- الإعلانات -

پاناما کیس کا فیصلہ،آگے بڑھنا چاہئے

2016ء کو پاناما لیکس میں وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام سامنے آئے تو ملک میں سیاسی بھونچال کا آغاز ہو گیا،اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے وزیراعظم نوازشریف سے اخلاقی گراؤنڈز پر استعفیٰ طلب کیا اور پھر پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتوں نے بھی پاناما لیکس میں وزیراعظم کے خاندان کے نام آنے پر اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ شفاف تحقیقات کیلئے وزیراعظم پر استعفیٰ کیلئے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا تاہم وزیراعظم نے قوم سے اور قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران لندن فلیٹس کی وضاحت دی اور عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیاجس پرحکومت اور اپوزیشن کے درمیان عدالتی کمیشن کے ٹی او آرز پر بات چیت کی گئی لیکن بات کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو پاکستان تحریک انصاف سڑکوں پر نکل آئی اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 2نومبر2016ء کو اسلام آباد لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔حکومت اس لاک ڈاؤن کو ناکام بنانے کیلئے متحرک ہوئی اور پی ٹی آئی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی۔وزیراعلیٰ کے پی پرویز خٹک کی سربراہی میں آنے والے قافلے کو ایم ون پر روک لیا گیا اور اس پر شدید شیلنگ کر کے اسکے اسلام آباد داخلے کومشکل بنا دیا۔وفاق کی منتخب قیادت نے کے پی کی منتخب قیادت کو محض اس وقت تک ایک مفروضے کی بنیاد پر پولیس گردی کا نشانہ بنایا۔ملک میں شدید افراتفری کا عالم تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما کیس کو سننے کا فیصلہ کیا جس کی پہلی سماعت اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں عدالتی بینچ نے سماعت کی تاہم کچھ سماعتوں کے بعد چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کیس کی سماعت جنوری 2017ء کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ میں 31دسمبر کو ریٹائر ہو رہا ہوں اس لیے اس کیس کی سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل دیا جائے۔جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس حلف لیا ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے پاناما کیس کی سماعت کیلئے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں5رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا جس نے 4جنوری 2017ء کو کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی بینچ نے مقدمے کے تمام فریقین کو مکمل طور پر سننے کے بعد23فروری کو فیصلہ محفوظ کیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں5رکنی لارجر بینچ نے 20اپریل کو ایک عبوری فیصلہ سنایا۔فیصلے کے مطابق بینچ کے دو ججز نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا جبکہ باقی تین ججزنے الزامات کی مزید تحقیقات کی ضرورت محسوس کی جس پر عبوری فیصلے میں حکم دیا گیا کہ معاملے کی مزید تفتیش کیلئے دو ہفتوں کے اندرایک جے آئی ٹی تشکیل دی جائے جو کہ 60دنوں میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ سپریم کورٹ کو جمع کرائے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ جے آئی ٹی ہر 15روز کی پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گی۔سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کا سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے واجد ضیاء کو مقرر کیا،جے آئی ٹی کے باقی 5ممبران میں ایم آئی کے بریگیڈیئرکامران خورشید،آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر محمد نعمان سعید،سٹیٹ بینک آف پاکستان کے افسر عامر عزیز،سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کمیونیکیشن بلال رسول،نیب افسر عرفان نعیم منگی شامل تھے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ جے آئی ٹی جس کو بھی طلب کرے اسے حاضر ہونا پڑیگا۔جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس8مئی کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ہوا۔جے آئی ٹی نے پاناما مقدمے سے متعلق وزیراعظم،انکے بچوں،شہباز شریف ،رحمان ملک،طارق شفیع،اسحاق ڈار،چیئرمین نیب،چیئرمین ایف بی آر سمیت دیگر افراد کو طلب کیا اور انسے کیس سے متعلق پوچھ گچھ کی۔جے آئی ٹی نے اپنی پہلی پیش رفت رپورٹ22مئی ،دوسری7جون اور تیسری پیش رفت رپورٹ22جون کو سپریم کورٹ جمع کرائی۔جے آئی ٹی نے اپنی مکمل تحقیقاتی رپورٹ10جولائی کو سپریم کورٹ جمع کرائی جس کے بعد سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 5دن سماعت کی اور کیس کا فیصلہ 21جولائی کو محفوظ کیا۔پاناما کیس273دن چلا اور50سماعتیں ہوئیں۔