- الإعلانات -

محترمہ عائشہ گلالئی۔۔۔!

قارئین کرام !طویل غیرحاضری کے بعد حاضر خدمت ہوں شاید آج وجہ حاضری محترمہ عائشہ گلالئی کی وجہ سے ممکن ہوئی کیونکہ محترمہ کی کل کی پریس کانفرنس جو نہایت ہی تکلیف دہ تھی ایک ذی شعور پاکستانی اورشعبہ صحافت کے طالبعلم کی حیثیت سے میں نے جوان کے اقوال سنے وہ نہایت ہی نامناسب تھے۔ انہوں نے ایک شخصیت پرہی نہیں بلکہ پوری قوم کی تمام خواتین جو کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کی دل آزاری کی۔ محترمہ کے قول وفعل میں تضاد ان کے چہرے سے عیاں تھا انہوں نے پی ٹی آئی میں موجود ان خواتین کی بھی توہین کی جو ایک سیاسی ورکر کی حیثیت سے وہاں اس پارٹی میں موجود ہیں اور ساتھ ہی ساتھ پی ٹی آئی کے چیئرمین اور صوبائی وزیراعلیٰ اوردیگرمعززاراکین قومی وصوبائی اسمبلی کی کردار کشی کی ہے وہ اپنے آپ کو بہت نیک اوربااصول گرانتی رہی ہیں ۔محترمہ سے اگر سوالات کئے گئے تو وہ ان کاجواب دینے سے بھی قاصر رہی ہیں۔ دوسرا وہ جوزبان اورالفاظ استعمال کررہی تھیں اوروالدمحترم کے مشورے سن رہی تھیں وہ بھی کسی سنجیدہ شخص کے سمجھنے کیلئے مشکل نہیں ہے۔ ایک نجی چینل کے کچھ کرتے دھرتے وہاں موجود تھے جو پہلے ہی متنازع ہوچکے ہیں کیونکہ کل پورے پاکستان کامیڈیا وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے نشریات دے رہاتھا جبکہ وہ مخصوص چینل ان محترمہ کو کوریج دے رہاتھا تاکہ عمران خان کی کردار کشی کی جائے ان کاکہناتھا کہ میں نے جو آخری ملاقات کیاس میں محترمہ عوام کے مسائل لیکرگئی تھیں ان کے ساتھ غریب رکشے والے اورریڑھی بان تھے حالانکہ وہ میڈیا کے مطابق این اے ون پشاور کیلئے ٹکٹ کاتقاضاکررہی تھیں جس کو عمران خان نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ وہ اپنی مشاورتی کمیٹی جوپارٹی کی ہے اس کی تجویز کنندہ کوٹکٹ دینے کااختیاران کے پاس نہیں ہے۔محترمہ گزشتہ چار سال سے زائد اس پارٹی کی ممبررہیں اور قومی اسمبلی میں ان کی حاضری واجبی سی ہے جس کاذکر محترمہ شیریں مزاری نے اپنی پریس کانفرنس میں کردیا۔اگر کوئی بھی شخص ان کی سماجی اور عوام دوست کارروائیوں کو چیک کرناچاہے تو ان کو باآسانی چیک کرسکتا ہے محترمہ کی عوام کی غم خواری بھی ان کی اسمبلی کی حاضری سے عیاں ہے کیونکہ تمام ترقومی اور صوبائی اسمبلی کی حاضری چیک کی جاسکتی ہے وہ ان کی ویب سائٹ پرموجودہے۔ایک طرف تو وہ عوامی پریشانی میں مبتلا تھیں اور دوسری طرف وہ جو زبان اور جو پلیٹ فارم استعمال کررہی ہیں وہ تمام محب وطن پاکستانی جانتے ہیں ان کی یہ پریس کانفرنس بھی باقاعدہ ایک مہم کاحصہ ہے۔ دوسرا انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک پختون فیملی اور قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں اور عمران خان دونمبرپٹھان ہیں اور نیازی دونمبرپٹھان ہیں تومحترمہ سے بھی گزارش ہے اورقارئین کرام آپ بھی یہ چیک کرسکتے ہیں کہ نیازی کسی قبیلے کانام نہیں بلکہ یہ ایک لقب ہے جو فارسی کے لفظ نیازئے سے نکلا ہے جس کامطلب ہے نیازمند، عقیدت مند اوررہی عمران خان کے قبیلے کی بات تو وہ شیرمان خیل قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جن کاباقاعدہ شجرہ موجودہے ۔اگر باریک بینی سے جائزہ لیاجائے تو محسود اورنیازی آپس میں کزن ہیں یعنی (تربور)جوپختون کالفظ ہے ۔شایدمحترمہ کو اس کے بارے میں خبرنہیں۔ ان کے گھریلوماحول کااندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ ان کی چھوٹی ہمشیرہ جو ٹینس سٹار ہیں اور وہ باقاعدہ اس لباس میں کھیلتی ہیں ۔ جو یورپ میں رہناپہناجاتا ہے اب انہیں عمران خان یورپی معاشرے کا نمائندہ لگتے ہیں۔محترمہ نے اپنے ضمیر کاسودا کیا ہے کیونکہ وہ جو زبان استعمال کررہی ہیں وہ کسی اور کی نہیں وہ امیر مقام کے قائد اور وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی پارٹی کی زبان ہے ایک بہت بڑاسولیہ نشان اب ان کی شخصیت اور ان کے گھرانہ پرآگیا ہے کیونکہ قارئین کرام آپ ان کے کردار اور ان کے گھریلو ماحول کااندازہ اس بات سے بھی لگاسکتے ہیں کہ انہوں نے دوران گفتگو محترمہ بینظیر بھٹو کاذکر کیا کہ عمران خان اور ان کے رفقاء محترمہ کے خلاف غلط زبان استعمال کرتے ہیں اور وہ ان کو اپنی بیٹی کہتی تھیں۔اگر محترمہ عائشہ بینظیربھٹو کے غم میں اس قدر مبتلاتھیں تو انہوں نے اپنی والد ہ کی پارٹی کو کیوں چھوڑا ایک عزت مند بیٹی جس کاتعلق چاہے جس بھی قبیلے اور خاندان سے ہو وہ اپنے والدین سے وفاتو کرتی ہے لیکن محترمہ نے ہمیشہ اپنی ذاتی مفادات کو ترجیح دی اور اپنے مقاصد حاصل کئے محترمہ نے نہ صرف اپنی عزت کاسودا کیا بلکہ غیرت مندپختون پر بھی سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔قارئین کرام ناز بلوچ صاحبہ نے ان سے پہلے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا لیکن انہوں نے ان کے الزامات کی تردید کی اور یہ بھی بتایا کہ وہ گزشتہ سات سال تک پارٹی میں رہیں ان کو تو اس قسم کے مسائل کاسامنا کبھی بھی نہیں ہوا ان کے علاوہ دیگر کئی خواتین رہنماؤں نے بھی اپنے رد عمل کااظہار کیا۔محترمہ عائشہ گلالئی نے اپنے کرداراوراقوال سے یہ ظاہر کردیاہے کہ وہ ایک ذہنی مریضہ اور موقع پرست خاتون ہیں اور ان کے والدصاحب اور ان کی تربیت کااندازہ دوران پریس کانفرنس لگایاجاسکتاہے۔آخر پرمیرا صرف اتنا کہنا ہے کہ خدارا اس عارضی دنیا کیلئے اپنی آخروی زندگی کوداؤپرنہ لگائیں کیونکہ اگر ایک انگلی دوسرے کی طرف اٹھائی جاتی ہے تو تین اپنی طرف بھی ہوتی ہیں۔
*****