- الإعلانات -

تذویراتی گہرائی کا نظریہ

ایک انگریزی روزنامہ دی ٹائمز کے ایڈیٹرنے مورخہ 2جولائی 2017 کو اخبار کے ایڈیٹوریل کالم بعنوان The Myths That Needed to be Buried For Good میں تذویراتی گہرائی کے نظریے کے متعلق ایسی باتیں لکھی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ:
ہمیں جن وہمی خیالات کو اب دفن کردینا چاہئیے ان میں ایک کا تعلق جنرل مرزا اسلم بیگ کی جانب سے پیش کیا جانے والا مشہور زمانہتذویراتی گہرائی کا نظریہ ہے۔اس نظریے کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان کو کابل میں دوستانہ حکومت کے ساتھ اتنا اثرورسوخ ہونا چاہیئے تاکہ بھارت کی جانب سے کسی جارحیت کی صورت میں اگرپاکستان کوپسپائی اختیار کرنا پڑے تو افغانستان میں پناہ مل سکے۔ نعوذ بااللہ انتہائی معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ میں نے کبھی اس قسم کے لغو اور شکست خوردہ نظریے کی بات نہیں کی جس سے ہمیں بھارتی جارحیت کی صورت میں افغانستان میں پناہ لینا پڑے۔ یہ بات سوچی بھی نہیں جا سکتی کیونکہ ہمارا مشن ہے پاکستانی سرحدوں کا بھرپوردفاع کرتے ہوئے جنگ کو دشمن کی سرحدوں کے اندرتک لے جاؤ۔ اس لئے ہمارا مرتب کردہ جارحانہ دفاع کا نظریہ ہماری حقیقی عسکری صلاحیتوں اور عسکری نظام پر مبنی ہے جوہمارے اہداف کے حصول میں ممد و معاون ثابت ہو گا۔
فوج کی قیادت سنبھالنے کے بعد 25 اگست 1988 کو جنرل ہیڈکوارٹرز میں گیریژن اور سینئر افسران سے اولین خطاب کرتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا تھا وہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) کے ریکارڈ میں موجود ہے۔میری ریکارڈ کی گئی تقریر کا متعلقہ حصہ جو تذویراتی گہرائی سے متعلق ہے پیش خدمت ہے:
یہ امر باعث اطمینان ہے کہ جدوجہد کی اس گھڑی میں ہم تنہا نہیں ہیں ہماری قوم ہمارے ساتھ ہے۔ یہ ہماری قوم ہی ہے جس نے انتہائی مشکل حالات کا نہ صرف مردانہ وار مقابلہ کیا ہے بلکہ عزت و وقار سے زندگی گزارنے کے فن سے بھی آشنا ہے۔دوسری اہم بات جو رونما ہو ئی ہے اور ہمارے لئے انتہائی حوصلہ افزا ہے وہ ہماری مغربی سرحدوں پر حریت پسندوں کی جدوجہد آزادی کی کامیابی ہے اوراب اپنے منطقی انجام کے قریب ہے۔سپر پاورز کے توسیع پسندانہ عزائم کے دن گزر چکے ہیں اور عنقریب اسلام کے غلبے کا سورج طلوع ہو گا۔ جمہوریت کی ترویج کی کوششیں بھی ہمارے پیش نظر ہیں۔تیسری اہم بات یہ ہے کہ ہمارے پڑوس میں ایرانی قوم نے ایک پڑوسی ملک کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کو جذبہ حریت سے کچل دیا ہے۔ اس طرح اسلامی قوتوں نے اپنی جڑیں گہری کر لی ہیں جو جمہوری نظام کی مضبوطی کا باعث ہے۔بالفاظ دیگر ایک نئی صبح طلوع ہو رہی ہے جو ہمارے لئے اطمینان اور طاقت کا پیغام ہے۔ پاکستان ایران اور افغانستان تینوں ممالک باہم متحد ہوکر آزاد مستحکم اور پرعزم انداز سے مشترکہ منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان تینوں ممالک پر مشتمل عالم اسلام کا تذویراتی گہرائی کا نظریہ یہی ہے۔یہ ایسا نظریہ ہے جسے بہر صورت حقیقت کا روپ دھارنا ہے۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے سے روکنے کیلئے بے شمار حربے اختیار کئے گئے اور ہم اس منزل سے ابھی دور ہیں۔ ایڈیٹر موصوف آگے چل کر لکھتے ہیں کہ:
