- الإعلانات -

’’بغل میں چھری ،منہ میں را م رام‘‘

بدقسمتی اورجہالت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ،ہماری اجتماعی بدقسمتی نے آج ہمیں اپنی تاریخ سے لاعلم رہنے پر ایسے دوراہے پر پہنچا دیا ، ہمیں یہ دن دیکھنے پڑرہے ہیں، جو ہمارے مقدر میں نہیں تھے کاش! ہم اپنی نظریاتی تاریخ کی جڑوں سے جڑے رہتے مفکرِ پاکستان علامہ اقبالؒ اور بانیِ پاکستان قائداعظمؒ نے ہمیں باربار یہ باورکرایا کہ ہندو ذہنیت کبھی بر صغیر کے مسلمانوں سے مخلص نہیں ہوگی ان پر کبھی اعتماد یا بھروسہ نہ کرنا، مگرافسوس! سیاسی مصلحتوں نے ہمیں سماجی وثقافتی اور اقتصادی مصلحتوں کی بے چارگیوں کی چکی کے پاٹوں میں پیس کررکھ دیا، اگر آج ہم اپنی نظریاتی تاریخ کے ساتھ اپنے رشتوں کی نازکتوں کو منسلک کیئے رکھتے تو جہاں آج ہم کھڑے ہیں وہاں نہیں ہوتے بلکہ ہم علاقائی ترقی وخوشحالی کی کئی منزلیں طے کرکے دیگر ایشیائی ممالک کی طرح کافی آگے نکل چکے ہوتے’ذرا ملاحظہ فرما یئے یہودی صیہونیوں نے جیسے’اکھنڈ اسرائیل’ کا خواب دیکھ رکھا ہے اور اپنے بے معنی خوابوں کی تعبیر کو یقینی بنانے کے لئے اکھٹے ہونا شروع کیا ہوا ہے، عین ایسے ہی ہندووں کا خواب ‘اکھنڈ بھارت’ ہے، جس کی سرحدیں بقول آرایس ایس کے’بنگال’ آسام نیپال پھروسطی کابل سے ایران کی مغربی سرحدوں تک پھیلی ہوئی اپنی عظیم سلطنت کا تصوراتی نقشہ بنائے اتراتے پھرتے ہیں لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ خواب دیکھنے پر تو کوئی پابندی بھی نہیں ہوتی ‘رواں برس مئی کے آخری عشرے میں بھارتی وزیر اعظم مودی اپنی بغلوں میں چھری چھپائے منہ میں رام رام کی مالاجپتے ہوئے پاکستان کے برادرمسلم ملک ایران کے سرکاری دور ے پر جاپہنچے اپنے ساتھ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے دستِ مبارک سے تحریرکردہ بغیر نکتوں کے قرآنِ پاک کا ایک نادر نسخہ لے کرایران کے عظیم روحانی پیشوا آیت اللہ علی خمینی کی پیشوائی کے لئے حاضرہوئے اِس موقع پراعلی ایرانی حکام جنہیں برصغیر کی مسلم حکمرانوں کی تاریخ کی بھرپور شناسائی کا علم تھاوہ بھی اِس موقع پر موجود تھے جو بھارتی چانکیائی ڈپلومیسی کی عیاریوں اور مکروفریب کی ہر کھلی اور مخفی چالوں کا برابر علم وادراک رکھتے تھے وہ مسکراتے ہوئے دیکھ رہے تھے کہ ایک ایسا مسلم دشمن قصاب نما شخص جس نے گجرات میں اپنی وزراتِ اعلی کے عہد میں ہزاروں مسلمان خاندانوں کو ریاستی سرپرستی میں قتل کروایا انہیں زندہ جلا وایا مسلم خواتین کی سربازار اجتماعی آبروریزی کی گئی ،کئی مساجد اور کئی امام بارگاہوں کو اپنے جنونی ہندو غنڈوں کو اکسا کر خاکستر کیا آج وہبکریبناہوا پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف بغض وعناد چھپائے کیسی مکارانہ ڈپلومیسی کررہا ہے؟ خالص ہندوتوا کا سیوک کار مودی یہ سمجھتا ہے کہ عظیم ایرانی قائدین خطہ میں مسلم نشاالثانیہ کی قابلِ فخر تاریخ سے ناآشنا ہونگے؟ بے خبر مودی! اسے علم تو ہی نہیں ہے کہ ایرانی اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی فرمایا کرتے تھے ‘جو شیعہ اور سنی کی بات کرتا ہے وہ اسلام کی خدمت نہیں کرتا ،بلکہ وہ سامراج کے ایجنڈے کی تکمیل کرتا ہیبھارت کا تو یہ شیوہ رہا جس ملک نے کبھی بھارت کے ساتھ کوئی عہد وپیمان باندھا بھارت نے اسی کی پشت میں چھری گھونپی، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا،چاہ بہار کی بندرگاہ پٹے پر لینے کے صلہ میں بھارت نے ایران کو کیا واپس کیا؟ ایرانی حکام یقیناًیہ بات کبھی نہیں بھول سکتے۔ امریکا جیسے عالمی سامراجی ملک کی منشاو ایماپربھارت نے دسمبر2016 میں ایران کے ایٹمی پروگرام کورول بیک کرنے کے لیے آئی اے ای اے کی قراردادکے حق میں اپنا ووٹ ایران کے خلاف استعمال کیا تھا، دنیائےِ اسلام کے سبھی ممالک کے ساتھ ایران کے خلاف یہ بھارتی چال پاکستانی قوم بھی نہیں بھولی ہے۔’