150گھنٹے عدالت نے اس کیس کو سنا اور پھر 28جولائی2017ء کو سپریم کورٹ نے پاناما مقدمے کافیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا۔مقدمے کا فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے ہی سنایا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وزیراعظم نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے،وزیراعظم فوری طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیں،الیکشن کمیشن وزیراعظم کی نااہلی کا نوٹیفکیش جاری کرے،وزیراعظم نے عدالت کو غلط معلومات دیں،غلط معلومات فراہم کرنے پر انکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی،فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ نواز شریف نے 2013ء کے انتخابات میں درست اثاثے پیش نہیں کیے۔سپریم کورٹ نے نواز شریف،حسن نواز،حسین نواز،مریم نواز کیخلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنیکا بھی حکم دیا۔عدالت نے وزیراعظم کیخلاف ہل میٹل،عزیزیہ مل کا ریفرنس اور لندن فلیٹس پر بھی ریفرنس دائر کرنیکا حکم دیا۔اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسحاق ڈاراور کیپٹن (ر)صفدر کو آمدن اور اثاثہ جات میں مطابقت نہ ہونے پر نااہل قرار دیا اور دونوں کیخلاف مقدمات قائم کرنے کیلئے نیب کو ریفرنس دائر کرنیکا حکم دیا۔ریفرنسز 6ہفتوں میں دائر اور انکا فیصلہ 6ماہ میں کرنیکا بھی عدالت نے حکم دیا۔شریف فیملی کی جانب سے جے آئی ٹی پر بھرپور طریقے سے تنقید کی جاتی رہی حالانکہ جے آئی ٹی کے اعلان پر حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے بہت خوشی کا اظہار کیا تھا۔چونکہ جے آئی ٹی نے بغیر کسی دباؤ پر آزادانہ اور شفاف تحقیقات کیں اس لیے ن لیگ کی تنقید کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔عدالت کا فیصلہ آچکا ہے کوئی مانے یا نہ مانے مگر عدالتی فیصلہ ہر ایک کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ملک کے موجودہ ماحول میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔عدالت نے اس کیس سے متعلق ہر پہلو کو مدنظر رکھا یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے کام کو سراہا اور انکے تحفظ کیلئے بھی حکم جاری کیا۔جے آئی ٹی ممبران نے جس دلیری کیساتھ کام کیا تاریخ میں اسے سنہری حروف میں لکھا جائیگا ۔پاناما کیس کو لیکر چٹان کی طرح جو سیاسی جماعت کھل کر سامنے آئی اس کا نام ہے پاکستان تحریک انصاف۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سمیت دیگر رہنما اور پی ٹی آئی کارکنوں کی جہد مسلسل بھی لائق تحسین ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ پی ٹی آئی،جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ نے اس ملک اور اس ملک کے نظام پر پاناما مقدمے کے ذریعے احسان کیا ہے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا۔اب تک جو ہوا سو ہوا مگر اب ہم سب کو آگے بڑھنا ہے اور اس بات کی کوشش جاری رکھنی ہے کہ قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے ،طبقاتی نظام اس ملک کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ہم سب کو ملکر اداروں پر حکمرانوں کا اثرورسوخ کا بھی ازسر نو جائزہ لینا پڑیگا اور جہا ں جہاں خامیاں موجود ہیں انکو دور کرنا ہو گا،پاناما کیس کا فیصلہ پی ٹی آئی ،جماعت اسلامی،عوامی مسلم لیگ کی جیت یا حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی ہار نہیں ہے اس کیس کو محض اسی لحاظ سے لینا چاہئے کہ جان بوجھ کر یا انجانے میں جس سے بھی قانون پر مکمل عمل نہ کرنیکی غلطی ہوئی اس کو خمیازہ بھگتنا پڑا۔کوئی بھی جرم چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا بلکہ جرم جرم ہوتا ہے اس لیے جو بھی جرم کرے اس کو سزا ہونی چاہئے کیونکہ آئین سپریم ہے۔اگرہم اس ملک سے مخلص ہیں تو پاناما فیصلے کو مثال بنا کر آگے بڑھنا چاہئے اور ملکی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا چاہئے ۔ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اس فیصلے کو لیکر کوئی اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لے اور پھر اداروں سے ٹکراؤ کا کھیل شروع کر دے اس سے ملک کو نقصان ہو گا۔ملکی ترقی کیلئے اداروں کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو اپنے قول و فعل میں تضاد نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ اگر کسی کو دیمک لگ جائے تو اسکا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں،سیاسی جماعتیں اور انکے تمام رہنما اس ملک کی بنیادیں ہیں لہٰذا کم از کم انکو دیمک نہیں لگنی چاہئے ان کے کردارصاف ستھرے ہونے چاہئیں۔یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ ممالک اور قوموں کی ترقی کیلئے کچھ ڈیفائننگ مومنٹس آتے ہیں اور ان مومنٹس کو بھی ہمیں ہی ڈیفائن کرنا ہوتا ہے کوئی باہر سے آکر نہیں بتائے گا کہ یہ وقت سدھرنے کا ہے۔