- الإعلانات -

سابقہ پالیسیوں کو برقرار رکھنے اور سی پیک منصوبے کو مکمل کرنے کا حکومتی عزم

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری تسلسل کو چار دن میں بھاری اکثریت سے بحال کیا ہے حکومت کی پالیسیوں کو برقرار رکھیں گے ، وزیراعظم بدل سکتا ہے مگر پالیسیاں برقرار رہیں گی ، سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرینگے۔ایک دو دن میں کابینہ بھی تشکیل دے دی جائے گی ، پرچہ آؤٹ ہونے کا ابھی انتظار کریں،این اے 120 میں الیکشن کیلئے امیدوار کا تعین کیا جانا باقی ہے، ایک دو دن میں نئے وزراء کے نام سامنے آ جائیں گے، مجھے پروٹوکول رکھنا پسند نہیں، لوگوں میں آنا چاہتا ہوں مگر سیکیورٹی والے اجازت نہیں دے رہے ۔وفاقی کابینہ کے حوالے سے سابق وزیراعظم نواز شریف سے بھی مشاورت کی گئی۔ مسلم لیگ (ن) کی تمام پارلیمانی پارٹی کو اکٹھا رہنے اور جمہوریت کو تسلسل کو بحال کرنے پر مبارکباد دی، انہوں نے ہدایت دی ہے کہ حکومت کی پالیسیز جس طرح سے چل رہی تھی انہیں اسی طرح جاری رکھا جائے، سی پیک پراجیکٹس، انویسٹمنٹ کے پراجیکٹس، پاور پراجیکٹس ، موٹروے اور ڈیمز کے پراجیکٹس کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے تا کہ ہم دنیا کو دکھا سکیں کہ منتخب وزیراعظم کو تو بدلا جا سکتا ہے مگر ترقیاتی پالیسیوں کو نہیں روکا جا سکتا۔ایک دو دن میں کابینہ بھی تشکیل دے دی جائے گی، اس کے علاوہ پارٹی امور پر بھی مشاورت کی گئی ہے۔آئندہ ہر محاذ پر انشاء اللہ مسلم لیگ(ن) کامیابی حاصل کرے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے حوالے سے ابھی مشاورت جاری ہے۔ چوہدری نثار کی کابینہ میں شمولیت سے متعلق صحافی کے سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کابینہ کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے، ایک دو دن میں نئے وزراء کے نام سامنے آ جائیں گے، کابینہ کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد نواز شریف لاہور تشریف لے جائیں گے۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا ہے جمہوری تسلسل کو جاری رہنا چاہیے یہ خوش آئند امر ہے اور سابقہ پالیسیوں پر عمل کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری قرار پاتی ہے۔ سی پیک اور دیگرترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی ملک کوترقی اورخوشحالی کے راستے پر گامزن کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت سیاسی تدبر ،بصیرت اور برداشت کے جمہوری کلچر کو بھی اپنائے اور سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلے تاکہ جمہوریت کو کسی قسم کا دھچکہ نہ لگے ملک میں ترقی اور خوشحالی کیلئے سیاسی ہم آہنگی کا ہونا ازحد ضروری ہوتا ہے۔ وزیراعظم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جس عزم کا اظہار کررہے ہیں اس کو عملی جامہ پہنائیں اور ملک کو گھمبیر مسائل سے نکالیں۔ سیاسی محاذ آرائی سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے اور ترقیاتی کام بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتے۔ سابقہ پالیسیوں کو جاری رکھنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے کا جو عزم کیا ہے یہ وقت کی ضرورت ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ سابقہ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کو جلد ازجلد پایہ تکمیل تک پہنچائے تاکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔ جمہوریت میں ضروری ہوتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو دور کیا جائے اور ان کو اپنے ساتھ لیکر چلا جائے وہی حکومت کامیاب قرار پاتی ہے جو سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لیکر چلتی ہے اور ان کے تحفظات دور کرتی ہے جمہوری تسلسل کو جاری رہنا چاہیے یہی وقت کا تقاضا ہے۔
دہشت گردی کا خاتمہ وقت کی ضرورت
