- الإعلانات -

وزیراعظم کی نااہلی پرپی ٹی آئی کایوم تشکر

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے یوم تشکر کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے، خوشخبری دے رہا ہوں کہ نیا پاکستان کا میچ ہم جیت چکے ہیں، نواز شریف کرپشن پر نا اہل ہوئے اب اگلی باری زرداری کی ہے اور اس کے بعد مولانا فضل الرحمن کی باری آئے گی۔ شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی تیار ہوجائیں آپ کے پیچھے بھی آرہا ہوں ٗمیرا کیس عدالت میں ہے ٗمیرے اوپر ایک بات بھی جھوٹ نکلی تو پارٹی سے استعفیٰ دے دونگا ٗ ذمہ داری لیتا ہوں کرپشن نہیں ہونے دونگا ، نئے پاکستان میں ایف بی آر ٗ نیب اور ایف آئی اے آزاد ہونگے ٗ کسی کوکرپشن کر نے کی جرات نہیں ہوگی ٗ پاکستانیوں سے پیسہ اکٹھا کر کے دکھاؤنگا ٗکسی سے قرضے نہیں لینے پڑیں گے ٗسب سے پہلے لاہور کے گور نر ہاؤس کی دیواریں گراکر پارک بنائینگے ٗعمران خان نہ کبھی جھکا ہے اور نہ ہی اپنی قوم کو جھکنے دے گا ٗ کے پی کے میں جیسا نظام چاہتا ہوں ویسا ابھی نہیں ہوا ۔ساری قوم کی طرف سے پانچ سپریم کورٹ کے ججز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ٗ جے آئی ٹی کے ارکان کے سیلوٹ کرتا ہوں ٗ مجھے پتہ ہے آپ کے اوپر کتنا پریشرتھا ٗ یہ مافیا ہے ٗ مافیا یا خریدنے کی کوشش کرتا ہے یا پھر انتقامی کارروائی کی کوشش کرتا ہے ٗ ان کو اس مافیا نے کتنے پیسے کی آفر دی ہونگی ٗ اگر میرے جیسے آدمی کو اربوں روپے کی پیشکش کر سکتے ہیں تو ان کے اوپر کتنا دباؤ ڈالا ہوگا ٗ سپریم کورٹ کے ججز کی جتنی تعریف کروں کم ہے ٗ اسی پریڈ گراؤنڈ میں آپ کو دو نومبر کوبلایا ٗہم نے فیصلہ کیا کہ ہم سپریم کورٹ جائینگے اورسڑکوں پر نہیں آئیں گے یہ فیصلہ اس لئے کیا کہ یکم نومبر کو سپریم کورٹ کے ججز نے کہا آپ عدالت میں آ کر مسئلے کو حل کریں اور سڑکوں پر نہ جائیں جب میں نے عدالت آنے کا فیصلہ کیا تو مایوسی تھی ٗ کارکنوں میں مایوسی تھی ٗ نوجوانوں میں مایوسی تھی ٗ صحافیوں میں مایوسی تھی ٗ لوگوں نے کہا عمران خان اتنا بڑا موقع تھا ٗ سڑکوں پر آنا تھا کیونکہ پاکستان کی عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا ٗ ہماری تاریخ ہے عدالت طاقتور کے خلاف فیصلہ نہیں کر تی ٗ ہماری عدالتوں کی تاریخ تھی کہ وہ کمزور کے خلاف فیصلہ کرتی تھی ٗ ہماری کئی تجزیہ نگار نے کہا کہ اتنا سنہری موقع تھا آپ عدالت میں چلے گئے ہیں انصاف نہیں ملے گا ٗ پیپلز پارٹی نے کہا تھا بہت بڑی غلطی تھی ٗ ہمارے سیاسی کزن طاہر القادری نے کہا بڑی غلطی کر دی ہے ٗآج پاکستان کے سپریم کورٹ کو پوری قوم کی طرف خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ نے پاکستانیوں کو امید دی ہے ٗآپ نے وہ کر دیا ہے جو میں نئے پاکستان کا خواب دیکھتا تھا ٗ آپ نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے ٗ نیا پاکستان میٹرو ٗ سڑکوں سے نہیں بننا تھا ٗ نئے پاکستان کی بنیاد عدل اور انصاف پر رکھی جانی تھی ۔ میرا وعدہ ہے کہ اس ملک میں بے روز گاری کا خاتمہ کرونگا ٗ گورننس سسٹم ٹھیک کر ینگے ٗ ادارے ٹھیک کر ینگے ٗ کرپشن پر قابو پائیں گے ٗ ملک میں سرمایہ کاری آئیگی ٗ کے پی کے میں تھوڑا نظام ٹھیک ہوا ہے جیسا میں چاہتا ہوں ویسا ابھی نہیں ہوا ٗ پولیس ٹھیک ہوئی ہے ٗ کرپشن نیچے گئی ہے ٗ کے پی کے میں سرمایہ کاری آرہی ہے ٗ سیمنٹ پلانٹ لگ رہے ہیں ٗ پرائیویٹ سیکٹر آرہے ہیں ٗ باہر لوگ پیسہ لگا رہے ہیں بیرون ملک پاکستانیوں کے پاس اربوں ڈالرہیں ٗکسی کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں ٗ جب نیا نظام لائیں گے ٗ کرپشن ٹھیک کرینگے تو وہ پاکستان آئیں گے ٗ میرٹ کا سسٹم لیکر آئیں گے ۔جمہوریت میں جو لیڈر آتا ہے وہ میرٹ پر آتا ہے ٗ (ن)لیگ بات جمہوریت کی کرتی ہے ایک خاندان حکومت کررہا ہے۔