- الإعلانات -

انتہا پسندی کے فکری جبر کو کچلنے کا عزم

جنوبی ایشیا میں دوبڑے غیریقینی ‘معاملات’ عصرِحاضرکے کسی حد تک ‘عالمی’ اور عمومی طور پر’علاقائی’ سطح پر بہت نمایاں دکھائی دینے لگے ہیں’پہلایہ جبکہ’یک قطبی سپرپاورامریکا‘ ہی کی طرف کی نظریں لگی ہوئی ہیں مگر اِس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ کیا امریکا کا یہ غلبہ مستقبل قریب میں بھی یونہی زبردستی کی دھونسی جانے والی اپنی موجودہ رفتارکو اِسی طرح سے برقراررکھ پائے گا؟اور دوسری جانب چین کی تیزی سے ابھرتی ہوئی سپرپاورکی ایک یقینی حیثیت سے’کبوتروں کی مانند‘ نظریں چرائی جاسکتی ہیں؟اِس کے ساتھ ہی عالمی اورعلاقائی تناظرمیں عمیق اور گہری عالمانہ بحث ومباحث کرنے والے مبصرین کو یقیناًیہ اندازہ بھی کیا اپنے پیشِ نظررکھنا نہیں چاہیئے کہ1998 کے بعد جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت دونوں پڑوسی ممالک بھی عالمی جوہری نظام میں اب اپنی اپنی ایک علیحدہ شناخت بنا چکے ہیں بھارت نے علاقہ میں جوہری اسلحہ کی دوڑ شروع کی جواباً پاکستان کو بھی اپنی قومی سلامتی کے تحفظ پر جائز تشویش ہوئی پھرپاکستان نے بھی اپنے آپ کوبھارت کے مقابلے میں ‘جوہری مزاحمت’سے لیس کیا جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن قائم ہوا ہے بھارت کی فوجی صلاحتیں کتنی اہمیت رکھتی ہیں یہ بات ہمارے لئے فی الحال کوئی وقعت نہیں رکھتی، مگر اِس کے باوجود ہمیں دیکھنا ہے ہوشیاراورچوکس رہنا ہے کیونکہ اگرہماری جغرافیائی سرحدیں ہمارے دشمنوں کی خفیہ سازشوں کی دسترس سے محفوظ ہیں ہماری باقاعدہ آرمڈ سروسنز ملکی دشمنوں کے مذموم عزائم کو تہہ خاک کردینے کے لئے ثابت قدم ہیں، تو یہ امرپاکستان کے 20 کروڑعوام کے لئے باعث اطمینان ہے’ابتداء میں جیسے بات کی گئی کہ دوبڑے غیریقینی عالمی اورعلاقائی ‘معاملات’ کا براہِ راست تعلق پاکستان کی اندرونی وحدت اور سیاسی وسماجی یکجہتی کے علاوہ ہماری سرحدوں پرممکنہ خطرات سے بھی جڑا ہوا ہے اور اِس میں امریکا کا ‘مبینہ کردار’کیا ہوگا؟ چین کہاں کھڑا ہوگا؟ اْس کی علاقائی بیرونی پالیسیاں آجکل کیا اشارے دے رہی ہیں(یاد رہے کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران چین نے کھل کر اور واضح اندازمیں مسئلہ کشمیر سمیت دیگر سرحدی تنازعات میں بطور ‘ثالث’ بننے کا اعلان کیا تھا) جس کا پاکستان نے خیر مقدم کیا جبکہ بھارت نے چین کے ثالثی کردار کی پیشکش کو مسترد کردیا صدر ٹرمپ جنہوں نے اپنا عہدہِ صدارت سنبھالنے سے قبل قارئین کو یاد ہوگا اعلان کیا تھا کہ مسئلہِ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے وہ اپنا ‘عالمی کردار’ ادا کریں گے؟ مگر یہ تو رات گئی بات گئی والی صورتحال ہوگئی ہے بلکہ ٹرمپ انتظامیہ نے تو پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو ماضی کے امریکی صدور کے برعکس مہلک جوہری ہتھیاروں کے کئی سودوں پر دستخط کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ پاکستان مخالف عالمی اورعلاقائی کیمپوں کی کھل کر اور سخت جارحانہ انداز میں پہلے سے زیادہ سرپرستی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں‘ ایسی انتہائی پیچیدہ’ نازک اور حساس فکرمند صورتحال میں اگر پاکستان کے اندرونی سیاسی منظرنامہ پرنگاہ ڈالی جائے تو یہ دیکھ کر ہر کوئی محبِ وطن مزید ذہنی وفکری خلاء میں خود کو بھٹکتا ہوا سا محسوس کرے گا چونکہ سیاسی ادارے اپنا قومی وقارومتانت بالکل کھو چکے ہیں، ہمارا اعلیٰ سطحی سیاسی انفراسٹرکچرتاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر حیراں وپریشاں کھڑا ہوا نظر آتا ہے سیاسی یک جہتی کا کہیں نام ونشان کسی کو دکھائی نہیں دیتا سیاسی افہام وتفہیم مکمل طورپراضطراب وانتشارکا شکارمعلوم دیتا ہے آزاد عدلیہ تاریخ سازفیصلوں کی منزلوں کا پتہ دیتی ہوئی معلوم دے رہی ہیں اپنی جگہ یہ ایک اچھی علامت یقیناًہے عوام منتظر بھی ہیں، جبکہ ایسی گوناگوں اور انتہائی ناگفتہ بہ مسائل میں اگر ہمارے دشمنوں کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں تو اِس کی وجہ صرف ہماری افواج کے ساتھ ہمارے عوام میں پائے جانے والی وہ ذہنی ہم آھنگی ہے جواب اورزیادہ پختہ اور پائیدار ہورہی ہے، افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے عہد ے کا حلف اْٹھانے کے بعد کئی بارمختلف فورموں پر’ پاکستانی سرحدوں کے اگلے مورچوں پراپنے اِس امر کا برملا اظہار کیا کہ ملکی افواج پاکستان کے عوام کے اعتماد پر پوری اترے گی، قوم مایوس نہ ہو، امریکا اور بھارت چاہے کتنے ہی’نکاح‘ کرلیں ملکی قوم اگرمتحدہ ہے اْسے اپنی افواج کے ایک ایک جوان اور ایک افسرافسر پر پختہ یقین اوربھروسہ ہے تو دشمن چاہے کتنا ہی عیار اور طاقتور کیوں نہ ہو وہ پاکستان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا، جنرل باجوہ نے اپنے کہے ہوئے ہر لفظ کی حرمت پر خود عمل پیرا ہوکریہ بتلادیا ہے’مثلا ‘آپریشنِ ضربِ عضب’ کے اختتامی مرحلے میں ہی’آپریشن ردالفساد ‘شروع کردیا گیا‘ یہاں یہ سمجھنا ہرایک ہم وطن بے حد ضروری ہے کہ ‘آپریشن ردالفساد ‘ سرحدوں کے علاقوں میں نہیں ہورہا بلکہ ملکی شہروں’تحصیل ہیڈ کوار ٹرزاور ڈسٹرکٹس ہیڈ کوارٹرز میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر اْن طبقات کیخلاف جاری ہے، جن کے ذہنوں میں دہشت گردی کی مذموم فکریں پنپ رہی ہیں، جو دہشت گردوں کے وائٹ کالر سہولت کارہیں، جو ملک بھر میں انتہا پسندی کی سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں ‘آپریشن ردالفساد’ کی یہ بنیادی حکمتِ عملی اْسی وقت مزید دوآتشہ اور اپنے یقینی کارناموں کو بروئےِ کار لانے میں سرخرو