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایبٹ آباد میں منعقدہ دو روزہ خصوصی بلوچ رجمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا خاتمہ اور سرحدوں کی حفاظت کرینگے۔ پاک فوج دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے اور سرحدوں کی حفاظت کیلئے اقدامات جاری رکھے گی‘ پاک فوج مادر وطن کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی قربانیوں کو نہیں بھولے گی‘ بلوچ رجمنٹ کے شہداء کی قربانیاں قابل تعریف ہیں۔آرمی چیف نے بلوچ رجمنٹ کی قربانیوں کو سراہا۔ پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے اور سرحدوں کی حفاظت کے لئے اقدامات جاری رکھے گی۔ آرمی چیف نے مادر وطن کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بلوچ رجمنٹ کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے یادگارشہدا پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔کمانڈر 10کور لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا اور بلوچ رجمنٹ کے بڑی تعداد میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ جنرل آفیسر،سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ،بریگیڈئر جنرل اشفاق پرویز کیانی اور سابق چیئرمین جے سی ایس کمیٹی جنرل طارق ماجد اور جنرل راشد محمود بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ آرمی چیف نے بجا فرمایا ہے جب تک ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اس وقت ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ملک کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر ڈالا جاسکتا ہے۔مادر وطن کی حفاظت کیلئے پاک فوج کی قربانیاں قوم کبھی بھی فراموش نہیں کرپائے گی۔عسکری قیادت کا دہشت گردی کے خاتمے اور سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا عزم اس امر کا عکاس ہے کہ وہ دہشتگردی کے اس ناسور کو ختم کرکے دم لینگے۔
اداروں کے درمیان کھینچا تانی جمہوریت کیلئے نقصان دہ
چیئرمین سینٹ رضاربانی نے کوئٹہ میں منعقدہ قومی تعزیتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اور وفاق خطرناک نہج پر آکھڑے ہوئے ہیں ایسے میں اداروں کے درمیان کھینچا تانی اور ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی کوششیں بھیانک نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوگی ہم سینیٹ کی طرف سے انتظامیہ ،عدلیہ اور دیگر اداروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور آپس میں بیٹھیں جب تک 1973کی آئین میں مقررکردہ حدود اور اس کے پیرامیٹرز کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ادارے اپنے حدود میں رہ کر کام نہیں کرتے اس وقت تک غربت ،دہشت گردی ،انتہاپسندی اور انتشار کی فضاء کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ اگر تاریخ کو دیکھا جائے تو یہاں پارلیمان سب سے کمزور رہاہے جو حیرت کی بات ہے۔ تاہم کبھی مارشل لاء اور آمر اس پارلیمان کے خاتمے کا باعث بنتے ہیں تو کبھی کچھ اور عوامل۔آمرانہ ادوار میں آئین میں ترامیم کئی گئیں جن کے خلاف ہم نے جدوجہد کی اور 58ٹو بی کا خاتمہ کیا اس کے بعد نئے طریقہ کار سامنے لائے گئے۔موجودہ حالات میں ملک مزید محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا بلکہ یہ تباہ کن ہوگی میں سینیٹ کی طرف سے تمام اداروں کو ڈائیلاگ کی دعوت دیتاہوں جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے دہشت گردی ،غربت کے خاتمے جیسے چیلنجز سے اس وقت نمٹا جاسکتاہے جب تمام ادارے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے اس کے حدود میں کام کرینگے ۔ چیئرمین سینٹ نے جو کہا ہے وہ بے کم و کاست اور وقت کے تقاضے کے مطابق درست ہے ، انتظامیہ ، عدلیہ اور مقننہ کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے تاکہ اداروں کے درمیان کسی قسم کی خلیج پیدا نہ ہو اور ادارے ترقی کریں اور ان پر کسی قسم کی انگلی نہ اٹھائی جاسکے۔