- الإعلانات -

اپنی اصلاح کریں

چونکہ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے ایک روح دوسرا جسم روح کے بھی کچھ تقاضے ہیں اور جسم کے بھی اور دونوں کے درمیان توازن بھی ضروری ہے اور یہ توازن جب بگڑ جاتا ہے تو پھر اس کے نتائج انسانی سما جی کیلئے ہولناک ہوتے ہیں ایک ایسا معاشرہ جو افراط وتفریط کا شکار ہو اس میں انسان کی جسمانی ڈھانچے پر بھی منفی اثر پڑتا ہے اور وہ اخلاقیات کے حوالے سے بھی دیوالیہ پن کا شکار ہو جاتا ہے ۔ایک ڈاکٹر جنھیں ہم اکثرمریضوں کے بھیڑ دیکھتے تھے اور اوپی ڈی ہی میں ان سے ہماری ملاقات ہوتی تھی ، ان کے ساتھ تھوڑی سی ملاقات سے ہمیں بہت خوشی ہوتی تھی ،وہ صرف نسخے ہی نہیں لکھتے تھے بلکہ وہ ایک اچھے شاعر بھی تھے اکثراوپی ڈی میں بھی مریضوں کیلئے نسخہ لکھتے لکھتے بھی ان پر شعروں کا نزول شرو ع ہوجاتاتھا اور اچھا خاصا شعر لکھ لیتے تھے ،ملاقات پر ایک ادھ غزل ہمیں بھی پکڑادیتے تھے ،غیر مطبوعہ شکل میں ان کا کلام اب بھی ہمارے پاس موجود ہے جو ان کی یاد دلاتا ہے ۔ آج کل وہ دہر غیر میں مسافری کے مزے لوٹ رہے ہیں ،عرصہ کے بعد ہمیں ان کا ایک مکتوب ملاہے اور صحت کے حوالے سے انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس میں ہم اپنے قارئین کو بھی شامل کررہے ہیں۔ آج کے یہ سطوران کے خط پر مشتمل ہیں وہ لکھتے ہیں’’ڈبلیو ایچ او کی تعریف کے مطابق صحت صرف جسمانی صحت کا نام نہیں بلکہ کسی بھی انسان کے جسمانی ، معاشی، معاشرتی اورروحانی طور پر ٹھیک ٹھاک ہونے کے عمل کا نام ہے اور محض بیماری کا نہ ہونا صحت مند ہونے کی دلیل نہیں ہے۔اس تعریف کو مد نظر رکھا جائے تو ہم میں سے ہر دوسرا شخص مریض ہے ،کیونکہ ہمارے معاشرے میں تو اس شخص کو بیمار کہا جاتا ہے جسمانی طور پر کوئی بیماری یا معذوری لاحق ہو اور جب ہم صحت کی بات کرتے بھی ہیں تو ہمیں ان چار نکات میں سے کسی نہ کسی طور پر ضرور واسطہ پڑتا ہے ،کیونکہ ہم خود کسی نہ کسی طرح اس کے ظالم شکنجوں کا شکار ہیں مگر جذباتی اور روحانی صحت یامعاشرتی صحت پر تو کبھی بھی غور نہیں ہوتا حالانکہ جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ معاشی، معاشرتی اور روحانی طور پر بھی انسان کو صحت مند ہونا چائیے ۔اب اگر ہم صحت مند معاشرے کی بات کرتے ہیں تو سوچنا یہ ہے کہ کس کونے سے شروع کیا جائے جب یہ نکتہ لوگوں کے سامنے رکھا گیا تو بیشتر نے یہ کھا کہ جب تک جسمانی صحت نہ ہو ہم کچھ نہیں کرسکتے مگر اس نکتہ کو پرکھنے کیلئے جب ہم نے عام مشاہدہ کیا تو بڑے موٹے تازے اور صحت مندافراد کو معاشی ناہمواریوں اور روحانی بگاڑ کے باعث پاگل ہوتے دیکھا ہے اور یا کسی معاشرتی برائی کے ہاتھوں ختم ہوتے دیکھا ہے اسی طرح معاشرتی صحت سے جسمانی صحت تو خریدی جاسکتی ہے لیکن روحانی صحت ایک ایسی شے ہے جسے خریدا نہیں جاسکتا ہے اسی طرح بے پناہ دولت خود ایسی برائیوں اور جذبات کو جنم دیتی ہے کہ جس سے جسمانی صحت اور معاشرتی صحت بمعہ روحانی صحت زوال پذیر ہو جاتے ہیں کیونکہ یا تو خود صاحب زر نے یا جام و مئے یا غرور کا نشہ کرنا ہے اور یا لوگوں نے روحانی اور جذباتی طور پر اسے اکیلے چھوڑ دینا ہے اسی طرح اگر کوئی بہت صحت مند بھی ہو تو اسے باقی تین کھٹکے لاحق رہتے ہیں البتہ اگر جذباروحانی طور پر کوئی انسان توازن رکھتا ہو تو وہ اوروں کی بہ نسبت کم خطرے میں ہوتاہے ۔ہمارے ملک میں جتنی بھی تنظیمیں کام کررہی ہیں سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر ان میں صحت کی شروعات جسمانی صحت سے کی جارہی ہے ،حالانکہ ہمارے جیسے معاشرے کو اس سے زیادہ باقی نکات کی بیماریاں لاحق ہیں کیاہمارے پاس کوئی ایسا ظابطہ حیات نہیں ہے کہ جس سے ہم ان تمام نکات پربیک وقت کام کرسکیں؟ کیا یہ ہمارے لیئے لمحہ فکریہ نہیں ہے ؟۔ہماری قوم کی یہ بھی عادت بن چکی ہے کہ ہر کام دوسروں سے شروع کرتے ہیں اگر وہ معاشی حیثیت کانہ ہو تو ؟……آج اگر ہم یہ چوکور اپنے سامنے رکھیں اور خود سے خود آگاہی کا سفر شروع کریں اور اپنی اصلاح کریں۔

 

بے خانماں۔۔۔ شوکت کاظمی
زمیں پر بھی نہ ٹھہرے آسماں تک بھی نہیں پہنچے
کہ ہم بے نماں اس آستاں تک بھی نہیں پہنچے
درِ دولت سے کچھ خیرات ملتی یا نہیں ملتی
تہی داماں تو دستِ مہرباں تک بھی نہیں پہنچے