ایران کی برداشت اور تحمل وبردباری کی اسلامی روش سے اگربھارت خیال کیے بیٹھا ہے کہ وہ ایک جانب دنیائےِ اسلام کے واحد ایٹمی صلاحیت کے حامل ملکِ پاکستان اور ایران کے مابین سفارتی تعلقات میں دراڑ ڈالنے میں کامیاب رہے گا تو یقیناًگمرا ہی کی سوچ پر ہے اس کا یہ سفارتی رویہ بہت ہی پست اور گھٹیا رویہ ہے ایران کی مستحکم علاقائی اسٹرٹیجک اہمیت وافادیت سے انکار ممکن نہیں بھارت اپنی سی سرتوڑکوششیں کرلے پاکستان کو بائی پاس کرکے وہ ایران پر اپنے جنونی فرقہ وارانہ تشدد پسندی کی ڈپلومیسی کو مزید زیادہ دن تک جاری نہیں رکھ سکتا ۔وسط ایشیائی ریاستوں تک اسے (بھارت) خطہ میں پاکستان کے ساتھ گزشتہ70 برسوں سے چلے آرہے مسئلہِ کشمیرسمیت سرحدی مسائل اورپانی جیسے انسانی ایشوز پر ہر قیمت پرمذاکرات کرنا ہونگے۔یہاں یہ بات بھی یادرکھی جائے کہ ایران دنیائےِ اسلام میں بڑی خصوصی اہمیت کا حامل اسلامی ملک مانا جاتا ہے دنیائےِ اسلام میں ایران کی بڑی قدرومنزلت ہے ایران کے روحانی پیشواآیت اللہ علی خمینی نے 26 جون 2017 کو اپنے پیغامِ عید الفطرمیں فلسطین سمیت دنیا کے دیگر مسلم ملکوں کے پریشان حال مسلمانوں کی حالتِ زار پر اپنی تشویش کا اظہارکیا غیرملکی اور غیر مسلم افواج کا مسلمانوں پر بڑابہیمانہ ظلم ہورہا ہے آیت اللہ علی خمینی نے مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی جنونی ریاستی دہشت گردی پر اپنی گہری تشویش کا نہ صرف اظہار کیا بلکہ انہوں نے مسلم دنیا کی تنظیم اوآئی سی کے ممبر ملکوں کی توجہ اِس جانب مبذول کرا ئی اور عالمِ اسلام کے کمزور اور محکوم مسلمانوں کے ساتھ اپنی بھرپور دلی وابستگی اور والہانہ ملی یکجہتی کا بھی برملا اظہار کیا تھا۔ یہ بات بھارت کو بڑی بری لگی تھی بھارت تو کیا بھارت کا آقا عالمی سامراجیت کا سربراہ ملک امریکا خود آجکل بڑی پیچیدہ اورگنجلک نوعیت کی اندرونی توڑپھوڑ کا شکار ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے اِس عالمی سپرپاور کی باگ دوڑ ایک ایسی غیرسنجیدہ اورغیر سیاسی شخص کے ہاتھوں میں آگئی جیسے کسی بندر کے ہاتھوں میں استرا دیدیا جائے لہذا ایسی فکرمند صورتحال میں دنیا کے دیگر ممالک کو بہت سوچ بچار کے ساتھ بہت محتاط ہوکر مغربی اور عالمی طاقتوں سے اپنے معاملات طے کرنے ہونگے۔ بھارت امریکی شہ پر کچھ ضرورت سے زیادہ ہی اعتماد کررہا ہے ایران’پاکستان اور دنیائےِ اسلام کے دیگر اہم ممالک یقیناًبھارت جیسے امریکی کٹھ پتلی دیش پر زیادہ بھروسہ اِس لئے نہیں کرسکتے کیونکہ اس کا عہد وپیمان کا سفارتی ٹریک ریکارڈ بہت تاریک ہے، پاکستان کے مسلمان عوام کو بھی یہ سن کر بہت تکلیف پہنچی اِس میں کوئی شک بھی نہیں بھارتی مسلمان بھی اِس پر اپنی تشویش کا حق رکھتے ہیں کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے بھارتی سیکولر طرزِ حکمرانی کو بالائے طاق رکھ کر حال ہی میں اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا جس پر دنیائےِ اسلام کے ہر اہم ملک کو شدید تعجب اور حیرت ہوئی چونکہ اسرائیل کی شہرت سوائے مسلم مخالفت میں بڑا نمایاں ہونے کے اور کچھ بھی نہیں۔ اسرائیل مشرقِ وسطی کا جغرافیہ تبدیل کرنے کا شدید آرزومند تو بھارت جیسا ابتدامیں ہم عرض کرچکے ہیں ‘اکھنڈ بھارت’کے نقشے میں ایران افغانستان سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک حصوں کو شامل تصورکرتا ہے یہاں یہ سوال یقیناًہر خوددار پاکستان کے لئے’ہر خوددار افغانی کے لئے’ وسطی ایشیائی ریاستوں کے خود دار مسلم باشندوں کیلئے اور مسلم ملک ایران کے ایمان میں پختہ انقلابی مسلمانوں کے لئے اپنے تشفی جواب کا متلاشی نہیں ہوسکتا کہ بھارت کو کیسے اجازت د ی جاسکتی ہے کہ دنیائےِ اسلام کو آسانی سے جیسے چاہے وہ روند لے؟ اس کے ہاتھ پاوں روکنے ہونگے اور اب پاکستان کے برادر پڑوسی ملکوں افغانستان کو اپنی اندرونی سلامتی کے پیشِ نظر اور عظیم مسلم ملک ایران کو اِس خطہ میں بڑھتی ہوئی بھارتی ڈپلومیسی کے مکروعیاری کے جگہ جگہ پر نصب بتوں کو مسمار کرنے کے لئے ایک نیا علاقائی میثاق کرنے کی جانب کوئی دیر کیے بنا فوری توجہ دینی ہوگی۔