- الإعلانات -

افغان عوام کیلئے۔پاکستانیوں کا اظہارِاخوت

علم’معلومات’ شعوری آگہی بلکہ ‘مکمل نالج’ یعنی علم کی اصل محوری اہلیت وصلاحیت’ ایسا علم جو مکمل ہو ادھورا نہ ہو’کیونکہ علم کے بارے میں صاحب الرائے ثقہ اورعالم وفاصل دانشوروں کا مانا ہے کہ ‘تھوڑا علم خطرناک ہوتا ہے’ جو بندے کو گمراہی کے پاتال میں جا پھینکتا ہے’مطلب یہ کہ بہت سی چیزوں یا باتوں کے بارے میں نصف یا ادھوری معلومات رکھنے سے بہترہے کہ بندہ ‘کورا’ ہو، یا خاموشی کو ترجیح دے کوئی غلط معلومات اور کمزور بات اپنی زبان سے نہ نکالے’ تومعلوم ہوا کہ ‘علم دوطرح کا ہوتا ہے کسی موضوع کے بارے میں یاتوکوئی حتمی رائے کا اظہار کرنے سے قبل جوشخص بات کہہ رہا ہے وہ خود کو پہلے جانچ لے کہ وہ جوبات کہنا چاہ رہا ہے یا جورائے قائم کرنا چاہ رہا ہے وہ کسی طور غلط یا مبہم نہیں بلکہ صحیح ہے’عقل کی کسوٹی پرپوری اترتی ہے’اگر وہ صحیح ہے تواْسے دوسروں کواپنا ہم خیال بنانے سے قبل یہ علم بھی برابر ہونا چاہیئے کہ اْس نے یہ معلومات کہاں سے حاصل کیں خود کہیں پڑھا ہے اْسے کے ذرائع کیا تھے؟ جہاں سے بھی اْس نے یہ معلومات حاصل کیں وہ کسی جھوٹے اورکمزور ذرائع سے تو حاصل نہیں کیں اورجب معاملہ خالص انسانی بقاء اوردوطرفہ انسانی معاشروں کے مابین باہمی تعلقات کی نسل درنسل تاریخ سے تعلق رکھتا ہو’ یہی نہیں بلکہ قوموں اورملکوں کے مابین تعلقات کی نازک تدوین وترتیب کے تقاضوں کی سچائی سے متعلق ہو تو ایسی روایت کو بیان کرنے والے کو بہت ہی زیادہ احتیاط اورمحتاط ذرائع پربھروسہ کرنا چاہیئے’یہ تمہید تھوڑی دقیق اِس لئے ہوگی کہ یہ زمانہ چونکہ جدید معلوماتی ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے کمپیوٹر انفارمیشن کے اِس جدید عہد میں معلومات کی اصلیت کو جانچنے کیلئے بڑی تگ ودو کرنی پڑتی ہے خاص کر اْن معاملات میں جسے باالفاظِ دیگر سیاسی وسفارتی تعلقات میں مشترکہ مفادات کی رْو سے آجکل بڑی اہمیت حاصل ہے ۔یہاں ہمارا مقصد یہ عرض کرنا ہے کہ پاکستان کو خطہ میں اپنے جغرافیائی پڑوسی مسلم برادر ملک افغانستان کے ساتھ صدیوں کے ملی’ ثقافتی’ سماجی اور یکساں معاشرتی تعلقات میں مسلسل غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا کرنے میں کئی دشمن ممالک نے ایسی ایسی غلط’نافہم’ بے سروپا اور گمراہ کن پروپیگنڈامہمات چلا کر پاکستانی افغانی مسلمان عوام کے مابین اپنی سی سرتوڑ کوششیں کرلیں کہ افغانی عوام اور پاکستانی عوام ایک دوسرے کیلئے اجنبی سے اجنبی بنتے چلے جائیں دونوں برادر قوموں کے درمیان فاصلے بڑھیں افغانی اور پاکستانی عوام بنائے اتحاد کی منزلیں طے نہ کرپائیں’اتحاد واشتراک سے ایک دوسرے کے قریب نہ ہونے پائیں مگر پاکستانی سیکورٹی اداروں نے پاکستان کے اِن ازلی دشمنوں کے ایسے گمراہ منصوبوں کو اپنے برادر افغانی مسلمان عوام کے ساتھ مسلسل احساسِ تکریم اور مشترکہ مفادات کو پائیہِ تکمیل تک پہنچانے کے عزم سے تہہ خاک کردیا 11/9 کے بعد مغربی اتحادی افواج نے افغانستان جو کہ پہلے ہی سے عالمی تنہائی کا شکار ملک کی حیثیت سے انسانی ترقی اور انسانی سہولیات کے بنیادی ذرائع سے محروم تھا اْس ملک کے عوام کو مزید ‘تاریخی نقصان’ کے دوراہے پر پہنچادیا دنیا