- الإعلانات -

کشمیری ہمارے بھائی،ہم کشمیریوں پر قربان

پاناما فیصلے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سب سے بڑی اور معزز ترین عدالت سپریم کورٹ نے اس وقت کے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ سنایا جس کے بعد میاں نواز شریف اپنے عہدے پر قائم نہیں رہے اور انھیں وزارت عظمی کے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے۔میاں نواز شریف کا عہدے سے ہٹنا ہی تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آئین پاکستان پر بھی انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں اور یہاں تک کہا کہ آرٹیکل 62،63کا خاتمہ نہ کرنا ہماری غلطی ہے ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ 58ٹو بی بن جائیگا۔اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کہا گیا جس کی تفصیل آنے والوں وقتوں میں ضرور کوئی کتاب کی شکل دیگا اور یہ ردعمل پاکستان کی تاریخ کے حصے کے طور پر سامنے آئیگا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاناما مقدمے کی دوران سماعت مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اس مقدمے کو سی پیک سمیت خلیجی ممالک کے درمیان جاری تناؤکیساتھ بھی کڑیاں جوڑنے کی کوشش کی گئی۔اس وقت اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور بھارتی میڈیا پاکستان کیخلاف آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدرکے بیان کو لیکر ہرزہ سرائی میں دن رات ایک کیے ہوئے نہ ہوتا۔حکومتی اداروں کی خاموشی نے وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو شہ دی کہ وہ اس حد تک بول گئے جو کہ ناقابل فہم اور کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کرنے کیساتھ ساتھ کشمیر کاز کو نقصان پہنچنے کا موجب بن رہا ہے۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے تو یہاں تک کہا کہ نواز شریف کی نااہلی بغاوت ہے حالانکہ فیصلہ اس ملک کی اعلی ترین عدلیہ سپریم کورٹ نے دیا اس پر اس طرح کی تنقید ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو اس بیان پر قانون کے کٹہرے میں لانا چاہئے تاکہ وہ دوسروں کیلئے نشان عبرت بن سکیں۔قانون کی عملداری جب تک قائم نہ کی جائے اس وقت تک قائم نہیں ہوتی۔سزا جزا کے عمل کو نظریہ ضرورت کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہئے ورنہ یہ سلسلہ رکے گا نہیں جس سے نابلد اور سادہ لوح انسانوں کے نظریات پر فرق پڑتا رہیگا۔اب میں آتا ہوں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے بیان پر جو کہ میڈیا میں شائع بھی ہوا اورنشر بھی۔راجہ فاروق حیدر کا بیان سوشل میڈیا پر بھی موجود ہے اب چاہیں وہ جتنی بھی وضاحتیں دیں اس سے وہ الفاظ واپس نہیں آئیں گے جو انکی زبان سے ادا ہو چکے۔میں نے راجہ فاروق حیدر کے شائع بیان کو بھی پڑھا ہے اس لیے جو تاویلیں راجہ فاروق حیدر دے رہے ہیں وہ ناقابل قبول ہیں اور ٹیکنیکلی غلط بھی ہیں۔اگر وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کو یقین ہے کہ انھوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا جس سے انھیں شرمندگی اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچا ہو تو انھیں قانون کا سہارا لینا چاہئے کیونکہ جن لوگوں کی ابھی تسلی نہیں ہوئی اس وقت ضرور ہو جائیگی۔بیان کا سیاق وسباق کچھ بھی ہو لیکن وزیراعظم آزاد کشمیر کا یہ بیان کہ اب سوچیں گے کس ملک سے الحاق کرنا ہے کسی صورت قابل قبول نہیں۔احترام کیساتھ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر صاحب مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے جہاں کشمیریوں کی بے پناہ قربانیاں ہیں وہیں پر اس ملک کے20کروڑ عوام کی بھی تھوڑی بہت قربانی ضرور ہے۔20کروڑ عوام کشمیریوں کی آزادی کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں خدارا اس کو نظرانداز مت کیجئے آپ کے بیان سے 20کروڑ پاکستانیوں کی بہت دل آزاری ہوئی اور اسی دل آزاری کے نتیجے پر میں سمجھ سکتا ہوں کہ تحریک آزادی کشمیر کی آبیاری کرنے والوں پر کیا گزری ہوگی۔