گئی جو سرزد ہی نہیں ہوا یہی وہ اصل لوگ ہیں جن کے حکیمانہ مشوروں کی بدولت میاں صاحب اس حال کو پہنچے ہیں سابق وزیر ریلوے فرماتے ہیں کہ ہمیں سی پیک بنانے کی سزادی جارہی ہے تو عرض ہے کہ تاریخ کا تیا پانچہ نہ کریں سی پیک کے لئے پہلی پیش رفت 1954 میں فیروز خان نون نے کی جب برطانوی حکومت کے ذریعے گوادر کے حصول کی کوششوں کا آغاز کیا صدر مشرف نے چین کی مدد سے گوادر پورٹ کی تعمیر شروع کروائی کوسٹل ہائی وے اور گوادر پشاور شاہراہ بھی جنرل مشرف کا کارنامہ ہے جو آگے جا کر سی پیک کی بنیاد بنا سعد رفیق نے فرمایا ہے اس سے پہلے میاں صاحب کو ایٹمی دھماکہ کرنے کی سزا دی گئی کیا واقعی میاں صاحب دھماکہ کرنا چاہتے تھے ہم گواہ ہیں کہ دھماکہ کرنے اور کروانے والے کوئی اور تھے میاں صاحب بلکہ میاں صاحبان تو ڈالر پکڑنے کو ترجیح دے رہے تھے میاں صاحب پر تو دھماکوں کی محض تہمت ہے کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے کہ دیتے ہیں کہ” الحمد للہ ہم نے دھماکے کئے ” قدم بڑھاؤ نوازشریف قسم لوگ اب بھی میاں صاحب کا دفاع بڑے غیر دانشمندانہ طریقے سے کر رہے ہیں شاید میاں صاحب نے اپنے ماضی سے بالکل نہیں سیکھا ان کے وہی بڑھک باز سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ پہلا الزام حقائق چھپانا دوسرے سپریم کورٹ کے سامنے غلط بیانی تیسرے سپریم کورٹ کو جعلی دستاویزات فراہم کرنا اور سپریم کورٹ نے اپنے سامنے موجود حقائق کی بنا عوامی عہدے پر فائز ملزمان کو نااہل قرار دے دیا اور ان اورباقی ملزمان کے کیسز کو ٹرائل کورٹ بھجوا کر وقت کی تحدید بھی کردی کیونکہ میاں صاحبان کے خلاف کیسز پچھلے 20سال سے منجمد ہیں ان میں کوئی سماعت نہیں ہو رہی کہ میاں صاحبان مقتدر تھے ظاہر ہے کہ یہ ان کے عہدے اور پوزیشن کی وجہ سے ممکن ہوسکا اب سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ایک جج صاحب کو تعینات کیا جائے گا جو تمام کیسوں کی پیش رفت پر نظر رکھ سکیں گے اور اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ کیسز کی سماعت تمام قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے دئے گئے محدود وقت کے اندر مکمل ہو آج کل ہر طرف سے اقامہ اقامہ کا غلغلہ بلند ہورہا ہے آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اقامہ ہے کیا یہ قیام سے نکلا ہوا لفظ ہے اقامہ کو انگریزی میں residence permit کہتے ہیں عربی میں اقامہ ہولڈر کو مقیم کہتے ہیں اس کی 3 کیٹیگریز ہیں پہلی کیٹیگری کاروباری حضرات کی ہے جن کو کاروبار کرنے کے لئے 3 سال کا قابل تجدید اقامہ ملتا ہے دوسری ملازمت کرنے والے لوگ جو وزارت محنت سے ورک پرمٹ حاصل کرتے ہیں جس کی بنا پر امیگریشن ڈپارٹمنٹ 2 سال کا اقامہ جاری کرتا ہے تیسری کیٹگری فیملی کی ہوتی ہے جس میں بیوی بچے اور شوہر شامل ہوتے ہیں جن کے اسپانسر ملک میں کاروبار یا ملازمت کرتے ہوں اقامہ آپ کو غیر محدود سفر کی سہولت فراہم کرتا ہے یعنی جب چاہیں ٹکٹ لیں اور چلے جائیں جب چاہے واپس آ جائیں ایرپورٹ امیگریشن صرف مہر لگاتی ہے اور بس اقامے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے آپ بینک اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں جس میں لوٹی ہوئی رقم رکھ سکتے ہیں رہائش لے سکتے ہیں مکان یا فلیٹ خرید سکتے ہیں اور اسی اقامے کی بنیاد پر آپ سویٹزرلینڈ میں اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں جب بھی سویز حکومت سے آپ کی حکومت آپ کے بارے میں پوچھے تو آپ کا نام نہیں آئے گا کیونکہ اس اکاؤنٹ میں آپ کا پتہ اقامے کے ملک کا ہوگا ہمارے علم میں ہے کہ سینکڑوں سیاستدان اور بیوروکریٹ اپنا اوراپنے خاندان کا اقامہ رکھتے ہیں ان کے پاکستان سے خروج اور دخول کے وقت با آسانی اقامہ چیک کیا جا سکتا ہے ایک اندازے کے مطابق سالانہ دس ارب ڈالر ملک سے باہر جاتے ہیں تو قارئین سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ پیسہ کہاں جاتا ہے جے آئی ٹی کے ارکان کی سپریم کورٹ نے بہت تعریف کی ہے یہ واقعی قومی ہیرو ہیں ان کی جرآت اور استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں ہمارا سپریم کورٹ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکنا چاہئے اب بلا استثنا سب کااحتساب ہونا چاہئے اور تیزی سے سماعت ہونی چاہیئے یہی ہماری بقا کا مسئلہ ہے اللہ ہم سب کو اس جانب چلنے کی توفیق عطا فرمائے اللہ پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔آمین