- الإعلانات -

ریٹائرڈ فوجیوں کا مودی کے نام کھلا خط

نریندرا مودی کا بھارت جو امریکہ کی شہ پر جنوبی ایشیا میں بالادستی کے خواب دیکھ رہا کبھی پاکستان کو آنکھیں دکھاتا ہے تو کبھی چین کو۔ان دنوں چین سے اس کی کشیدگی عروج پر ہے۔سکم کی سرحد دوکھلا میں دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔مگر اندرونی طور پر یہ عالم ہے کہ اقلیتیں خود کو بی جے پی حکومت میں غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں۔اقلتیں کس حال میں ہیں اسکا احوال اس کھلے خط سے ظاہر ہوتا ہے جو بھارت کے 114 سابق فوجی افسروں نے نریندر مودی کے نام لکھا ہے جس کی تفصیلات گزشتہ روز ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔خط میں مسلمانوں اور دلتوں پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔اس خط پر انڈین آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے سابق افسران نے دستخط کیے ہیں۔مسلمانوں اور دلتوں پر مشتعل ہجوم کے بڑھتے ہوئے حملوں کی دو ٹوک انداز میں مذمت کرتے ہوئے انہیں بھارتی سالمیت کے خلاف قرار دیا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی گزشتہ تین سال سے برسراقتدار ہے۔مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے مسلمانوں اور نچلی ذات کے دلتوں پر انتہا پسند ہندوں کے دہشت گردانہ حملوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ پچھلے ایک سال سے ہندوتوا یا ہندو دھرم کی بالادستی کے نام پر دہشت گردانہ وارداتوں کا رجحان بڑھ گیا ہے۔درجنوں ہندو ایک ہجوم کی شکل میں چند نہتے مسلمانوں یا دلتوں پر حملہ کرکے انہیں قتل اور زخمی کردیتے ہیں مگر پولیس نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے فائل بند کردیتی ہے۔یہ واردتیں ڈھکی چھپی نہیں بلکہ سرعام ہوتی ہیں لیکن اصل ذمہ داران کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی بھی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ان حملوں کے خلاف نہ صرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی پر خاموشی چھائی رہتی ہے بلکہ مجموعی طور پر بھارتی سیاسی قیادت اور میڈیا بھی کچھ نہیں بولتا جس کی بنا پر انتہا پسند ہندو دہشتگردوں کے پر ہجوم اجتماعی حملوں کا رجحان جڑ پکڑ چکا ہے۔یہ ایک انتہائی خطرناک اور باعث تشویش صورتحال ہے جس پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے بھارتی فوج کے سابق افسران نے نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھ کر آئینہ دکھایا ہے۔علاوہ ازیں اس خط میں گؤ رکشک اور ہندوتوا رکشک کے نام سے وجود میں آنے والے انتہا پسند جتھوں اور ان کے دہشت گردانہ حملوں پر شدید نکتہ چینی کی گئی ہے۔ بھارتی فوج کے سابق افسران نے دل گرفتگی کے ساتھ لکھا ہے کہ ہندوتوا کے نام پر کیے جانے والے یہ حملے بھارتی فوج اور آئین کی بالادستی، دونوں کیلئے بدترین مثال ہیں۔ مذکورہ افسران نے ان حملوں کے خلاف چلنے والی مہم ناٹ آن مائی نیم مہم کی بھی حمایت کی کہ ہم ان کیساتھ ہیں۔انہوں نے لکھا کہ بھارت کے موجودہ حالات قابلِ نفرت، خوفزدہ کرنے والے ہیں۔اسی طرح انہوں نے بھارت میں اظہارِ رائے کی آزادی کو ملک دشمنی قرار دینے کی روِش اور حکومتی خاموشی کو بھی مجرمانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات بھارت کو تقسیم کررہے ہیں جس سے انہیں شدید تکلیف پہنچی ہے۔انہوں نے خط میں اپنی عوام کو احساس دلایا ہے کہ اگر ہم سیکولر اور اعتدال پسند اقدار کے حق میں نہیں بولیں گے تو اپنے ملک ہی کا نقصان کریں گے۔ہم سابق فوجیوں کا ایک گروپ ہیں، جنھوں نے اپنی پوری زندگی ملک کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ہے۔ منظم طور پر ہم کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے۔ ہمارا مشترکہ عزم صرف انڈیا کے آئین کی سربلندی ہے۔فوج میں اپنی خدمات کے دوران انصاف، کشادگی کا احساس اور منصفانہ رویے نے ہمیں صحیح اقدامات کرنے کی راہ دکھائی۔سابق فوجی افسران کا یہ کھلا خط مودی کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔یہ شرمناک بات ہے کہ ہندوستان کی حکومت اس معاملے میں یا تو کچھ نہیں کر رہی یا پھر ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات اتنے ناکافی ہیں کہ جن کی بھرپور مذمت کرنی چاہیئے ۔ بی جے پی کی حکومت کے اقدامات اشک شوئی کے سوا کچھ نہیں ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سلسلہ کہاں جاکے رکے گا۔یہ انتہا پسندی آخری ہندوستان کو کہاں لے جائے گی ۔مودی کا نعرہ ترقی تمام کیلئے مکمل طور پر جھوٹا نعرہ بن چکا ہے ۔حالت یہ ہے کہ سیکولر قوتیں خود ناکام ہو چکی ہیں۔لبرل دانشور بھی اب اپنی صدا بلند کرتے ہوئے خوف کھاتے ہیں۔یہ تمام لوگ اب خوف اور دہشت کے پنجرے میں بند ہو چکے ہیں۔سابق فوجیوں نے ملک میں آزادی اظہار پر کچھ حلقوں کی جانب سے عدم برداشت کا مظاہرہ کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘میڈیا، سول سوسائٹی، یونیورسٹی، صحافی برادری اور دانشوروں کے اظہار رائے کی آزادی پر حملے، باقاعدہ مہم چلا کر انہیں ملک دشمن قرار دینے اور ان کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر حکومتی خاموشی بھی قابل مذمت ہے۔
پیپلزلبریشن آرمی کی تقریب سے آرمی چیف کا خطاب
چین پیپلزلبریشن آرمی کی 90ویں یوم تاسیس کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہاہے کہ چین سے تعلقات باہمی عزت پر قائم ہیں اور ،سی پیک ہر قیمت پر کامیاب بنائیں گے۔پاکستان عالمی فورم پرغیر متزلزل حمایت پرچین کا احسان مند ہے،پاک چین دوستی لازوال ہے۔آرمی چیف نے اس موقع پر پیپلزلبریشن آرمی کی 90ویں یوم تاسیس کا کیک بھی کاٹا۔ انہوں نے کہاکہ پاک چین دوستی درحقیقت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ چین نے مسئلہ کشمیر، شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت سمیت ہر معاملے پر پاکستان کا ساتھ دیا، پاک افغان تعلقات میں چین نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے۔انہوں نے کہاکہ سی پیک اور دفاعی تعاون سمیت مشترکہ منصوبے اور عالمی سفارتی محاذ پر دونوں ممالک اتحاد ی ہیں ، نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت پر پاکستان کو چین کی حمایت حاصل رہی۔ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعاون انتہائی وسیع ہے جو ماضی میں نہیں تھا، سفارتی تعاون سے سیکورٹی تعاون تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حالات اچھے ہوں یا برے ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کی پیپلز لبریشن آرمی تقریب میں شرکت اور سی پیک کے تکمیل کا عزم ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب میاں نوازشریف کی عدالت سے نااہلی کے بعد بعض حلقوں کی طرف سے یہ ابہام پھیلانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ اب شاید سی پیک پر کام رک جائے گا۔وہ شاید نہیں جانتے کہ ایسے میگا پراجیکٹ ریاستوں کے درمیان ہوتے ہیں نہ کہ شخصیات کے درمیان۔آرمی چیف نے واضح الفاظ میں اس عزم کو دوہرایا کہ سی پیک ہر قیمت پر کامیاب بنائیں گے۔قبل ازیں چین نے بھی نوازشریف کی نااہلی کو پاکستان کا اندرونی معاملہ کہہ کر واضح کردیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ جاری منصوبے متاثر نہیں ہونگے۔بلاشبہ پاک چین دوستی شخصیات کی محتاج نہیں ہے اور یہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہے۔