بھر کے خطرناک سے خطرناک وحشی اور درندہ صفت دہشت گردوں کی پناہ گاہ میں تبدیل کردیا یہی کیا کم تھا اْن دہشت گردوں کو مہلک ترین اور جدید اسلحوں سے لیس بھی کردیا افغان عوام میں کئی انواع کی سماجی تقسیم پیدا کردی گئی غالبا پندرہ سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے کرزئی نے بطور صدر دوعہد گزارے جبکہ آجکل کابل میں صدر اشرف غنی برسراقتدار ہیں افغانستان میں امن وامان نام کی کوئی صورت کسی کو کہیں دکھائی نہیں دے رہی پاکستان کا طویل بارڈر چونکہ پاکستان کے ساتھ یوں ملحق ہے جیسے پڑوسی گھروں کے صحن آپس میں ملے ہوئے ہوتے ہیں ۔افغانستان میں آج بھی امریکی فوجی ہر جگہ بندوقیں تانے گھومتے نظرآتے ہیں پاکستانی افواج نے اپنے پاکستانی قبائلی علاقے جوکہ عین افغان سرحدوں کے نزدیک واقع ہیں اِسی لئے افغانستان کا مستقل امن پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔ لہٰذا پاکستانی سیکورٹی اداروں نے افغان عوام میں علمی شعوری آگہی کی پہلی انسانی ضروریات کو ترجیح دینا اہم سمجھا اور دنیا کی معلومات کے لئے یہ بتانا پاکستان کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ افغان نوجوانوں کو مذہبی تعلیم کے اْن اعلیٰ وارفع تصور سے روشناس کرایا جائے کہ افغانستان کی اندرونی بدامنی کی تشویش ناک صورتحال کو افغان نوجوان قرآنِ پاک کی انسان دوست تعلیمات کی روشنی میں ہی حل کرسکتے ہیں یقیناًمندرجہ ذیل تفصیلات ہمارے افغان نوجوانوں کو اگر کہیں علم ہونگی تو وہ ہوسکتا ہے ادھوری ہوں نامکمل ہوں چونکہ پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ ثقافتی دشمن ملکوں نے اپنے پروپیگنڈوں کی متواتر اور پے درپے پریشر اور دباؤ کے ذریعے سے اْنہیں یعنی افغان نوجوانوں کے دماغوں کو شل ضرور کیا ہوا ہوگا پاکستان نے اپنے محدود وسائل سے افغان اور پاکستانی عوام کے مابین بنائےِ اتحاد کو اور زیادہ مستحکم اور پْراعتماد بنانے کے لئے پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کی تعلیم میں انتہائی اہم تاریخی اورمثبت کردار ادا کیا بشمول مذہبی رواداری’تحمل اوربرداشت کی الہی تعلیمات کو افغانستان بھر میں پھیلانے کی غرض سے پاکستان کے قائم کردہ تعلیمی اداروں میں انسانی معاشروں سے نفرت اور تشدد پر پرہیز کرنے کے اعلیٰ وارفع مقاصد کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے حالیہ انسانی شعور کی ترقی کے تحت افغان طلباء کو سہولت دینے کے لئے’خیبر پختونخواہ میں پاکستان حکومت اورطورخم کی سرحدی انتظامیہ نے سیکیورٹی فورسزنے( ‘عارضی شناختی کارڈز’ کی اسکیم متعارف کرائی ہیں) اِس کا پہلا بنیادی مقصد یہ ہے کہ طورخم سرحد سے جاری ہونے والے شناختی کارڈز کے حامل افغان طلباء کو پاکستان کے اہم نمایاں تعلیمی اداروں میں داخلے کی سہولیات فراہم ہوسکیں ۔یادرہے کہ یہ اسکیم بروئےِ کار لائی جاچکی ہے افغانستان کے طالبِ علموں کی ایک بڑی تعداد نے یا تو پاکستان کے آکسفورڈ پبلک سکولوں میں یا تورخم کے ‘مینا باچا’ علاقے میں واقع پاک انٹرنیشنل اسکول میں داخلہ حاصل کرکے اپنی تعلیمی سرگرمیاں شروع کردی ہیں ہمارا دشمن چاہتا ہے افغان بچوں کے ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے اسلحہ دیدیا جائے دشمن کے تباہ کن انسانیت دشمن اِن خیالات کو پاکستانی حکومت اور سیکورٹی فورسنز نے عمل میں آنے سے قبل تباہ کرنے کے انسانیت نواز منصوبوں کیلئے گزشتہ سال سے اب تک افغانستان میں تعلیم’صحت اوربنیادی ڈھانچے کے شعبوں کیلئے 500 ملین ڈالرکی لاگت کی منصوبوں کا آغاز کیا جی ہاں!