- الإعلانات -

پانامہ کافیصلہ ۔۔۔نئے کھیل کاآغاز

پانامہ گیٹ کافیصلہ آچکا اور اس پر تبصرہ اس لئے نہیں کرناچاہتا کہ فیصلے سے قبل گلی گلی یہی فیصلہ متوقع تھا پہلے ایک سال قوم کاضائع کرکے اسے جے آئی ٹی کے حوالے کیاگیا اور پھر جے آئی ٹی کی سفارشات کو چھوڑ کر ایک ایسے ایشو پر نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دیاگیا جس کی ڈیمانڈ مدعیان نے کی ہی نہیں بہرحال یہ تو قانون کی شدبد رکھنے والے لوگ ہی بہتر بتاسکیں گے کہ فیصلہ درست تھا یا یہاں بھی ذوالفقارعلی بھٹو والامعاملہ درپیش تھا بھٹو صاحب کی شخصیت بھی کس قدر سحرانگیز ہے کہ چالیس سال گزرجانے کے باوجود بھی پاکستانی سیاست میں موجود ہیں جن دنوں نواب محمداحمدخا ن کے مبینہ قتل کامقدمہ سپریم کورٹ میں ز یرسماعت تھا تو اس دوران انہوں نے اپنا ایک تاریخی بیان ریکارڈ کروایاتھا سیاست اور تاریخ کے طالبعلموں کو اس بیان پرمطالعہ ضرور کرناچاہیے بھٹو صاحب کے بیان کے ایک حصے کااقتباس ملاحظہ فرمائیں ’’جناب والا جب بھی کوئی بندہ موت کی کوٹھڑی میں پڑا ہوتاہے تو اس پرزندگی کی تمام ترحقیقتیں عیاں ہوجاتی ہیں اور اسے اپنی تمام ترغلطیوں کابھی احساس ہوجاتا ہے سرائیکی زبان برصغیر پاک وہند کی ایک میٹھی زبان ہے اسے وہ حق نہیں ملا جو ملناچاہیے تھا اگر مجھے دوبارہ زندگی ملی اوراقتدار میں آیا تو میں اسے قومی زبان کادرجہ دیکررہوں گا یہاں پر انہوں نے معروف سرائیکی شاعرخواجہ غلام فرید کے کلام کا ایک مصرعہ پڑھا کہ
درداں دی ماری جندڑی علیل ہے‘‘
میاں محمدنوازشریف کو وزارت عظمیٰ چھوڑے اڑتالیس گھنٹے سے زائد ہوچکے ہیں اوریقیناً ان پر زندگی کی بہت ساری حقیقتیں آشکارہوچکی ہونگی انہیں پتہ چل چکا ہوگا کہ جن پر وہ تکیہ کئے بیٹھے ہوئے تھے ان پتوں نے کیسے اور کب ہوادی ۔یقیناً انہیں اپنے درباریوں اور سپریم کورٹ کے باہر میلہ لگانے والے نام نہاد فدائیوں کابھی پتہ چل چکا ہوگا ۔مجھے توافسوس اس بات کاہے کہ پینتیس سال پاکستانی سیاست میں گزارنے کے باوجود اور ہتھکڑیاں ،اٹک قلعہ اور جلاوطنی جیسے مراحل کے باوجود بھی وہ سیاست کے زمینی حقائق سے واقف نہیں ہوپائے ۔میاں صاحب چاہتے تو ان معاملات سے اپنادامن بچاکرگزرسکتے تھے اور اس سنگین سزا کی لپیٹ میں بھی آنے سے بچ سکتے تھے مگر نہیں معلوم کہ انہیں کس نے ایسا کرنے سے روکا اس بات میں کوئی شک نہیں کہ برطرفی کے باوجود وہ آج بھی پاکستانی قوم کے ایک کثیرطبقے کے مقبول ترین رہنما ہیں جب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ معاملہ جے آئی ٹی کو ریفرکرکے اس سے رپورٹ طلب کی گئی تو اس وقت مسلم لیگ کے دوستوں نے مٹھائیاں بانٹیں، ریلیاں نکالیں اور خوشی کا اظہار کیا ۔آج اس فیصلے کے بعد ایک اخبارنویس ہونے کے ناطے میں یہ محسوس کرتاہوں کہ گیم ختم نہیں ہوئی بلکہ اصل گیم تو اب شروع ہوئی ہے کہ جوطاقت ورطبقات شریف خاندان کو سیاست سے باہررکھنے کے خواہش مند تھے میاں شہبازشریف کو وزیراعلیٰ نامزد کرکے انہیں یہ جواب دیاگیا ہے کہ جوکرنا ہے وہ کرلووزارت عظمیٰ شریف خاندان کے اندر ہی رہے گی ۔اس پیغام کے اثرات آنے والے دنوں میں بخوبی دیکھے جاسکیں گے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی جو سخت ترین بات سامنے آئی ہے وہاں سے اصل گیم شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ جس میں اسحاق ڈار، حسن نواز، حسین نواز اورمریم نواز اورمیاں نوازشریف کے کیسز نیب کو ریفرکرنے اور پھر ان پر سپریم کورٹ کاایک جج تعینات کرنے کا حکم ہے ۔ مجھے یوں محسوس ہورہاہے کہ نیب کے ذریعے شریف خاندان کے ان ذمہ دارافراد کو قید بامشقت سنائے جانے کافیصلہ بھی شاید کہیں ہوچکا ۔ ان حالات میں میاں محمدنوازشریف اور ان کے ساتھیوں کو حالات کی نزاکت اورسنگینی کاادراک کرتے ہوئے اپنے معاملات معاملہ فہمی سے حل کرنے چاہئیں اور کوشش کرنی چاہیے کہ اداروں کے مابین ٹکراؤ پیدانہ ہو،تاکہ ملکی استحکام میں کوئی دراڑ نہ پڑسکے ۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے فیصلے کوآج تک قوم نے قبول نہیں کیا دیکھیں میاں محمدنوازشریف کی برطرفی کے فیصلے کو قوم کس نظر سے دیکھتی ہے۔
****