- الإعلانات -

جمہوریت کے تسلسل کو جاری رہنا چاہیے

سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 55,50 دن میں شہباز شریف منتخب ہوکر آجائیں گے آپ سب ان کی حمایت کریں استعفے کیلئے دباؤ نہ مانا تو نکال دیا گیا، احتساب صرف میرا ہی کیوں ملک میں باقی سب کیا صادق و امین ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میری نا اہلی کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی، صرف اس چار سالہ دور میں نہیں بلکہ پچھلے ادوار میں بھی کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ میرا دامن صاف ہے، مجھے صرف اس بات پر نکالا گیا کہ میری جلا وطنی کے دنوں میں ویزا لینے کیلئے بہت مشکلات تھیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پچھلا سوا سال ہمارا پانامہ کے مسئلے میں ہی گزرا ہے اور بے پر کی اڑائی گئی ہے اتنی دھول اڑائی گئی، کوئی چینل کچھ کہہ رہا ہے، کوئی کچھ کہہ رہا ہے، نابالغ سیاستدانوں نے جھوٹی تہمتوں کی حد کر دی اور آج خود بھی اسی الزام میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہمیں خدا نے بہت سرمایہ دیا اور اس کے ذرائع بھی دیئے مگر یہاں تو وہ لوگ سرمایہ دار ہیں جن کے پاس ذرائع بھی نہیں ہیں،وہ بھی بتائیں کہ یہ سب کہاں سے لائے ہیں،1972 میں ہماری انڈسٹری ٹاپ پر تھی جسے قومیا لیا گیا، اس وقت تو میرے پاس کوئی عہدہ بھی نہیں تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیا باقی سب صادق اور امین ہیں اس ملک میں، مجھے بہت لوگوں نے کہا تھا کہ استعفیٰ دے کر کیس لڑو، اگر میرا ضمیر مجھے ملامت کرے اور میں نے غلط کام کیا ہوتا تو میں ضرور استعفیٰ دے دیتا، میں نے استعفیٰ نہیں دیا تو ویسے نکال دیا گیایہ لمحہ فکریہ ہے ہم سب کیلئے، میں 20,25 سال پہلے نظریاتی آدمی شاید نہیں تھا مگر آج نظریاتی آدمی بن چکا ہوں۔ جو جدوجہد میں نے کی ہے اس سے مجھے نظریہ ملا، 14مہینے تک قید رکھا گیا،7سال جلا وطن رکھا گیا جب بھی ملک میں مارشل لاء لگتا ہے تو اس کے پیچھے ساری فوج نہیں ہوتی بلکہ چند لوگ ہوتے ہیں، اب بھی یہی کہتا ہوں کہ پاکستان نے اپنی منزل پانی ہے تو آئین اور قانون کی پاسداری ہی ایک ایسا راستہ ہے جس پر چل کر ترقی و خوشحالی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔ 70سال کی تاریخ اچھی نہیں مگر آئندہ ایسا نہ ہو، آج تک کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا اور اسمبلیاں بھی لگاتار توڑی جاتی رہی ہیں، اگر ایسے معاملہ چلتا رہا تو خدانخواستہ ملک کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتا ہے، ہم نے پاکستان کو بدلنا ہے، میں اقتدار کی خاطر یہ بات نہیں کر رہابلکہ پاکستان کو سہی ڈگر پر لانے کیلئے آپ لوگوں نے میرا ساتھ دینا ہے، میں اپنی 35,40سالہ جدوجہد کو ضائع نہیں کرنا چاہتا بلکہ چاہتا ہوں کہ جدوجہد اس ملک اور قوم کے کام آئے اور اس کا فائدہ 20کروڑ عوام کو پہنچے۔ پاکستان کو مصیبتوں سے نکالنے کے علاوہ میری کوئی خواہش نہیں، ہم ابھی تک پیچھے جا رہے ہیں، آج پاکستان کے اندھیرے چھٹ رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہم اس کے مستحق نہیں ہیں، ہماری ساتھ بہت غلط سلوک کیا گیا۔ سابق وزیراعظم نے بجا فرمایا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب بھی عدالتیں فیصلہ دیتی ہیں ان پر حرف گیری اور رائے زنی کی جاتی ہے حالانکہ عدالت قانون و آئین کے تناظر میں فیصلہ دیتی ہیں۔ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ دوررس نتائج کا حامل ہے۔ نواز شریف کو اس پر آنسو بہانے کی بجائے اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہیے اور اس فیصلے کو قبول کرنا چاہیے۔ وضاحتیں اور دلیلیں اب بے معنی ہیں ہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کو فعال اور متحرک بنانے کیلئے صائب مشوروں سے نوازیں، جمہوریت کا تسلسل جاری رہنا چاہیے یہی وقت کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ متنازع بنانا کسی بھی لحاظ سے سود مند قرار نہیں دیا جاسکتا ا س فیصلے کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ جمہوری استحکام کیلئے آئین و قانون کی پاسداری کی جائے اور جمہوریت کا تسلسل جاری رہنا چاہیے۔
اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی
قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے و زیر اعظم کے انتخاب کے معاملے پر مشاورت کیلئے پاکستان تحریک انصاف ‘ جماعت اسلامی پاکستان ‘ ایم کیو ایم ‘ اے این پی ‘ مسلم لیگ (ق) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے کئے ہیں۔ گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر ہنگامی طور پر اسلام آباد پہنچے۔ امیر جماعت اسلامی سنیٹر سراج الحق ،تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی ‘ آفتاب شیر پاؤ ‘ چوہدری پرویز الہٰی سے ٹیلیفون پر وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر اپوزیشن کے ممکنہ لائحہ عمل پر بات چیت کی۔ ملک کی تیزی سے تبدیل ہوتی سیاسی صورتحال اور وزیر اعظم کے انتخاب میں حصہ لینے کی حکمت عملی کی تیاری کیلئے اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔
چینی وزارت خارجہ کا حوصلہ افزا بیان
چین نے کہاہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی سے پاک چین تعلقات متاثر نہیں ہوں گے،پاک چین دوستی سدابہار اور ہر دور میں آزمائی ہوئی ہے۔چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لْو کانگ نے گزشتہ روز سپریم کورٹ سے وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی پر سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کا ’’اندرونی معاملہ‘‘ ہے اور اس فیصلے سے دیرینہ پاک چین تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔لْو کانگ کا کہنا تھا کہ ایک دوست پڑوسی کی حیثیت سے چین کو امید ہے کہ پاکستان کی تمام جماعتیں اور تمام طبقات اپنے قومی و ملکی مفادات کی درست ترجیحات کے تعین، اندرونی معاملات کو موزوں طور پر سنبھالنے، اتحاد و استحکام برقرار رکھنے، اور معاشی و معاشرتی ترقی پر توجہ رکھنے کے قابل ہیں۔چینی وزارتِ خارجہ کا مؤقف دیتے ہوئے لْو کانگ نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا منصوبہ اس اندرونی سیاسی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوگا کیونکہ پاک چین دوستی سدابہار اور ہر دور کی آزمائشوں میں ثابت شدہ ہے۔ پاکستان کے ساتھ مل کر ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ منصوبے پر کام جاری رکھنے کیلیے چین بالکل تیار ہے۔ چین نے بجا فرمایا نواز شریف کی نا اہلی سے دوطرفہ تعلقات متاثر نہیں ہونے چاہئیں اور جاری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہے حکمران آتے جاتے رہتے ہیں اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ چین اور پاکستان کی دوستی مثالی ہے اسے قائم رہنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔
ایرانی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل پنجگور میں ایرانی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے چار افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہونے کی اطلاع ہے یہ واقعہ افسوسناک ہے پاکستان کو پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چاہیے اور خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرتے ہوئے اسے موثر بنانے کی ضرورت ہے ۔ ایران فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ قابل مذمت ہے ایران کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں سے گریز کرے تاکہ دوطرفہ تعلقات کشیدہ نہ ہوں یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔ اسلامی ملکوں کے درمیان فاصلے کم ہونے چاہئیں ورنہ دشمن عناصر مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اپنے عزائم کی تکمیل کرتے رہیں گے اور مسلمانوں کا شیرازہ بکھرتا چلا جائے گا۔ اسلامی ملکوں میں اتحاد وقت کی ضرورت ہے اس کے بغیر مسلمان زیر نگوں رہیں گے۔