- الإعلانات -

خوراک کی شدید قلت کا خدشہ اور عالمی معاشی بحران

یوں توبھوک اور افلاس سے بلکتے ہوئے لاکھوں انسان ہر ماہ اس کرہ ارض پر دم توڑ رہے ہیں۔زندگی کو زندہ لاش سمجھ کر زندگی سے تنگ آ کر لاکھوں لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں۔ برصغیر میں لاکھوں خواتین غذائیت کی کمی کی وجہ سے زچگی کے دوران جان سے جا رہی ہیں اس پر متزاد ماہرین نے خبردار کیاہے کہ پاکستان کو اگلے تیس برسوں تک خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 2050ء تک دنیا بھر میں غذائی بحران شدید ہو سکتا ہے۔ معزز قارئین گردش افلاک تغیر پذیر ہوتے رہتے ہیں زمانہ کروٹیں بدلتا رہتا ہے۔ کسی بھی ملک کی معیشت پر قدرتی اور غیر قدرتی آفات اثر انداز ہوتی ہیں۔زلزلے، آبادی میں روز افزوں اضافہ، سیلاب اور خشک ترین خشک سالی سے جہاں آبادی کو نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے وہاں کرہ ارض پر اقوام عالم کا خود پیدا کردہ انتشار، دہشت گردی، اقتصادی دہشت گردی، طاقت، دولت اور اختیارات کا غلط استعمال، اپنی دولت میں دوسروں کے حقوق کو نظرانداز کرنا، نت نئی ریشہ دوانیوں سے دوسروں کی دولت کو اپنا دست نگر بنانا، بہت سے مالدار مغربی ممالک کا ترقی پذیر ملکوں سے لوٹی ہوئی دولت کو اپنے ملکوں میں محفوظ جنت فراہم کر نے ا و ر ترقی پذیر ملکوں کو قرضوں کی فراہمی کیلئے عالمی مالیاتی اداروں کی معاونت سے کڑی اور قومی مفادات سے متصادم شرئط تسلیم کرنے پر سے بھی معاشی طور پر تباہی پھیل جاتی ہے۔ آج پوری دنیا کو تین اہم ترین مسائل درپیش ہیں۔ خوراک اور اشیائے خوردونوش کی قلت، غربت اور گرتی ہوئی معیشت، عالمی مارکیٹ میں اشیائے خوردنی خصوصاً زرعی اجناس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ طلب کے مقابلے رسد میں سستی کا رجحان ہے۔ اس کے منفی اثرات دنیا کے35 ترقی پذیر ملکوں پر مرتب ہو رہے ہیں اور ان ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔واشنگٹن میں عالمی شہرت یافتہ اقتصادی ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ پاکستان،انڈونیشیا، مصر، پیرو اور ہیٹی کے علاوہ دیگر ملکوں میں خوراک کے ذخائر پر عوامی حملے ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت ( (FAOکی اطلاع کے مطابق پاکستان میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ پاکستان کے ہمسایہ ملکوں میں غذائی اجناس کی قیمتوں کا زیادہ ہونا ہے۔13 اپریل2008ء کوعالمی بینک کے ہیڈکوارٹر واشنگٹن کے اجلاس میں ماہرین نے خبردار کیا کہ دنیا خوراک کی قلت کی وجہ سے خانہ جنگیوں اور جنگوں کے قریب آرہی ہے۔ ایف او اے کے ڈائریکٹر جنرل جیکس ڈیوس نے بتایا کہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان2004ء سے شروع ہوا۔ عالمی بینک کے ڈائریکٹر رابرٹ ز علیگ نے کہا کہ ترقی پذیر ملکوں کا عجیب المیہ ہے یہاں افراد مہنگی گاڑیاں مہنگے پٹرول سے چلا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب غریب جسم سے جان کا رشتہ قائم رکھنے کیلئے روٹی کی جدوجہد میں مشکل ترین وقت گزار رہے ہیں۔ اس وقت بہت سے ترقی پذیر ملکوں میں صورت حال یہ ہے کہ غریبوں کی اکثریت زندہ رہنے کیلئے اپنی کل آمدنیوں کا75فیصد خوراک پر خرچ کر رہی ہے۔ سائنس دان اور ماہرین ایک عرصے سے مختلف پلیٹ فار م پرموسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ پانی اور غذا کی قلت کے خدشے سے خبردار کر رہے ہیں۔