ہوگی ،جب ملک بھر کے گلی کوچوں میں’ ملک بھر کے گاؤں اور تحصیلوں کی چھوٹی بڑی ہر ایک مسجد کے نمازِ جمعہ کے پیش نمازصاحبان تک یہ پیغام پہنچے کہ ہر نمازی اپنے محلوں پر‘ اپنے پاس پڑوس میں آنے والوں پر نظررکھیں‘ اْن کے روزمرہ کے سماجی معاملات سے خود کو علیحدہ نہ کئے رکھیں، کہیں اْن کا کسی مسلح دہشت گردتنظیم سے کوئی تعلق تو نہیں‘ بھارت کسی قیمت پر پاکستان کیلئے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتا وہ پاکستان کو اندرسے سماجی ابتری جیسے مسائل میں الجھانے کی سازشیں کل بھی کرتا تھا آج بھی وہ اپنی اِسی مکروہ بہیمانہ جستجو میں جتا ہوا ہے 80 کی دہائی میں ایک ریٹائرڈ جنرل نے ایک غیر ملکی مصنف’اسٹیون پی کوہن’سے اپنے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا’ پاکستان کو ہر عہد میں سہ محاذی جنگ لڑنا پڑے گی، پہلے بھارت ہے، جو ہمارے وجود کو برداشت نہیں کرتا، دوسرے ہمارے عالمی دشمن ہیں، جن کے ساتھ ابتداء سے ہمیشہ ہماری خفیہ’سردجنگ‘ آج بھی جاری ہے آئندہ بھی جاری رہے گی آخر میں پاکستانی فوج کے سامنے تیسرامحاذ ہے ملک کے اندر وہ لوگ جو ہمیں داخلی طور پر تباہ کرنے کے منصوبے بناتے ہیں‘’37 برس ہوگئے کسی نہ کسی شکل میں پاکستان کی فوج گزشتہ 37 برسوں سے حالتِ جنگ میں ہے آج سے 37 برس قبل ریٹائرڈ جنرل نے اپنے ملک کی قومی سلامتی کودرپیش جن خطرات کی پیش بندی کی تھی، کوئی صاحبِ دل اپنے دل پر ہاتھ رکھ ذرا یہ تو بتائے کہ کیا جیسا کہا گیا تھا ویسا اب تک نہیں ہورہا؟ کئی اقسام کے خطرات نے ملک پر اپنے مہیب اور خوفزدہ سائے نہیں ڈالے رکھے؟اگر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی سربراہی میں ہمارے ملکی کمانڈروں نے اْن طبقات کے خلاف جو دہشت گردی کو ‘پروموٹ’ کرتے ہیں ، دہشت گردی کی سوچ کی آبیاری کرتے ہیں کیا اْن قلع قمع کیا جانا ضروری نہیں؟ملک کی سپریم انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی جسے دنیا بھر کی اولین انٹیلی جنس ایجنسیوں میں شمار کیا جاتا ہے’آپریش ردالفساد’میں اِس قومی ادارے کا بڑا اہم اور حساس کردار ہے قومی سیکورٹی کے اِسی ادارے کے اہلکار اور افسراپنی جانوں کو اپنی ہتھیلیوں پر لیئے ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں جن کی پیشہ ورانہ موثر اور ٹھوس اطلاعات پر ہمارے دیگر سیکورٹی ادارے اُن کی ایک کال پر فوراًجا جھپکتے ہیں اور عباؤں قباؤں میں لپٹے‘ جھوٹی پارسائی کے تکبر کے غرورمیں بدمست اْن سماج دشمن عناصر کا جینا ’آپریشن ردالفساد‘ نے حرام کر رکھا ہے یہی پاکستان کی وحدت کی جیت ہے جس پر ایک پاکستانی کو فخر کرنا چاہیئے۔

گھرکی بھیدی۔۔۔ شوق موسوی
ایک خاتون نے الزام لگائے ایسے
پارٹی اُن کی کسی بات پہ محظوظ نہیں
کہتی ہیں عزتیں کرنا تو الگ بات ہوئی
اُن سے تو عورتوں کی عزتیں محفوظ نہیں