یہ ایک الگ معاملہ ہے کہ تین دہائیوں کے بعد یہ نظریہ الٹا ہو چکا ہے اور ہم دوسروں کی خاطر خود ہی گہرائی میں دھکیل دیے گئے ہیں اور پاکستانی طالبان جیسے گروپوں کے نشانے پر آ چکے ہیں۔اب انہوں نے افغانستان کی بدنام سرحدوں میں محفوظ پناہ گاہیں ڈھونڈ لی ہیں اور ہم دنیا بھر سے ان کے خلاف شکایتیں کرتے پھر رہے ہیں۔کس نے سوچا تھا کہ ہمیں یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔ ہم نے اس ناکام نظریے کی تباہ کاریوں کے بارے کیوں نہ سوچا۔
حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ 1989 میں روس کی پسپائی کے بعد جنرل ضیا الحق نے افغان مجاہدین جوکہ جنگ کے فاتح تھے انہیں شرکت اقتدارکے حق سے محروم کرنے میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ جنرل ضیائکے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں نے ہی مسئلہ افغانستان پر سرد مہری کا مظاہرہ کیا اور وہاں پر جاری خانہ جنگی سے مسلسل افغانیوں کا خون بہتا رہا۔ جنرل پرویز مشرف نے امریکیوں کا ساتھ دینے کے معاملے پر تمام حدیں پار کردیں اور 2005 میں ڈو مور کے مطالبے پر عمل درآمدکرتے ہوئے وزیرستان سوات دیر اور باجوڑ میں لشکر کشی کی اور پھرجنرل راحیل شریف نے آپریشن ضرب عضب شروع کر دیا جس نے افغان تحریک آزادی کا امدادی کیمپ تباہ کردیا۔یہ ہیں ڈو مور کے اثرات جن کا ذکر آپ نے اپنے مندرجہ بالا تبصرے میں کیا ہے۔اب اس سے زیادہ پاکستان اپنے آپ کو افغان معاملات سے کتنالاتعلق رکھ سکتا ہے اور کیوں۔ کیا یہ ممکن ہے؟
جب آپ افغان معاملات سے علیحدگی کی بات کرتے ہیں تو یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ چارکروڑ پچاس لاکھ پختون ڈیورنڈ لائن کی دونوں جانب رہتے ہیں۔ ان میں سے ساٹھ فیصد پاکستان میں ہیں؛ چالیس فیصد افغانستان میں اور دس فیصد پاکستان کے دل یعنی کراچی میں آباد ہیں جنہوں نے گذشتہ تین دہائیوں میں دنیا کی بڑی سے بڑی قوتوں کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ ان کی اس جدوجہد آزادی میں پاکستانی پختونوں نے ان کی بھرپور مدد کی ہے اور یہ مدد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ وہ غاصب قوتوں سے اپنی آزادی چھین نہیں لیتے۔ پختون قوم کو تقسیم اور علیحدہ کرنے سے کیا مراد ہے؟ گذشتہ ایک سو پچیس سال سے ڈیورنڈ لائن اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہواہے۔کیا آپ کو نہیں لگتا کہ قائد اعظم کے نظریے کو عملی جامعہ پہنانے کا یہی مناسب وقت ہے جنہوں نے پختون قوم کو متحد رکھنے کیلئے پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے فوج کو ہٹا لیاتھا اور اس کی نگرانی پختونوں کو سونپی تھی۔قائد اعظم کا ویژن پختون قوم کی یک جہتی اور اس کے پھیلاؤ سے متعلق تھا جوڈیورنڈ لائن سے آگے کوہ ہندوکش تک اور آگے آمو دریا تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھے بغیر افغانستان میں امن ممکن نہیں ہے۔
جان مکین پاکستان کے بعد افغانستان پہنچتے ہی انہوں نے بیان دیا ہے کہ پاکستان حقانی گروپ کے خلاف بھرپور اقدامات کرے ورنہ ہمارے ملکوں کے درمیان تعلقات بری طرح متاثر ہوں گے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سازشوں کا سلسلہ جاری ہے شرمناک شکست کے بعدان میں اتنا بھی ظرف نہیں ہے کہ روس کی طرح شکست تسلیم کرلیتے اور افغانستان سے نکل جاتے لیکن سازشوں کے بعد سازشیں ہو رہی ہیں۔ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
****