- الإعلانات -

جمہوری تسلسل خوش آئند ہے،اسے جاری رہناچاہیے

مسلم لیگ(ن) ، جے یو آئی (ف)، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق)، مسلم لیگ (ض) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے متفقہ امیدور برائے وزارت عظمیٰ شاہد خاقان عباسی 221 ووٹ لے کر بھاری اکثریت سے قائد ایوان منتخب ہوگئے اور انہوں نے وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف بھی اٹھالیا ۔ شاہد خاقان عباسی کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار نوید قمر نے 47، تحریک انصاف کے نامزد امیدوار شیخ رشید نے 33 اور جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے چار ووٹ حاصل کیے ۔ شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، جے آئی ٹی کے بغیر بڑی عدالت لگے گی۔ ہم سابق وزیراعظم کی بے گناہی کی شہادت دیں گے خودکار اسلحہ واپس لیں گے سب کو لائف سٹائل کے مطابق ٹیکس دینا ہوگا، دولت محنت سے کمائی ہر الزام کا جواب دوں گا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ عوام نے قبول نہیں کیا اس سے بڑی عدالت بھی لگے گی اور حقیقی وزیراعظم نواز شریف اس کرسی پر واپس آئیں گے۔ حکومت اپوزیشن ، فوج اور عدلیہ ایک کشتی میں سوار ہیں چھید ہوا تو سب ڈوب جائیں گے آئین پر عمل کرنا ہوگا 45دنوں میں 45 مہینوں کا کام کروں گا۔ اپوزیشن نا اتفاقی کا شکار رہی اور اس کا بکھرنا اس امر کا عکاس ہے کہ آئندہ بھی ان کا یہی عالم رہے گا حزب اختلاف کی صفوں میں عدم اتحاد حکومت کیلئے مفید قرار پایا۔ نئے وزیراعظم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کو درپیش مشکلات سے نکالنے کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں قومی سطح پر مثبت اقدامات اور محاذ آرائی سے چھٹکارے کیلئے کلیدی کردار ادا کریں ۔ سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں اور ایوان نے جس بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر پورا اتریں اس وقت ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے سرحدوں پر بھی کشیدگی ہے اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی خوشگوار نہیں ہیں۔ وزیراعظم عدلیہ پرحرف گیری سے گریز کریں عدالتیں جو فیصلہ دیتی ہیں وہ آئین اور قانون کے مطابق دیتی ہیں ان کو قبول کرنا ہی سودمند قرار پاتا ہے ۔ اداروں سے ٹکراؤ کسی لحاظ سے بھی درست نہیں اور یہ جمہوریت کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ وزیراعظم اپنے منصب کا خیال کریں اور 45 دنوں میں 45 مہینوں کے کام کے دعوے کو سچ ثابت کرکے دکھائیں۔ جمہوری عمل کا تسلسل جاری رہنا ہی ملک و قوم کیلئے نیک شگون اور خوش آئند ہے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ عوام کے معیار زندگی کو بلند کرے امن و امان قائم کرے ملک سے بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کرے اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے اس وقت ایک طرف مکار دشمن بھارت دہشت گردانہ کارروائیوں میں کوئی لمحہ ضائع نہیں ہونے دے رہا اور دوسری طرف سیاسی انارکی اور محاذ آرائی دیکھنے میں آرہی ہے جو جمہوری تسلسل کیلئے نقصان دہ ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دیں تاکہ ملک میں سیاسی استحکام آئے اور ملک ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن ہوسیاست میں اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوا کرتا ہے لیکن گالم گلوچ اور ایک دوسرے پر ایوان کے اندر اور باہر نازیبا رویہ جمہوریت پر ایک بدنما دھبہ ہے آخر کب تک عوام یہ جمہوری تماشا دیکھتے رہیں گے اور ہمارے سیاستدان سیاسی بصیرت اور تدبر کا مظاہرہ کریں ، جمہوری تسلسل کو آگے بڑھانے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کریں ۔ عدالتی معاملات کو نہ چھیڑیں عدالتوں پر بے جا حرف گیری درست نہیں منتخب وزیراعظم پورے ملک کے وزیراعظم ہیں ا ن کو پارلیمنٹ کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا بے شک وہ مسلم لیگ(ن) کو فعال بنانے کیلئے کام کریں اور اپنی وفا داری نبھائیں لیکن اپنے منصب کا لحاظ بھی رکھیں اور اپنے کردار اور اقدامات سے ثابت کریں کہ جمہوریت کس طرح مضبوط ہوتی ہے ۔ سیاست میں ایک دوسرے کو زیر کرنا اور جارحانہ رویہ اپنانا درست نہیں ہے ۔ ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں یہی وقت کی ضرورت ہے ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالنا حکومت کی ذمہ داری ہے نئے وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ جمہوری تسلسل اور استحکام کیلئے اپنی توانائیاں بروئے کار لائیں تاکہ ملک میں سیاسی استحکام آئے اور یہ ترقی کے راستے پر چلے اس وقت ملک میں سیاسی بھونچال دکھائی دیتا ہے جو جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہے سیاست میں برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنایا جائے ۔ نئے وزیراعظم سے عوام کی بہت سی توقعات ہیں امید ہے کہ وہ ان پر پورا اتریں گے اور ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالیں گے۔
عمران نا اہلی کیس میں سپریم کورٹ کے ریمارکس
چیف جسٹس ثاقب نثارنے تحریک انصاف پارٹی فنڈنگ اور عمران خان نااہلی کیس کی سماعت میں اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ممنوعہ فنڈز پر حکومت کو کوئی کارروائی کرنی ہے تو کرے،پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں جعلی سرٹیفکیٹ داخل کرنے پر نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا، قانون میں ممنوعہ فنڈنگ ضبط کئے جانے کا ذکر ہے ، قانون میں کہاں لکھا ہے کہ سزا نااہلی ہے، کیا ہم پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں قانون نہ ہونے کے باوجود عمران خان کو نااہل قرار دے دیں،جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک اچھی بات ہے کہ بیرون ملک سے فنڈز آ رہے ہیں، کیا حکومتیں امریکہ سے پیسے نہیں لیتیں۔ حنیف عباسی کی درخواست پر سپریم کورٹ میں عمران خان کی نااہلی کیلئے غیر ملکی فنڈنگ الزامات کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہاکہ عمران خان کو کس بنیاد پر نااہل کیا جائے ‘ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ اور عوامی نمائندگی ایکٹ میں غلط سرٹیفکیٹ پر نااہلی کی سزا کا ذکر نہیں ہے جبکہ قانون میں ممنوعہ فنڈنگ ضبط کئے جانے کا ذکر ہے۔ قانون میں غلطی اور اس کے نتائج دونوں درج ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے کہا کہ غیر ملکی کمپنی سے فنڈز لینے کا معاملہ نوٹس میں آیا ہے۔ عمران خان کا سرٹیفکیٹ موصول ہونے والے فنڈز کے متعلق تھا۔ ایجنٹ نے قانون اور ہدایات پر عمل کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا۔ امریکہ کے اندر فنڈز لینے پرپابندی نہیں ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ فارا تحریک انصاف پاکستان کی ریگولیٹر نہیں۔ انور منصور نے کہا کہ عمران خان نے سرٹیفکیٹ ایجنٹ کی یقین دہانی کے بعد دیا۔ درخواست گزار وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ فارا کی ویب سائٹ پر تمام معلومات درج ہیں۔ تحریک انصاف چاہتی تو ویب سائٹ پر دیکھ سکتی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ممنوعہ ذرائع سے اکٹھے کے گئے فنڈز وصول کرنے چاہئیں؟ کیا ایل ایل سی کمپنی کا ایجنٹ تحریک انصاف کا ہے۔ وکیل انور منصور نے کہا کہ ہمارے پاس اپنے فنڈز کی تفصیل موجود ہوتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بیرون ملک کارپوریشنز سے فنڈز لینے کی کوئی فہرست آپ کے پاس ہے؟ تو انور منصور نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس وہی فہرست آتی ہے جو ایجنٹ پاکستان بھجواتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ کسی کی نااہلی چاہتے ہیں،اگر جعلی دستاویزات پیش کی گئیں تو جعل سازی کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ عمران خان نا اہلی کیس میں سپریم کورٹ کے ریمارکس قانون و آئین کے آئینہ دار ہیں۔ زیر سماعت کیس پر رائے زنی نہیں کی جاسکتی جو بھی فیصلہ عدالت عظمیٰ کرے گی وہ قانون کے تناظر میں ہوگا اور اس کو قبول کرنا ہی سیاسی تدبر اور بصیرت کا حامل قرار پاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے دوررس نتائج کے حامل قرار پاتے ہیں۔فیصلہ کا انتظار کرلینا ہی بہتر ہے۔