- الإعلانات -

ابھرتا ہوا چین ایک عالمی معاشی و عسکری قوت

ایشیا بہت بڑی تبدیلیوں کی زد میں ہے چین کی ترقی مغرب اور امریکہ کے لئے سوہان روح بنی ہوئی ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ برتری کھونے کے احساس کے ساتھ امریکی نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں لیکن امریکہ ہی چین کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے کئی دہائیوں سے امریکہ اس کوشش میں لگا رہا کہ کسی طرح چین میں داخل ہو داخلے کا مقصد چین کو فائدہ پہنچانا یا محض سفارتی تعلقات کا قیام نہیں تھا بلکہ داخل ہوکر ایک تو چین کی ترقی اور اس کے حکومتی اور سیاسی ماڈل کا جائزہ لینا تھا بلکہ اصل ارادہ چینی نظام میں نقب زنی تھا اس سے پہلے امریکہ اور مغرب کی جانب سے ریڈیو کے ذریعے چین پر انسانی حقوق کے حوالے سے تنقید ہوتی تو چینی ریڈیو سے سرمایہ دارانہ نظام کی سفاکی پر تنقید ہوتی مزدور کے استحصال کی بات ہوتی اور چین کی جانب سے اپنے کمیون اور وہاں لوگوں کی انفرادی زندگی کی تعریف ہوتی 1971 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجر نے پا کستان آکر چین کا خفیہ دورہ کیا چیرمین ماؤ ،چو این لائی اور اعلی چینی قیادت سے ملاقات ہوئی برف پگھلی اور یہ خفیہ دورہ 1972 میں صدر نکسن کے دورہ چین کی بنیاد بنا چین تب ایک بند معاشرہ تھا سفارتکار صرف بیجنگ تک محدود رہتے چین خاموشی سے اپنی ترقی میں مگن رہا چو این لائی اور چیرمین ماؤ آنجہانی ہونے کے بعد ماؤ کی بیوہ اور ان کے چار ساتھیوں جنہیں چار کا گینگ کہا جاتا نہین پابند سلاسل کردیا گیا جنرل لن پیاؤ چین سے فرار ہو گئے90 کی دہائی میں چین کھلنا شروع ہوا ڈینگ سیاؤ پنگ جو چو این لائی کے منہ بولے بیٹے اور بنیادی طور پرانجنیئر تھے کیمونسٹ پارٹی کی قیادت سنبھالی بیرون ملک موجود چینی سرمایہ کاروں کو چین میں سرمایہ کاری کے لئے مدعو کیا گیا اور انہیں سیاسی اصلاحات کا یقین دلایا اور ذاتی جائیداد کا حق تسلیم ہونے کے بعد پہلی سرمایہ کاری 300 ارب ڈالر کی تھی اس کے بعد چین میں صنعتی انقلاب برپا ہوا چین کی انتہائی شاندار صنعتی ترقی نے مغرب کی نیندیں اڑا دیں سب چین کو روکنے کی تدبیرین کرنے لگے انڈیا کی پیٹ میں بھی مروڑ اٹھنے لگے چین نے تحمل کی پالیسی اپنائے رکھی حکمت اور دانائی سے ہانگ کانگ کا مسئلہ حل کیا دنیا میں کہیں بھی کسی فوجی مہم نہیں کی اور نہ کسی مہم جوئی میں حصہ لیا اور نہ کبھی عسکری طاقت کا مظاہرہ کیا چین اقتصادی طاقت کے ساتھ ساتھ فوجی طاقت میں بھی اضافہ کرتا رہا لیکن کوئی ہتھیار درآمد نہیں کیا نئے ہتھیاروں پر اپنی ریسرچ اور ڈیولپمنٹ جاری رکھی جنگی ہوائی جہاز بنانے میں پاکستان نے فنی معاونت کی جے ایف 17 تھنڈر کی 65 فیصد ڈیزائینگ پاکستان نے کی ادھر انڈیا کی فوج اور سیاست دانوں کرپشن کی انتہا ہو گئی روس کے اشتراک سے ارجن نامی ٹینک بنانے کا منصوبہ شروع ہوا اور 10 ارب ڈالر روس کو بطور ایڈوانس عطا کردئے گئے جس کا آدھا سیاست دانوں اور فوج کی اعلی قیادت کی جیبوں میں چلا گیا 