- الإعلانات -

افغانی معدنی خزانے پر امریکہ کی حریصانہ نظریں

مریکی اخبار نیویارک ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق امریکی ماہرین ارضیات نے افغانستان میں معدنیات کے زیر زمین بھاری ذخائر دریافت کئے ہیں جن کی مالیت کا اندازہ 10 کھرب ڈالر سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان معدنی ذخائر میں کاپر، تانبے، لوہے، سونے، کوبالٹ اور دیگر ذخائر شامل ہیں اور ان کی مالیت اس قدر زیادہ ہے کہ ان کو بروئے کار لاکر افغانستان کا شمار معدنیات برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں ہو سکتا ہے۔افغانستان میں لیتھیم کے ذخائر بولیویا کے ذخائر سے بھی زیادہ ہیں اور ان کو اس مقدار میں برآمد کیا جا سکتا ہے جس مقدار میں سعودی عرب خام تیل برآمد کرتا ہے اسی طرح لوہے اور تانبے کے ذخائر اس قدر زیادہ ہیں کہ افغانستان ان کو برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ معدنی ذخائر افغان معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے اصل معلومات سابق سوویت افواج نے حاصل کی تھیں۔ ان معلومات پر مبنی دستاویزات امریکی فوج کے ہاتھ لگنے کے بعد انہوں نے اس حوالے سے مزید کام کیا۔ افغانستان کی یہ معدنی دولت اگرچہ پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے مگر اس کے اہم ترین ذخائر جنوب اور مشرق میں پاکستان افغانستان بارڈرز کے ساتھ ساتھ واقع ہے جہاں طالبان کے ساتھ شدید کشمکش چل رہی ہے۔
اخبار نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹرس کے حوالے سے کہا ہے کہ یہاں پر حیرت انگیز ذخائر کا خزانہ موجود ہے۔ افغانستان میں کان کنی اور معدنیات کی تحقیق و تلاش کیلئے چونکہ کوئی محکمہ موجود نہیں اس لئے اس علاقہ میں کئی ممالک اس سلسلہ میں دلچسپی لے رہے ہیں جن میں چین بہت زیادہ قابل ذکر ہے۔ اس میدان میں بھارت اور روس بھی دلچسپی لے رہے ہیں اور ان کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ دو چینی فرموں نے کابل کے جنوب میں واقع تانبے کی کان کیلئے کام بھی شروع کر دیا ہے۔
افغانستان پر طویل جنگ مسلط کرنے کے 16سال بعد مریکا نے افغانستان کی معدنیات نکالنے کیلئے منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے افغان حکام سے قیمتی معدنیات کی معاشی افادیت پر مذکرات کئے ہیں اور امریکی صدر نے افغان ہم منصب سے بھی بات چیت کی ہے۔اشرف غنی اپنے ملک کی معدنی وسائل سے معاشی استفادہ چاہتے ہیں اور وائٹ ہاؤس کان کنی کے حوالے سے بات چیت کیلئے اپنا نمائندہ بھی افغانستان بھیجنے پر غور کررہا ہے۔سابق افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی ماہرین ارضیات کی ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر کہا تھا کہ قدرتی ذخائر سے فائدہ اٹھا کر جنگ زدہ ملک کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک بنایا جا سکتا ہے۔امریکا کے ایک مطالعے کے مطابق افغانستان میں ایک ٹریلین ڈالرز کے لگ بھگ مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں لیکن جنگ زدہ ملک کی جانب سے اس معدنی دولت سے فائدہ اٹھانے کے حوالے سے شکوک وشبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔امریکی ماہرین کے مطالعے کے حتمی نتائج نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں شائع کئے ہیں جس میں لیتھییم، فولاد، سونے، نیوبیم، کوبالٹ اور دوسری معدنیات کے پہلے سے نامعلوم ذخائر دریافت ہونے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ان معدنی ذخائر سے افغانستان کان کنی کا ایک بڑی مرکز بن سکتا ہے۔گزشتہ پانچ عشروں کے دوران ہونے والی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ہر نئی تلاش اور تحقیق کے موقع پر ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مقدار میں نئے قدرتی وسائل دریافت ہوئے ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ افغانستان کے لیتھییم کے ذخائر بولیویا کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں جو اس وقت اس ہلکی دھات کے سب سے زیادہ ذخائر کا مالک ملک ہے۔ دنیا بھر میں لیتھییم کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہور ہا ہے۔ اس کو موبائل فون سے لے کر کیمروں اور لیپ ٹاپ تک کی بیٹریوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مستقبل میں الیکٹرک اور ہائی برڈ کاروں کی طلب میں اضافے سے اس قیمتی دھات کی طلب میں بھی اضافہ ہو گا۔نیویارک ٹائمز نے امریکی محکمہ دفاع کے ایک داخلی میمو کے حوالے سے لکھا ہے کہ افغانستان میں اس دھات کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ وہ ”لیتھییم کا سعودی عرب” بن سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق افغانستان میں فولاد اور تانبے کے اتنے ذخائر موجود ہیں کہ اس کا شمار ان دونوں دھاتوں کی پیداوار بڑے ممالک میں ہو سکتا ہے۔
افغانستان گزشتہ تین عشروں سے جنگوں اور تنازعات کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس ملک کے معدنی ذخائر سے بہت کم فائدہ اٹھایا جا سکا ہے جبکہ اس وقت جنگ زدہ ملک پر گزشتہ نو سال سے سوا لاکھ کے قریب غیر ملکی فوج قابض ہے جس کی طالبان اور دوسرے اسلامی جنگجو مزاحمت کر رہے ہیں۔ افغانستان کو معدنی دولت سے فائدہ اٹھانے اور اسے مارکیٹ تک لانے کیلئے ابھی بہت اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس وقت اس ملک کے شمالی حصے کو جنوب سے ملانے والی صرف ایک قومی شاہراہ ہے جبکہ اس شاہراہ پر بھی آئے دن بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمزور مرکزی حکومت کی وجہ سے افغانستان فی الوقت اپنی معدنی دولت سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں۔
****