- الإعلانات -

سیاسی الارمنگ سچوئشن

اس وقت سیاست کا ایک گورکھ دھندہ کھلا ہواہے ،ہرکوئی اپنی اپنی سیاسی چال چل رہا ہے ،بساط پھیلی ہوئی ہے ،کچھ پتہ نہیں کہ کس کارڈ کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا ،شاید کوئی بہت پرانی سیاسی تاریخ دہرائی جانے والی ہو ،کوئی آجائے گا کوئی چلا جائے گا ،کوئی پھنس جائے گا،کوئی خوش فہمی میں مارا جائیگا،کوئی اختیارات کے نشے میں ’’انارکلی‘‘بن جائیگا ۔آج ہمیں یاد آرہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو بھی بہت زیادہ بااعتماد ہونے کے چکر میں پھنس گئے تھے اور آخرکار انہیں تختہ دار کی رسی کو چومنا پڑا جب انسان اختیارات کے زوم میں پھنس جاتا ہے تو پھر وہ سوچتا ہے کہ اس کے آگے چلنے والے تمام معاملات خس وخاشاک کی طرح ہیں مگر در حقیقت ایسا نہیں ہوتا چونکہ حکمرانی کا تقاضا ہی اختیارات کا ہے اس لیے اس کرسی پر بیٹھنے والا یہ سوچتا ہی نہیں کہ اس نے کبھی اترنا ہے یا نہیں ۔ن لیگ اس وقت وزارت عظمیٰ کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے ہم نے نوازشریف جب وزیراعظم تھے تو انہیں گیارہ اوربارہ جولائی اس کے بعد 29جولائی 2017ء کو کچھ کلیدی مشورے دئیے شاید اگران پرعمل کرلیتے تو پھر آج ایسے حالات نہ دیکھنے پڑتے ۔کیونکہ یہاں جمہوریت کی تاریخ بھی کچھ عجیب ہی ہے ایک وزیراعظم جاتا ہے پھر دوسرا آتا ہے تو زیادہ دور نہیں ذرا سے ماضی میں جاکر دیکھیں جب یوسف رضا گیلانی عدالت عظمیٰ سے وزارت عظمیٰ کیلئے نااہل ہوگئے تو آصف علی زرداری نے راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم بنایا اور پھر انہیں دیگر مسائل کے علاوہ سب سے اہم الزام کا سامنا کرنا پڑا کہ ان کا نام رینٹل پاور کیس میں بولا جانے لگا اور اس حوالے سے انہیں ایک خاص نام سے بھی موسوم کیا جانے لگا ۔اب بھی حالات کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں ۔نوازشریف کو انتہائی زیرک نظری سے کام لینا ہوگا ۔ن لیگ کے ساتھ کیا ہورہا ہے ہم اس بحث میں نہیں جاتے کہ یہ اندرون خانہ ہے یا بیرون خانہ ۔دیکھنا یہ ہے کہ وہ حالات کامقابلہ کیسے کرتے ہیں ۔اس وقت نوازشریف کے جانے کے بعد لاہورسے این اے 120کی جو سیٹ خالی ہوئی ہے اس پر پی ٹی آئی کی طرف سے ڈاکٹریاسمین شہباز شریف کا مقابلہ کریں گی ۔اب کہاں شہباز شریف اور کہاں ڈاکٹر یاسمین یقینی طور پر شہبازشریف فتح یاب ہوں گے ۔جب شہباز شریف مسلم لیگ ن کے مستقل وزیراعظم کی حیثیت سے وفاق میں قدم رکھیں گے ۔اس وقت پنجاب کی سیٹ خالی ہوگی اور عرصہ دراز کے بعد پنجاب ن لیگ کے ہاتھ سے نکلتا ہوا نظر آئے گا لیکن شاید نوازشریف نے اس کیلئے بھی دو،تین امیدواروں پر غور شروع کررکھا ہے،جن میں حمزہ شہبازشریف ،میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن وغیرہ شامل ہیں ۔تاہم یہ بات واضح ہے کہ ان لوگوں کی سیاسی پکڑ شہباز شریف جیسی نہیں ہے ۔اس اعتبار سے ن لیگ کو پنجاب میں کچھ نہ کچھ دھچکا ضرور پہنچے گا ۔سوچنے اورسمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ آخر کار شہبازشریف کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے اپنا اتنا کمزورامیدوارکیوں کھڑا کیا ہے ۔یہ بات میاں نوازشریف کیلئے سوچنے اورسمجھنے کی ہے ۔باخبر حلقے یہ بھی خبر دے رہے ہیں بہت زیادہ امکانات یہ ہیں کہ صدر مملکت کی جگہ ایک نئے صدر صاحب تشریف لائیں گے اور اس کیلئے یارلوگ کہتے ہیں کہ چوہدری نثار علی خان کا نام لیا جارہا ہے ۔بات تو کچھ سمجھ آنے کی ہے کیونکہ چوہدری نثار علی خان کی ن لیگ سے وابستگی بہت پرانی اور پختہ ہے پھر انہوں نے گذشتہ دنوں کچھ شکوے ،شکایات بھی کیے جس کے تحت بہت سی چیزیں سامنے بھی آگئیں ۔جب صدر مملکت کی تبدیلی کی کوئی یاران باخبر بات کرتے ہیں تو راقم الحروف کو بات نہیں کیوں صدر فاروق لغاری یاد آجاتے ہیں ۔اب گہری سیاست کی چال چلی جارہی ہے ۔اس بچھی ہوئی بساط میں کس کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے اورکون اس میں فتح یاب ہورہا ہے اس کا فیصلہ پارٹی کے جو سربراہان ہیں انہوں نے کرنا ہے کیونکہ اس وقت اگر ایک پیادہ بھی غلط چال چل گیا تو اس کے نتائج بہت دوررس برآمد ہوں گے ۔ابھی تو دھول بھی صحیح طرح نہیں بیٹھی جب ایک بھارتی تاجر جندال اچانک پاکستان آیا ۔وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات ہوئی اور وہ واپس چلا گیا ۔اس کے بعدبہت زیادہ گردوغبار اٹھا پھر کچھ خاموشی ہوگئی ۔مگر معاملات ابھی تک ڈان لیکس کی طرح مخمصے کا شکار ہیں ۔ہم تو یہاں یہ کہیں گے کہ پاکستان میں اس وقت ایک سیاسی بھنور چل رہا ہے اس بھنور کے اندر جو بھی گیا وہ چکر کھاتا ہوا نیچے تک ہی جائے گا ۔آنے والے وقتوں میں کیا ہونے جارہا ہے ۔کس کس کیخلاف کیا کیا کیس کھلیں گے ۔کس کس کی گرفتاریاں ہونگی اور کیا کیا مقدمات کھلیں گے ۔اس وقت کے آنے سے پہلے مسائل کو حل کرلینا چاہیے ۔یہ نہ ہو کہ پھر کوئی ایسی سیاسی تاریخ دہرائی جائے کہ اسے کچھ اچھے لفظوں میں یاد نہ رکھا جاسکے ۔