شریف خاندان نے مسلم لیگ (ن)والوں کو تڑپایا ہے ٗ ہم پارٹی کا الیکشن کرینگے ٗ میری پارٹی میں عمران خان کا کوئی رشتہ دار نہیں آئیگا ٗمراد سعید جیسے نو جوان میرٹ پر آئے ہیں ٗ تحریک انصاف میرٹ والی پارٹی بنے گی ٗ ابھی میرے اوپر عدالت میں کیس ہے ٗ میری ایک بات جھوٹ نکلی خود ہی پارٹی سے استعفیٰ دے دونگا ٗ ہماری جنگ شریف خاندان کے خلاف نہیں تھی ہم کرپشن کے خلاف نکلیں گے ٗ پختون خوا کے اندر نواز شریف کے ساتھی مولانا فضل الرحمن کے پیچھے بھی آئیں گے ۔ چیئرمین تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ سیاسی تدبر اور بصیرت سے کام لیں اور سیاست میں ذمہ دارانہ رویوں کو اپنانے کی کوشش کریں اگر سیاست میں جارحانہ انداز جاری رہا تو جمہوریت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونگے ، قومی سیاست میں سنجیدگی انتہائی ضروری ہوا کرتی ہے، عمران خان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو بھی اپنے ساتھ لیکر چلیں تاکہ سیاسی میدان میں ان کا قد کاٹھ بڑھے اور قائد ایوان کے انتخاب میں آسانی رہے اس وقت ان کو سیاسی جماعتوں کے تعاون کی ضرورت ہے اس لئے سیاسی تدبر، بصیرت سے کام لیا جائے۔
آرمی چیف کی چینی فوج کو 90 ویں سالگرہ پر مبارکباد
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے چینی فوج کوان کی90ویں سالگرہ پر مبارک دی ہے ۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے مطابق پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے چائنہ کے پیپلز لبریشن آرمی کو ان کی 90ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور چین کی افواج کے درمیان خصوصی بندھن قائم ہیں ۔ چین کے اخبار روزنامہ گوانگ منگ کو جاری خصوصی پیغام میں آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مضبوط پیشہ وارانہ تعلقات اور تعاون کا حامی ہے ۔چینی فوج کو دیگر ممالک میں امن کا کر دار ملنے کے بعد ان کا مزید مثبت کر دار سامنے آئیگا ۔ 2015ء میں یمن میں بحران پیدا ہونے کے بعد چینی فوج نے شہریوں کو نکالنے میں اہم کر دارادا کیا تھا ۔ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چینی فوج نے دہشتگردی کے خلاف اہم کر دارادا کیا ہے ۔ چین اور پاکستان کے درمیان مساوی تعلقات کی بنیاد پر چین نے اس سال 23مارچ کو پریڈ کیلئے چینی فوج کا دستہ بھیج دیا تھا ۔پاکستان چین اور چینی افواج کی اپنے ملک کے خلاف جارحیت قلع قمع کر نے کیلئے ان کی حمایت کریگا۔
ٹریفک کا المناک حادثہ
اٹک کے قریب وین اور ٹرک میں المناک تصادم کے نتیجے میں 13ہنستی بستی زندگیاں اجڑ گئیں۔ وین اور ٹرک کا حادثہ اتنا شدید تھا کہ اس میں موجود مسافر زندہ جل گئے۔حادثے کا شکار ہونے والی وین راولپنڈی سے پشاور آرہی تھی کہ اٹک کے قریب حسن ابدال روڈ پر ایبٹ آباد چوک کے قریب مخالف سمت سے آنے والے ایک ٹرک سے جا ٹکرائی۔مذکورہ ہائی ایس وین، ٹرک سے تصادم کے بعد قریب نصب گیس کی مین پائپ لائن سے ٹکرا گئی جس کے بعد وین اور گیس پائپ لائن میں آگ بھڑک اٹھی۔حادثے کے نتیجے میں وین میں موجودمسافر موقع پر ہی جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔ حکومت اس حادثے کی تحقیقات کرے اور حادثے کے شکار افراد کے لواحقین کی مالی امداد کو یقینی بنائے، روڈ حادثات آئے دن بڑھتے جارہے ہیں جس سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھ رہا ہے،حادثات تیز رفتاری ،اوورلوڈنگ کے باعث رونما ہوتے ہیں ان کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔خداوند کریم اس حادثے کے شکار افراد کو جوار رحمت میں جگہ عطافرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ جانکاہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