- الإعلانات -

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ۔۔۔۔۔

میرا معصوم حلقہء احباب مجھے تنگ کرتا ہے کہ آپ پانامہ کے ہنگامہ پے رائے دینے سے گریز کرتے ہیں جبکہ میرا حلقہء احباب نہایت مفلس، سادہ لوح، آزاد خیال مگر محب وطن ہیں ہماری دوستی کا کا طویل قیام محض اس لئے ہے کہ ہم غیر سیاسی ہیں اور فرق صاف ظاہر ہے کہ فطری طور پر انسانی جبلت ہے کہ جب سیاست سے پاک خلوص ہوگا تو مسائل کم ہوں گے اور دوست، بھائی تقسیم نہ ہوں گے۔ اب ذرا دکھ بانت لیتے ہیں کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب اور اسمبلی کے چنے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صاحب کو آئین کے آرٹیکل 63,62 کے تحت پانامہ کی پرچیاں تھما کر شاہرائے دستور عبور کرا دیا اور وہ وزیر اعظم ہاؤس سے پنجاب ہاؤس منتقل ہو گئے ہیں اس باور کے ساتھ کہ یہاں کسی لمحہ کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے اور سب کے لئے پیغام ہے کہ یہ ریاست اور اقتدار کسی کی میراث نہیں ، پر مجھے میاں صاحب کا مختصر دورانیے کا احوال دیکھ کر قائد اعظم محمد علی جناح کا فقرہ یاد آیا کہ جنہوں نے مسلم لیگ کے کچھ رفقاء کے بارے میں فرمایا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں اور تاریخ نے دکھا دیا تھا کہ کھوٹے سکے کئی مسلم لیگ بنا چکے تھے جن میں آزاد پاکستان پارٹی، جناح مسلم لیگ، جناح عوامی لیگ، متحدہ پارٹی وغیرہ ، لیکن میاں صاحب کو اندازہ کیوں نہ ہوا کہ ان کی جیب میں کھوٹے سکے تو تھے ہی تھے پر ان کے آستینوں میں سا نپ بھی تھے پر انہیں نظر نہ آئے اور جیب میں ہاتھ ڈالنے کی زحمت ہی نہیں کی اور حسب روایت ایک بار پھر ڈسے گئے پر کسی سے کیا گلہ کہ اپنے قصور اور غلطیاں قطار لگا کے پیچھا کرتی ہوں اور اپنے آستین میں خوشامدی سانپ نظر نہ آئیں تو نتیجہ زہر اگلنا ہی ہوتا ہے اور آپ کسی کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کرتے ہیں۔ حیران کن امریہ ہے کہاس کے باوجود بھی سنبھلنے کے بجائے اگلے اشارے بھی غلطی کی طرف جا رہے ہیں اور بظاہر لگتا ہے کہ یا تو میاں صاحب کسی کا سننا گوارہ نہیں کرتے یا پھر مشورہ کسی غیر کا ہے۔مجھ جیسے مفلس سے ہی مشورہ لے لیتے تو یقین سے کہتا ہوں کہ کبھی رسوائی نہ ہو تی۔ ان کو ہر پل خوشامدی ٹولہ گمراہ کرتا رہا کہ : دلی دو ر است.ان کو سمجھ ہی نہ آئی کی جس Petitionکو تراشے، پکوڑے بیچنے والے ردی کے کاغذ اور غیر قانونی کے نام سے یاد کئے جاتے تھے، کوئی سننے اور لینے کو تیار نہ تھا، کبھی ایک ادارہ اور کبھی دوسرے ادارے کے چکر لگاتے تھے اچانک اہمیت کے حامل قیمتی نوادرات اور سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کیوں بن گئے ہیں تب میاں صاحب کو بھی جاگ جانا چاہئے تھا اور حقائق تلاش کر لیتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا پر اب کیا فائدہ جب پانی حدیں عبور کر گیا تو بند باندھنے کا فائدہ نہ رہا ، اب تو سیاسی، اخلاقی، قانونی، اور معاشرتی ساکھ مجروع کر بیٹھے ہیں اور قانونی جنگ بھی ہار گئے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اب بھی اسی روش پر قائم ہیں کہ کھٹن مراحل سے گذر کر ابھی زخم بھرے بھی نہیں کہ چھوٹے میاں صاحب کو وزیر اعظم کے لئے نامزد کرنے کا فیصلہ کردیا اور پوری جماعت میں کوئی بھی سیماب صفت انسان نہیں ملا یا کہ جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ ہی درست نہیں ہے ۔
بڑے میں صاحب خداہ نا خواستہ اگر چھوٹے میاں صاحب کے کاغزات نامزدگی ہی مسترد کر دئے گئے تو پھر کس کو ڈھونڈیں گے، کس کو سرخاب کے پر لگے ہوں گے اور چھوٹے میاں صاحب تو تب وزارت اعلیٰ کا منصب بھی چھوڑ چکے ہوں گے خیر یہ آپ کا مسئلہ ہے ہم تو بلا معاوضہ مشورہ ہی دے سکتے ہیں ۔ اگر کسی انساں کامشورہ اچھا نہ لگے تو بزرگ کہتے ہیں کہ دیواروں سے مشورہ کر لیں کوئی مفید اور درست سمت دکھا دیں گے پھر شائید آپ کو کوئی چوھدری نثار علی خان صاحب جیسے جانثار، پیر صابر شاہ صاحب جیسے وفادار، جاوید ہاشمی صاحب جیسے علمبردار کی یاد دلا دے تو آپ کا قد بڑھے گا کم نہ ہوگااور آدھے مسائل ویسے ہی کم ہو جائیں گے لیکن مرضی آپ کی اپنی ہے۔ میاں صاحب اپنے روش پر قائم رہیں گے اور شیخ رشید صاحب جیسے سیاستدان کو بھی طعن، مذاق کا موقع ملے گا کہ جس کا نہ کوئی ممبر، نہ ووٹر نہ سپورٹر ہے، مثال اس بچے کی ہے جو محلہ میں کہتا پھرتا ہے کہ .. نہ کھیڈساں تے نہ کھیڈن دیساں ۔۔ میں شیخ صاحب کی بد خوئی نہیں کرتا بلکہ وہ بہت شاطر MNAہیں کہ عمران نیازی صاحب کی پارٹی کے خرچوں، ووٹروں اور سپورٹروں کو استعمال کرتے ہیں اور ایک تیر سے دو شکار کرتے ہیں۔ میاں صاحب کو کسی خوشامدی نے بروقت مفید مشورہ ہی نہیں دیا اور نہ ہی خود شاطر نکلے۔ اگر بیرون ملک اثاثے رکھنے سے سزا ملتی ہے تو سب سے زیادہ اثاثے بنانے کا اعزاز جناب آصف علی زرداری صاحب کے پاس ہے کہ سرے کاوئنٹی سے لے کر بون ویلج فلوریڈا تک گنتی کرنے پے ہی کئی دن لگتے ہیں مگر وہ بھی لوگوں کو قربانی چڑھاتے گئے پر خود پانچ سال مکمل کر گئے کیوں کہ وہ سیاسی شطرنج کھیلنے کے لئے کسی چوھدری نثار علی خان صاحب سے مشورہ لیتے تھے۔ جب خود غلط اقدامات کرتے رہیں گے تو پھر اقتدار سے بھی الگ ہوں گے اور لوگ خوشیوں کا اظہار ان الفاظ میں کریں گے۔۔
گرا ہے جھوم کے دیوار سے جواں ایسا
دھواں قبیلے کے خیموں میں بھر گیا ہوگا
اب ذرا میرے بچپن کے پسندیدہ کھلاڑی عمران نیازی کی خدمت میں بھی عرض کروں میں چھوٹا سا تھا تو ان کی کرکٹ کا دلدادہ تھا اور جلد ہی وہ سیاست دان بن گئے اور پاکستان کے وزیر اعظم بننے کا خواب لے کر سیاسی پارٹی بنائی لیکن ان کو بھی لگتا ہے کسی نے میراثی کی ماں کی مثال نہیں سنائی کہ جو ماں نے اپنے بچے کو گاؤں کے نمبردار کے مرنے پے سنائی تھی۔ اب نیازی صاحب نے کئی سالوں سے میدان سجائے رکھے تھے محض اس ایشو پر کہ شریف برادران کا اقتدار پر قائم رہنا نا قابل برداشت ہے اور انہوں نے عوام کے کسی مسئلہ کو ایشو نہیں بنایا تو نیازی صاحب اب میاں صاحب نا اہل کردئے گئے ہیں اور آپ کامیاب ہو کر شکرانے بھی ادا کر چکے ہیں تو کیا اب سیاست سے کنارہ کش ہوں گے۔ نیازی صاحب سمجھتے ہیں کہ یہ سب میرا کریڈت ہے تو بالکل نہیں بلکہ میاں صاحب کے علاوہ ہر زی شعور فرد اور پاکستانی کو علم ہے کہ سزا میاں صاحب نے کسی اور گناہ کی لی ہے اور کس ڈگر پہ لی ہے۔ ویسے بھی جب رات کو دو بجے لفافے بند ہوتے ہوں وہاں دوہرا معیار ضرور نظر آتا ہے اور تاریخ کے فیصلے ہمیشہ وقت ہی کرتا ہے۔ ویسے نیازی صاحب کو شریف برادران کے علاوہ کسی کے اثاثے اور عوام کے مسائل ایسے ہی نظر نہیں آتے جیسے میاں صاحب کو اپنی غلطیاں اور وفادار ویسے مجھے دونوں کی خصلتیں یکساں نظر آتی ہیں میں بحیثیت پاکستانی احترام کرتا ہوں اس لئے آپ آپس میں معاملات چلائیں میں مشورہ نہیں دوں گاکیوں کہ میں میں غیر سیاسی ہوں۔ آدھی عوام جشن منا رہی ہے اور میں پرنم ہوں کہ بھلے کوئی آئے یا جائے اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور ہماری حالت زار یکساں رہے گی پر میرا سر شرم سے جھکا ہے بین الاقوامی دنیا میں میاں صاحب یا کسی بھی فرد کی بدنامی نہیں بلکہ میری مقدس دھرتی کی توہین اور تقدس پر انگلیاں اٹھتی ہیں اور لوگ ہنستے ہیں کیونکہ میں سیا سی نہیں محب وطن پاکستانی کی سوچ رکھتا ہوں اورمیں اکیلا نہیں کروڑوں اور بھی ایسے ہیں جو انفرادی نہیں اجتماعی سوچ رکھتے ہیں وہ اقتدار نہیں اقدار پسند کرتے ہیں۔اب ذرا اپنی بھولی عوام اور بھائیوں سے عرض کروں کہ عمر بھر ہم عوام جس نے پکارا ہم نے سوچا نہیں اور دن رات اندھیروں اور کڑکتی دھوپ میں اشاروں پے ناچتے ہیں اور اپنا قیمتی وقت، جان ، ماں باپ اور خاندان کے فرائض چھوڑ چھاڑ کے سیاسی مشغلوں میں بھاگ رہے ہیں تو کبھی آپ کا مسئلہ بھی کسی نے سنا ہے کہ آپ پر کیا بیتتی ہے۔ ہم اور سیاست دان تب تک ساتھ ہیں جب تک ان کو ہماری ضرورت ہے نہ کہ ہمیں ان کی جب ہی اسمبلی پہنچ جائیں اور اقتدار کا حصول ہو تو پھر اگلے الیکشن تک سکون نہیں بلکہ ان کے دھونڈنے کا عمل شروع رہتا ہے بلکہ میاں صاحب کی جماعت کے نمائندے اس خصوصیت میں سرفہرست ہیں اور اسمبلی میں بھی چور دروازوں سے داخل اور خارج ہوتے ہیں کہ کوئی مل نہ سکے۔ سڑکوں پر ناچنے اور کسی کو برا بھلا کہنے ،، کسی کو اقتدار دینے اور کسی سے لینا عوامی مسئلہ نہیں عوامی مسائل وہ ہیں جن سے ناچنے والوں کے گھر کو فائدہ پہنچے۔ نیازی صاحب اب آپ کے پاس ایشو کیلئے کچھ نہیں بچا تو میں آپکو بھی عوام کے مسائل کے نام بتا دوں کہ وہ پانی، بجلی، گیس، مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت، دہشت گردی، غندہ گردی، کرپشن، تعلیم، صحت، احتصاب وغیرہ ہیں ہمیں نچانا نہیں۔ میاں صاحب کی خدمت میں عرض ہے گریباں چاک کر کے اپنا احتساب خود کر لیں کہ آپ کو بعداشت کیوں نہیں کیا جاتا اور ادھورا اقتدار چھوڑ جاتے ہیں، ہم سب اللہٓ پے چھوڑ دیتے ہیں اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو بلا معاوضہ مشورہ پیش خدمت ہے۔ میں نے محض اظہار رائے کا استعمال کیاہے اگر ناگوار گزرے تو معظرت کے ساتھ کیونکہ میں محض مسلمان اور محب وطن پاکستانی ہوں اور سیاسی شعور کا علمبردار نہیں بلکہ اس محکم یقین پہ قائم ہوں کہ سب خالق کائنات کی قدرت میں ہے اور ہمیشہ اس نظریہ پر قائم رہ کر سکون اور عزت کی زندگی گراز رہا ہوں کہ:
کسی سرنگوں سی ٹہنی پہ رکھ لیں گے چار تنکے
نہ بلند شاخ ہوگی ، نہ گرے گا آشیانہ