زرعی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے زمین کی زرخیزی میں کمی آرہی ہے اور کئی زرعی علاقے اب کاشت کے قابل نہیں رہے۔زمین پرآبادی میں افزائش مسلسل جاری ہے لیکن زمین کا رقبہ اتنا ہی ہے اور زراعت کیلئے کاشت والے علاقے بھی کم ہو رہے ہیں اس کی وجہ شہروں کا پھیلاؤ ہے۔دوسری جانب انسان خود اپنی تباہی اپنے ہاتھوں پیدا کر رہا ہے۔جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ، پھیلتی آبادیاں اور قابل کاشت زمین کا نامناسب استعمال بھی خوراک کی کمی کے محرکات میں شامل ہے۔ اس وقت زمین پر بھوک کے پھیلنے کی کیفیت یہ ہے کہ ہر9میں سے ایک شخص خوراک سے محروم ہے۔ اناج میں کمی کی ایک وجہ زمین میں زرخیزی میں کمی بھی بتائی جاتی ہے۔ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافے کا عمل روکنا ناممکن ہے۔2030ء میں دنیا کی آبادی8ارب 60کروڑ کے لگ بھگ ہو جائے گی اور 2050ء میں یہ آبادی 10ارب کے قریب پہنچ جائے گی۔ اگر اسی رفتار سے آبادی بڑھتی رہی تو 83برس بعد زمین پر ۱۱ ارب سے زائد نفوس بستے ہوں گے۔اس قدر بڑی آبادی کیلئے خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے راست لائحہ عمل مرتب کیا جانا چاہئیے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ زمین پر پیدا ہونے والے اناج سے خوراک کم نہیں ہوئی ہے لیکن اصل مسئلہ اسکے ترسیل کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ آئندہ تیس سال میں برپا ہونے والی متوقع خوراک کی کمی سے نمٹنے کیلئے ابھی سے صائب کوششیں کی جائیں لیکن ہمارے ملک میں نان ایشوز کی سیاست کا چلن اس قدر عام ہو چکا ہے کہ حقیقی مسائل کی جانب کسی کی بھی نظر نہیں جا تی جبکہ سائنسدان واضح کر چکے ہیں کہ موسم بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان کیلئے بھی خطرہ ہے۔ زرعی شعبے کو ہنگامی بنیادوں پر ترجیح دینا ہو گی لیکن دیگر مسائل کی طرح اس جانب سے بھی پہلو تہی حکومت اور متعلقہ اداروں کا وطیرہ بن چکا ہے۔ یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ دنیا کاشت کاری کیلئے جدید ذرائع استعمال کر رہی ہے لیکن پاکستان میں اناج پیدا کرنے کا عمل اب بھی روائتی ہے جسے تبدیل کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔ د وسری جانب پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک میں ہر سال قرضوں کے بارے میں مزید اربوں ڈالرز کا اضافہ رہا اس طرح ہرسال قسطوں کی ادائیگی نے ان کی معیشت کو نڈھال کر دیا ہے۔ جب بیرونی وصولیوں میں اضافہ نہ ہو اور بیرونی ادائیگیوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے تو ان حالات میں یہ صاف ظاہر ہے کہ روپے پر مزید دباؤ بڑھے گا۔ عالمی مالیاتی بحران، خوراک کی قیمتوں میں اضافے، پاکستانی روپے کی قدر میں روز بروز کمی اور شدید افراط زر سے پاکستانی معیشت مسائل سے دوچار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تیل، گیس، بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملکی زرعی پیداوار میں بھر پور اضافے کی تدبیریں اختیار کی جائیں۔لگثرری کاروں کی درآمد، غیر ضروری اور اشیائے تعیشیات کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے نیز غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی جائے۔