یہ بالکل حقیقت پر مبنی حقائق ہیں یہاں یہ بتانا نہایت بھی ہمارے افغان بھائیوں کیلئے ضروری ہوگا کہ اِس وقت پاکستانی ہائی اسٹینڈراسکولوں میں پچاس ہزار کے لگ بھگ افغانی طالب علم اپنی تعلیم مکمل کررہے ہیں اورجبکہ چھ ہزارافغان طلباء ‘سیلف فنانس’ بنیادوں پر اِن ادارں میں زیرتعلیم ہیں دشمن چاہے کتنا ہی زور لگا لے افغانستان میں مستقل امن وامان کے خواہش مند ہمارے افغان بھائی یقیناًتسلیم کریں گے وہ دیکھ رہے ہیں خود مستیفد ہورہے ہیں مثلا رحمان بابا ہائی اسکول کابل میں ایک ہزار طالبِ علموں نے اپنی پیشہ ورانہ تعلیم کا ہدف حاصل کیا جبکہ پاکستانی حکومت کی افغانستان میں تعلیمی سہولیات اسکیم کے تحت ‘لیاقت علی خان انجینئرنگ فیکلٹی 120 ملین ڈالرسے تکمیل پاچکی ہے’بلخ یونیورسٹی میں علامہ اقبال آرٹس ایک اعشاریہ دوبلین روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی 2009 تک صفر اعشارہ سات بلین ڈالرکابل یونیورسٹی کے اضافی بلاکس تعمیر ہوئے’سرسید فیکلٹی جلال آباد اور ننگرہاریونیورسٹی 2010 میں مکمل ہوکرافغان نوجوانوں کواعلیٰ تعلیم کے زیورسے آراستہ کررہی ہے ‘اِس خطہ میں پاکستان اورافغانستان کی مشترکہ سماجی وثقافتی اور بلاشبہ مذہبی اقدار کی تاریخ کئی صدیوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے، کرزئی اور اشرف غنی جیسے کٹھ پتلی افغان صدور کا یہ کہنا تاریخ کو جھٹلانے کے مترادف ہے کہ قوموں کے مابین ‘ملی وثقافتی’ اشتراک کوئی معنی نہیں رکھتا؟ افسوس صدہا افسوس! جب سابقہ سویت یونین روس نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی تو یہ پاکستان ہی وہ واحد ملک تھا جس نے اپنے مسلمان افغان بھائیوں کیلئے اپنے دیدہ ودل فرشِ راہ کیئے تھے آج کے یہ دونوں کٹھ پتلی حکام پشاور کے علاوہ پاکستانی شہروں میں عام شہریوں کی طرح گھوما پھرا کرتے تھے افغان بھائیوں کی بنیادی ضروریات کا پاکستانی مسلمانوں نے خیال رکھ کر اْن پر کوئی احسان نہیں کیا تھا بلکہ اپنے آخری نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی اْس انسان دوست نوازی کی حدیثِ مبارکہ کی سن پر عمل کیا تھا کہ ‘مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اگر کسی ایک مسلمان کو کوئی اذیت یا تکلیف پہنچتی ہے تو پوری امتِ مسلمہ اْس اذیت یا تکلیف کے درد کو محسوس کرتا ہے یہ ہے اخوت ومساوات کا وہ سبق جو کرزئی اور اشرف غنی جیسے غیر مسلم کٹھ پتلی افغان حکام نے تو فراموش کردیا لیکن پاکستانی عوام اور عام افغان مسلمان عوام کبھی فراموش نہیں کرسکتے دینِ اسلام میں افکارِ جہانبانی کی یہ اقدار عالمِ اسلام کے ماتھے کا کل بھی جھومر تھے آئندہ بھی یونہی روشن وچمکدار جھومر رہیں گے۔

بلاعنوان۔۔۔ شوق موسوی
چھوٹی سی بات تو تفسیر بھی بن سکتی ہے
اُس پہ یوں سخت سی تعزیر بھی بن سکتی ہے
جس کو چاہو سرِ بازار سزا دے ڈالو
یہ قوانین کی تفسیر بھی بن سکتی ہے