- الإعلانات -

ڈھائی ہزار سال قبل

اخلاقیات اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ہر عہد میں سقراط جنم لیتے ہیں۔ ان کی زندگی غیر منصفانہ نظام حکومت کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے قربان ہو گئی اور وہ سچ کی راہ کے شہید ہوئے۔انہوں نے ملک چھوڑنا بھی گوارا نہ کیا بلکہ عدالت کے ناانصافی پر مبنی فیصلے کو خندہ پیشانی سے تسلیم کرتے ہوئے تختہ دار پر چڑھ گئے اوروطن کو انارکی اور انتشار سے بچا گئے یہ تھے ذوالفقار علی بھٹو جنہوں نے اپنا وطن اور ریاست چھوڑنے کی کسی پیشکش کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ میں ایک آمر کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا تاریخ کے ہاتھوں نہیں۔
70 سالہ سقراط بھی 399 قبل مسیح کے زمانے میں ایتھنز کی جیوری کے سامنے خود پیش ہوا۔ جیوری501افراد پر مشتمل تھی جنہوں نے اپنی ریاست کے معزز ترین شہری اور بے لاگ مبصر کو موت کی سزا سنائی۔ آزادی ضمیر کے پیامبر سقراط نے زہر کا وہ پیالہ نوش کیا جو سزائے موت کے مجرموں کیلئے تیار کیا جاتا تھا۔ موت آگئی لیکن اس کے خیا لات امرہو گئے۔ سقراط نے کہا کہ میں رحم کی اپیل بھی نہیں کروں گا لیکن اگر میں نے رحم کی اپیل کی تو میں علم اور علم کے طفیل جو میری شہرت قائم ہوئی ہے ان دونوں کوذلیل و رسوا کروں گا، لہذا ممبران جیوری آپ مجھے میرے دلائل پر پرکھیں، مجھ پر رحم نہ کریں۔ سقراط کا ایک ہمدرد غم خوار دوست کریٹو قید خانے میں اس سے ملاقات کرتا ہے۔
راقم نے معزز قارئین کیلئے ان دونوں کی ملاقات اور گفتگو کو اختصار سے بیا ن کرنے کی سعی کی ہے۔ کریٹو! سقراط مجھ سے تمہاری طرح یہ تکلیف اور پریشانی نہ اٹھائی جاتی۔میں تمہاری پرسکون نیند کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ جس اطمینان سے تم یہ تکلیف برداشت کر رہے ہو اس کی مثال میری نظر سے نہیں گزری۔ سقراط! بھئی کریٹو جب انسان میری عمر کو پہنچ جائے تو اسے اس خیال سے نہیں کڑنا چاہیے کہ موت قریب آرہی ہے۔
کریٹو! میرے پیارے سقراط میں ایک بار پھر التجا کرتا ہوں کہ میری بات مانو اور یہاں سے نکل بھاگو۔ اگر تم مر گئے تو صرف یہی نہیں کہ میرا ایک دوست جاتا رہے گا جس کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا بلکہ ایک خرابی ہے کہ جو لوگ تم کو اور مجھے نہیں جانتے وہ سمجھیں گے کہ اگر میں روپیہ خرچ کرنے پر تیار ہوتا تو تمہیں میں بچا سکتا تھا مگر میں نے پرواہ نہیں کی۔ اب بتاؤ اس سے بڑھ کر کوئی ذلت ہو سکتی ہے کہ میرے متعلق سمجھا جائے کہ میں روپے کو ایک دوست کی جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہوں۔ لوگ تو کبھی یہ نہیں مانیں گے کہ میں چاہتا تھا کہ تم بھاگ جاؤ مگر تم نے انکار کر دیا۔
سقراط! پیارے کریٹو میری طبیعت ہمیشہ سے عقل کی راہ پر چلتی ہے جو غور کرنے کے بعد مجھے سب سے بہتر معلوم ہو۔ اس مصیبت کے پیش آنے کی وجہ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ میں اپنے قول سے پھر جاؤں اور ان اصولوں سے جن کی اب تک میں قدر کرتا رہا ہوں۔ اب بتاؤ کریٹو کہ اگر انسان کا وہ اعلیٰ جوہر برباد ہو جائے جو عدل سے بنتا ہے اور ظلم سے بگڑتا ہے۔ کیا ہم انسان کے اس جوہر کو خواہ وہ کچھ بھی ہو جس کا تعلق عدل اور ظلم سے ہے جسم سے کم تر سمجھتے ہیں؟ کریٹو بدرجہا بہتر۔