20 سال بعد آج بھی ٹینک ڈرائنگ بورڈ پر ہی ہے اور مزید ایڈوانس دے دیا گیا ہے چین کی دن بہ دن بڑھتی اقتصادی اور فوجی اور بین الاقوامی سیاسی طاقت کے سبب امریکہ انڈیا جاپان آسٹریلیا نے مل کر چین کے بحری راستوں پر رکاوٹ بننے کی کوشش شروع کردی خاص طور پر تیل کی سپلائی کا راستہ طویل ہونے کے باعث چین کے اپنے کچھ تحفظات تھے کیونکہ مشرق وسطی سے چین تک تقریبا 13500 کلومیٹر بنتا ہے اور شپ کو سفر میں 30 دن لگتے ہیں خاص طور پر آبنائے ملاکا سے گزرکر جانا پڑتا ہے چینی نیوی کو اپنے جہازوں کے تحفظ کے لئے لمبا گشت کرنا پڑتا تھا یہاں امریکہ اور اس کے اتحادی چینی تیل اور برآمدات کے روٹ خطرہ بنتے رہتے تھے چین کو یہاں اپنی بحری قوت کی موجودگی رکھنی ضروری تھی چین نے بنگلہ دیش سے چٹاگانگ پورٹ پر چینی بحریہ کیلئے سہولیات کے حصول کا معاہدہ کیا اور ابھی کچھ دن پہلے چین اور سری لنکا کے درمیان معاہدہ ہوا جس کی رو سے ہم بن ٹوٹابندرگاہ چین نے 99 سال کے پٹے پر حاصل کر لی جس پر بھارت امریکہ اور ان کے حلیف چراغ پا ہیں چین سری لنکا جیسے مرکزی لوکیشن میں اپنی بحریہ موجودگی رکھے گا جس کے سبب بحر احمر سے لیکر جنوب مشرقی ایشیا بشمول بحر عرب اور خلیج پر براہ راست نظر رکھ سکے گا کچھ عرصے بعد جب سی پیک مکمل ہو جائے گا تو چین کی 70 فیصد درآمدات اور برآمدات کے روٹ محفوظ ہو جائیں گے چین نے ون بیلٹ ون روڈ کے تحت چین بنگلہ دیش میانمار تھائی لینڈ ویت نام لاؤس اور کمبوڈیا چین سے بذریعہ سڑک براہ راست منسلک ہو جائیں گے ان میں سے اکثر روٹ مکمل ہیں جو باہمی تعاون اور ترقی کی راہیں کھولیں گے چین کا بین الاقوامی امن میں بہت بڑا کردار ہے آج چین افغانستان میں امن کے لئے کوشاں ہے اور تمام فریقوں سے رابطے میں ہیں مشرق وسطی میں بھی چین ایک خاموش کردار ادا کر رہا ہے چین نے تائیوان سے تمام تر اختلافات کے باوجو بھی تعلقات بحال کر لیئے ہیں اور تائیوان اور عوامی جمہوریہ چین کی ایئرلائنز دونوں ملکوں میں آجا رہی ہیں بہت سے چینی سرمایہ کار تائیوان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں چین کا افریقہ میں بھی سیکیورٹی اور تجارت کے حوالے سے بڑھتا ہوا کردار بھی مغرب کے لئے تشویش کا باعث ہے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن جس می روس تاجکستان کازکستان کرغیزستان اور چین شامل ہیں پاکستان اور ہندوستان اس کے تازہ ترین ممبر بنے ہیں جلد ہی منگولیا اور بیلاروس بھی اس تنظیم کے رکن بن جائیں گے گو یہ فی الحال ایک علاقائی تنظیم لگتی ہے لیکن مستقبل میں اس تنظیم کا عالمی امن میں بڑا کردار دکھ رہا ہے چین پاکستان کا عظیم دوست ہے اور یہ دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور دوستی اور تعاون کا یہ سفر مسلسل جاری ہے ہمیں بھی اس نادر موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس کے لئے ہر سطح پر شفافیت انتہائی ضروری ہے خاص کر حکومت ہر معاہدے کو عوام کے سامنے رکھے اللہ ہمیں سچ بولنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے آمین