- الإعلانات -

میاں صاحب کیلئے ۔۔۔۔!

ہم بارہا دفعہ تحریر میں کچھ اہم چیزیں لا چکے ہیں ۔مگرشاید ن لیگ نے فیصلہ ہی کررکھا ہے کہ وہ کسی اچھے مشورے پر عمل ہی نہیں کرے گی ۔اسی وجہ سے آئے دن انہیں نقصان ہوتا جارہا ہے اور وہ سیاست کی اتھاہ گہرائیوں کے تاریک حصوں میں جاتے جارہے ہیں ۔آج ہمیں ریٹائرڈ ائیرمارشل سے کیے گئے صحافی کا ایک سوال یاد آرہا ہے کہ جب اس نے کہا کہ ائیرمارشل صاحب آپ ناکام سیاستدان ہیں تو انہوں نے برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ بتاؤ بھلا میں کیسے ناکام ہوں ۔کامیاب شخص وہی ہوتا ہے جو دنیا میں موجود رہے اور سیاست کے میدان میں اپنی سیاسی بساط پر چال چلتا رہے ۔ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار پر چڑھ گئے گو کہ وہ کامیاب سیاستدان تھے مگر اس اعتبار سے وہ کامیاب نہ رہے نہ ہی مجیب الرحمن کامیاب سیاستدان تھا اس کے فیصلے بھی غلط تھے ۔ایک بات قابل غور ہے کہ جب بھٹو پر کیس بنا اور جیل کے اندر گئے تو آج تاریخ انہی لمحات کو دہرا رہی ہے شاید سیاستدانوں نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔اس دور میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھیوں نے بھی عدالت کو آڑے ہاتھوں لیا اور آئے دن تابڑ توڑ حملے کرتے رہتے ہیں اور پھر آخر دیکھ لیا کہ کیا نتیجہ نکلا ۔ ن لیگ کے دیگر سیاستدانوں کو زیربحث لانے سے پہلے یہاں ہم وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی حال ہی میں ہونے والی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہیں ۔گو کہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے اس بات کی قطعی طور پر نفی کی ہے کہ ان کا بیان توڑ مروڑ پیش کیا گیا ہے ۔تاہم آج زمانہ جدید ہوچکا ہے کیمرے کی آنکھ میں ہر چیز محفوظ ہوتی ہے ۔آڈیواورویڈیو کچھ کہہ رہی ہوتی ہے جبکہ بات کرنے والا شخص اپنا نقطہ نظر کچھ اور انداز میں کہہ رہا ہوتا ہے ۔تاہم اس بات کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ انہوں نے جوبیان دیا ہوگا شاید وہ سیاق وسباق سے ہٹ کر ہو لیکن پھر ان الفاظ کے بارے میں کیا کہا جائے جس میں انہوں نے کہا کہ یہ کون سا فیئر ٹرائل ہے کہ نوازشریف کو اپیل کا حق بھی نہیں دیا اب بطور کشمیری سوچنا پڑے گا کہ کس ملک سے الحاق کرنا ہے ۔اس کے بعد ملک میں ایک نئی بحث چل پڑی مگر ایک بات ہے کہ گذشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس میں انہوں نے دوبارہ کہا کہ مجھے اپنی اور کشمیریوں کی عزت سے کوئی چیز بڑھ کر نہیں ۔میں اپنے بیان پر قائم ہوں لیکن میرے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے ۔اب یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ہم اس پربہت زیادہ رائے زنی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ صحافت کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں لہذا ہم اپنے پیٹی بھائیوں سے بھی یہ درخواست کریں گے کہ خدارا جہاں وطن کی سالمیت کی بات ہو تووہاں پراس طرح کی چیزیں اچھالی نہیں جاتیں جس سے دشمن کو فائدہ ہو ۔یہ بات تو ایک برسرتذکرہ آگئی ۔ذکر ن لیگ کے رہنماؤں کے حوالے سے ہورہا تھا تو ہم یہاں یہ کہیں گے کہ اب بھی بہت زیادہ حالات خراب نہیں ہوئے ہیں ۔ن لیگ کے سربراہ کو چاہیے کہ وہ اپنے دیگر رہنماؤں کو اس حوالے سے پابند کریں کہ وہ ہر بیان یا ہرتقریب میں عدلیہ کو نشانہ نہ بنائیں جب نوازشریف نے خود کہہ دیا کہ ہم عدلیہ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں تو پھراس پرتنقید کرنے کی گنجائش نہیں رہ جاتی ۔اب معاملہ احتساب کا شروع ہونے جارہا ہے ۔شریف خاندان اوراسحاق ڈار کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔اس پر چھ ماہ کا وقت دیا گیا ہے اگر اس دوران مزید ہانڈی میں ’’تڑکا‘‘ لگایا گیا تو پھر اس کا کیا فائدہ حاصل ہوگا ۔تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں سارے نتائج سامنے ہیں دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں نے جن میں خود نوازشریف بھی شامل ہیں جلا وطنی کاٹی ۔چاہے وہ معاہدے کے تحت تھی یا نہیں اس کی گہرائی میں ہم نہیں جانا چاہتے لیکن ایک بات ثابت ہے کہ نوازشریف موجود تھے تو وہ وطن بھی واپس آئے ،تیسری مرتبہ وزیراعظم بھی بنے ۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو ماضی کے واقعات کو دیکھتے ہوئے صحیح سمت میں چلایا جائے ۔جیسا کہ راقم الحروف لگاتار مختلف کالموں میں اس رائے کا اظہار کرتا جارہا ہے کہ سیاسی سمت اور بیان بازیوں کو درست کرلینا چاہیے ۔جذبات میں آنے سے کوئی فائدہ نہیں جو بھی حقائق ہیں ان کو سامنے لانا چاہیے ۔نااہل تو ہو ہی گئے ہیں ،سیٹ چلی ہی گئی ہے ،وزارت عظمیٰ خالی پڑی ہے ،پنجاب کی نشست بھی خالی ہوجائے گی اور اگر حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بنے تو انہیں بھی قومی اسمبلی کی ایک سیٹ چھوڑنا پڑے گی ۔نوازشریف کواس وقت ایک چومُکھی سیاست کا سامنا ہے ۔جذبات سے بالکل عاری ہوکر تمام مسائل کو دیکھنا پڑے گا اور جتنے بھی کچن کیبنٹ کے افراد ہیں انہیں فیصلہ آنے تک زبان بندی کرنا ہوگی ۔ورنہ جی جی بریگیڈ تباہی پھیلا دے گا