سقراط! تو میرے دوست ہمیں اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے کہ عام لوگ ہمارے متعلق کیا کہتے ہیں۔ اچھی زندگی عدل اور باعزت زندگی کا نام ہے۔ یہ چیزیں جن کا تم ذکر کرتے ہو یعنی روپے کا سوال، بے عزتی کا ڈر، بچوں کی تعلیم کا خیال، میرے نزدیک صرف عوام کے نظریات ہیں وہ تو اگر ان کے امکان میں ہو لوگوں کو زندہ کرنے پر اسی طرح مستعد ہو جائیں جس طرح قتل کرنے پر مستعد ہو جاتے ہیں۔ کیا انسان کو وہی کرنا چاہیے جسے حق مانتا ہے یا حق کو چھوڑ دینا چاہیے؟ میں اہل ایتھنز کی مرضی کے خلاف قید خانے سے چلا جاؤں تو کیا ان لوگوں کے ساتھ بے انصافی ہو گی یا نہیں یا ان اصولوں سے غداری نہیں جنہیں ہم قرین انصاف تسلیم کر چکے ہیں۔ فرض کرو میں فرار ہونے پر تیا ر ہوں اور قوانین اور حکومت مجھ سے بازپرس کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بتاؤ سقراط یہ تم کیا غضب کرتے ہو کہ تم اپنے ایک فعل سے ہم سب کو تباہ نہیں کر رہے ہو۔کل قوانین اور ریاست کو کیا تم سمجھتے ہو کہ قائم رہے گی جس میں قانون کے فیصلے کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور افراد انہیں پیروں تلے روند ڈالتے ہیں۔ جب کوئی فرد تفر ہری قانون کی حمائت میں کہے گا کہ اس قانون کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے تھی کیا ہم یہ جواب دیں گے کہ عدالت نے ہمیں خلاف انصاف سزا دی ہے۔ قانون پوچھے گا کہ کیا ہمارا تمہارا یہی معاہدہ تھا یا تم اس کے پابند تھے کہ ریاست جو سزا دے گی اسے برداشت کرو گے لیکن اب قوانین کا احترام کرنے کی بجائے انہیں مٹانے کے درپے ہو اور وہ حرکت کر رہے ہو جو صرف ایک ادنیٰ غلام ہی کر سکتا ہے یعنی بھاگ کر جا رہے ہو اور ان تمام معاہدوں سے پھرے جاتے ہو جو تم نے شہری کی حیثیت سے کئے تھے۔ ذرا سوچو تو اگر اس طرح کی غلطی کرو گے، تمہارے دوست جلاوطن کر دیے جائیں گے۔ حق ملکیت سے محروم اور اپنی ملکیت کھو بیٹھیں گے۔ جب بھاگ کر میگارا پہنچو گے تو ان کی حکومت تمہارے خلاف ہو گی اور سب دوست شہری تمہیں قانون کا جڑ کھودنے والا سمجھ کر بری نظر سے دیکھیں گے اور ججوں کے دل میں اس خیال کی تصدیق ہو جائے گی کہ ان کی تمہیں سزا دینا بالکل بجا ہے اگر بے اصل ریاست تھیس لے جاتے ہو تو وہ لوگ تمہارے قید خانے سے فرار کا قصہ سن کر بہت محظوظ ہوں گے اور اس میں زیب داستاں کیلئے بہت سی باتوں کا اضافہ کر دیں گے کہ تم نے کس طرح بکری کی کھال اوڑھ رکھی تھی یا کوئی بہروپ اختیار کر رکھا تھا جیسا کہ معزز شخص روپ بدلنے کیلئے کیا کرتے ہیں۔ کیا تمہیں کوئی شخص یہ پوچھنے والا نہ ہو گا کہ تھوڑے دن زندہ رہنے کی حقیر خواہش کی بنا پر تمہیں ان بڑھیا مقدس ترین قوانین کو توڑتے ہوئے شرم نہیں آئی۔ تمہیں بہت سی ذلت آمیز باتیں سننی پڑیں گی۔ تم زندہ رہو گے مگر کس حالت میں، سب لوگوں کے خوشامدی اور خدمت گار بن کر۔ گویا تم نے محض پیٹ بھرنے کی خاطر پردیس کا سفر اختیار کیا اور تمہارے عدل و خیر کے اعلیٰ خیالات کہاں چلے جائیں گے۔ لہٰذا سقراط زندگی اور بچوں کو مقدم اور عدل کو موخر نہ سمجھو تا کہ عالم زہرین کے حاکموں کی نظر میں تمہارا عمل صحیح ٹھہرے اور تمہارے متعلقین کو اس دنیا میں زیادہ خوشی و پاکی اور نیکی میسر ہو اور دوسری دنیا میں بھی زیادہ سعادت۔ یقین جانو کہ نیک آدمی پر کوئی مصیبت نہیں آسکتی نہ زندگی میں نہ مرنے کے بعد۔ مجھے صاف نظر آرہا ہے وہ وقت آگیا ہے جب میرے لیے یہی بہتر تھا کہ مر کر دنیا کے جھگڑوں سے چھوٹ جاؤں۔ میں ان لوگوں سے جنہوں نے میرے لیے سزا تجویز کی یا ان سے جنہوں نے میرے لیے استغاثہ کیا خفا نہیں ہوں۔ رخصت کا وقت آگیا ہے اور اب ہم اپنی راہ جاتے ہیں میں مرنے کیلئے اور تم جینے کیلئے، دونوں میں کیا چیز بہتر ہے یہ خدا ہی جانتا ہے۔