- الإعلانات -

ٹرمپ کی بھارت نواز پالیسی، خطے کے امن کیلئے خطرہ

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں امریکی فورسز کے کمانڈر جان ڈبلیو نکولسن سے ملاقات میں افغانستان اور امریکا کی جانب سے پاکستان پر الزام تراشیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کردار کو داغدار کرنے کیلئے افغانستان اور امریکا کی الزام تراشیاں محض اتفاق نہیں ہیں ۔ ایسے وقت میں پاکستان پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں کہ جب امریکہ میں پالیسی پر نظرثانی ہورہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بے بنیاد الزامات سے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور قربانیوں کی نفی ہے اور اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا کیونکہ دہشت گردوں کو شکست دینا ہمارے قومی مفاد میں ہے۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والی ملاقات میں خطے کی سلامتی کی صورتحال اور بارڈر مینجمنٹ کے اموربھی زیرغور آئے اور علاقے میں امن و استحکام کیلئے تعاون اور مسلسل رابطوں کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک امریکہ تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ 9/11کے بعد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ کہلایا۔ پاک امریکہ تعلقات عروج پر پہنچے مگر کچھ ہی عرصہ بعد اس میں غلط فہمیاں پیدا ہونا شروع ہوگئیں۔ بش دور میں پاکستان پر ڈورن حملوں کی بوچھاڑ کی گئی۔ اوبامہ کا دور ’’ڈومور‘‘ سے عبارت رہا۔ اب واشنگٹن میں ٹرمپ براجمان ہیں جو امریکہ کی مقامی اور بین الاقوامی پالیسی پر نظرثانی کرکے اسے ازسرنو تشکیل دینے کے لیے کافی سرگرم نظر آتے ہیں۔ اسی کے زیراثر ان کی مسلمانوں اور مسلمان ممالک کے خلاف مخاصمت نظر آرہی ہے۔ امریکہ ویزہ پالیسی میں بہت سے ممالک کے شہریوں پر پابندی عائد کردی گئی ہیں۔ اسی طرح ٹرمپ افغانستان کے حوالے سے بھی پالیسی تبدیل کرنے کے متمنی ہیں۔اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی وہ پاکستان کے حوالے سے عدم اعتماد کا شکار ہیں اور اس حوالے سے واضح طورپر بھارت نواز ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ بھارت کے ذریعے پاکستان پر نظر رکھیں گے۔اب جبکہ وہ اقتدار پر براجمان ہیں، ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کے خلاف مختلف پہلوؤں کے حوالے سے پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے ۔ ایک یہ کہ پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں مخلص نہیں، دوسرا پاکستان دہشت گردوں کی حمایت کررہا ہے اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر اقدامات نہیں اٹھارہا، سوم، پاکستان بھارت میں دراندازی کررہا ہے اور چوتھا، پاکستان افغانستان میں امن نہیں چاہتا۔ اس پراپیگنڈہ کے زیر اثر نہ صرف کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم روک لی گئی ہے بلکہ اسے قرضے میں تبدیلی کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔یہ اقدام یقیناًپاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے جس سے ایک طرف دہشت گرد عناصر فائدہ اٹھارہے ہیں بلکہ دہشت گردی کی عالمی کوششوں کو نقصان پہنچ رہاہے۔ اسی تناظر میں امریکہ بھارت دوستی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔امریکہ نے بھارت پر نوازشات کی بارش کردی ہے۔ ایف سولہ طیارے بھارت میں تیار کرنے کے معاہدے کے علاوہ اسے جدید ڈرون بھی فراہم کردیئے گئے ہیں۔اسی چکر میں ٹرمپ نے کشمیر میں ہونے والے بھارتی ظلم و تشدد پر آنکھیں بند کرلی ہیں بلکہ ایک غیرمعمولی اقدام اٹھاتے ہوئے جدوجہد آزادی کی سب سے بڑی عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔ ٹرمپ کی اس بھارت نوازی کا مقصد پاکستان پر چیک رکھنے کے ساتھ ساتھ چین اور روس کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کوبھی روکنا ہے۔ خاص طور پر کشیدگی کی صورتحال پیدا کرکے بھارت کو چین کی بڑھتی معیشت کے لیے ایک سردرد بنانے کی کوشش بھی ہے۔بھارت نے بھی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے جہاں افغانستان میں اشرف غنی کو رام کیا ہے وہی چین کی سرحدپر چھیڑ چھاڑ کا رسک بھی لے لیا ہے۔ بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پراپیگنڈہ کے ذریعے پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسی تناظر میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کسی لگی لپٹی کے بغیر امریکی جنرل سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ افواج پاکستان نے موثر آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کے بہت سے نیٹ ورک نیست و نابود کردیئے۔ آپریشن راہ حق، راہ نجات، خیبر، ضرب عضب اور اب ردالفساد شروع کئے ۔ اس میں فوج اور قوم کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ عام لوگوں اپنے علاقوں کو چھوڑنا پڑا۔ افواج پاکستان کو بہت سی جانیں قربان کرنا پڑیں۔گزشتہ دنوں لاہور میں ارفع ٹاور کے قریب ہونے والے خود کش حملے کے ڈانڈے بھی افغانستان سے ملتے ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ کا اس حوالے سے تبصرہ بھی غور طلب ہے کہ بہت سے ممالک کی خفیہ ایجنسیاں دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کررہی ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاہور اور کابل میں ایک ہی وقت حملے ہو تے ہیں۔ اس تناظر میں ٹرمپ انتظامیہ کو زمینی حقائق ہرگز نظر انداز نہیں کرنے چاہئیں۔ اگر وہ واقعی افغانستان سے دہشت گردی اور خطے میں امن قائم کرنے کا خواہاں ہے تو اسے کسی بھی صورت جانبدارانہ پالیسی اختیار نہیں کرنی چاہئے بلکہ بھارت کی پاکستان کے خلاف معاندانہ پالیسیوں اور افغانستان میں ان خفیہ سرگرمیوں کو قابو میں لانے کے اقدامات اٹھانے چاہئیں جن کے ذریعے وہ پاکستان، امریکہ اور افغانستان کے تعلقات میں بداعتمادی کا زہر گھول کر اپنے مذموم مقاصد پورے کررہا ہے۔
****