جناب وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر آپ نے اپنے بیان کی وضاحت دیدی کہ آپ کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا لیکن وضاحتی پریس کانفرنس کے دوران آپ پھر کچھ جگہوں پر اپنے بیان کا دفاع کرتے نظر آئے جو کہ کسی صورت کشمیریوں کی ترجمانی نہیں ۔وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر آپ ایک اہم ترین منصب پر فائز ہیں آپ کو اس منصب کا خیال رکھنا چاہئے تھا۔آپکو سی پیک اور خلیجی ممالک میں تناؤ کیساتھ وزیراعظم کی نااہلی کو جوڑنے والوں کی پیروی نہیں کرنی چاہئے تھی۔آپ کو ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے تھاکیونکہ بھارت اور عالمی دنیا آپ کے بیان کو سیاسی نہیں لے گی بلکہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑنے والے اور نام نہاد خود عالمی منصف بنے بیٹھوں کو آپ کے بیان کی ہی تو ضرورت ہوتی ہے تاکہ تحریک آزادی کشمیر کو نقصان پہنچایا جا سکے۔آپ کا منصب پاکستانی سیاست پر بولنے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں یہ آپ بہتر جانتے ہیں اب میں کیا کشمیر اور پاکستان کے آئین کے حوالے دوں جن میں ہر بات واضح ہے لیکن سیاسی بیان بازی اور سیاسی وابستگی کے دوران خدارا کشمیر کاز کو مدنظر رکھا کریں کیونکہ تحریک آزادی کشمیر کی توہین،کشمیریوں کے حق خودارادیت کی پامالی،تحریک آزادی کشمیر کی آبیاری کرنیوالوں کی دل آزاری،کشمیریوں کے جذبات کی توہین کسی پاکستانی کو قابل قبول نہیں ہو سکتی۔وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر آپ کو خیال رکھنا چاہئے کہ آپ تحریک آزادی کے بیس کیمپ کے وزیراعظم ہیں اور بطور وزیراعظم آزاد کشمیر آپ کا ایک ایک لفظ کروڑوں کشمیریوں اور پاکستانیوں کے دلوں سے ہو کر گزرتا ہے ۔کہنے کو میرے پاس بہت کچھ ہے لیکن چونکہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدراپنے بیان کی تردید کر چکے ہیں اور دوسری جانب ہم بیان پڑھ اور سن چکے ہیں تو اس صورتحال میں راجہ فاروق حیدر کو چاہئے کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کیونکہ ہم حقیقت جانتے بوجھتے بھی تردید کے بعد وہ کچھ نہیں کہ سکتے جو کہنا چاہتے ہیں اور مجھے یقین ہے اگر وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر عدالتی دروازہ کھٹکھٹائیں گے تو ہمیں اپنے جذبات اور خیالات کے اظہار کا موقع ضرور ملے گااور اگر راجہ فاروق حیدر عدالتی دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے تو پھر وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر صاحب قلم دوبارہ اٹھیں گے اور پھر شائد قلم سب کچھ بیان کرتے چلے جائیں اور اس وقت تک کرتے رہیں گے جب تک کروڑوں پاکستانیوں و کشمیریوں کی صحیح ترجمانی نہ ہو جائے۔کشمیر ہمارے دلوں میں بستا ہے کشمیر اور کشمیریوں کی محبت کو پاکستانیوں کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکتا اور نہ ہی کسی ایک فرد کے بیان سے اس محبت پر فرق پڑیگا مگر بیان دینے والے پر اپنے جذبات کا اپنے قلم کے ذریعے اظہار ایک قرض بن جاتا ہے جس کو اتارے بغیر سکون نہیں ملتا۔پاکستان کشمیریوں کو کشمیری نہیں پاکستانی سمجھتے ہیں اور اس وقت سمجھتے رہیں گے جب تک ہمارے جسموں میں خون کا آخری قطرہ باقی ہے اور وقت آنے پر ساری دنیاپاکستانیوں کی کشمیریوں سے محبت کو جس انداز میں دیکھنا چاہے گی دکھا دیں گے اور ثابت کرینگے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اس کے بغیر پاکستان مکمل نہیں۔پاکستان اسی وقت مکمل ہو گا جب کشمیریوں کو بھارت سے آزادی ملے گی۔پاکستان اور پاکستانی کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے ہم کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے اور نہ کرینگے۔کشمیری ہمارے بھائی،ہم کشمیریوں پر قربان۔غیرذمہ دار بیانات سے یقین ہو گیا ہے کہ کچھ سیاسی رہنماؤں کی سیاسی تربیت لازمی ہے۔
****