- الإعلانات -

مدر ایمبولینس سروس ، صحت کے شعبے میں اہم قدم

پاکستان میں زچگی کے دوران خواتین میں اموات کی شرح خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اور ایک لاکھ حاملہ خواتین میں 260 خواتین زچگی کے دوران ہونے والی پیچدگیوں کے باعث ہلاک ہو جاتی ہے۔ایک ہزار نوازئیدہ بچوں میں سے 59 بچے پیدائش کے فورًا بعد مر جاتے ہیں جبکہ ایک ہزار بچوں میں سے 59 بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے مر جاتے ہیں۔زچگی کے عمل میں سب سے اہم مسئلہ ٹرانسپورٹ کی فراہمی تھا کیونکہ سواری کے بغیر دیہی خواتین قریبی بنیادی مراکز صحت یا ہسپتال تک نہیں پہنچ پاتی تھیں چنانچہ خادم اعلی پنجاب نے دیہی علاقے کی حاملہ خواتین کے اس اہم مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ایمبولینس سروس برائے حاملہ خواتین کا اجراء کیا ہے۔ یہ سہولت صرف صوبہ پنجاب میں متعارف کرائی گئی ہے۔ آغاز میں193 ایمبولینسزریسکیو1122کی طرز پر کام کررہی ہیں اور دیہی ایمبولینس سروس کی ہیلپ لائن 1034ہے۔ مزید 200ایمبولینسز جلد اس سسٹم میں شامل کردی جائیں گی۔خالد رانجھا ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ساہیوال میں بطور مانیٹرنگ اینڈ ایولوایشن آفیسرنے بتایا کہ متذکرہ پروگرام کے تحت ضلع ساہیوال کو فراہم کی جانے والی ایمبولینسز کی تعداد سات ہے جو 21 بنیادی مراکز صحت کیلئے ہیں۔ ضلع میں کل 76 بنیادی مراکز صحت موجود ہیں تاہم ان میں سے 21 ایسے ہیں جو پورا ہفتہ چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ ایمبولینس کی تعداد کی مناسبت سے 21 بنیادی مراکزِ صحت کو 7 کلسٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کال کرنے پر ایمبولینس متعلقہ جگہ پہنچ جائے گی تاکہ حاملہ خواتین یا مریض بچوں کو کلسٹر میں شامل متعلقہ بنیادی مرکزِ صحت پر منتقل کیا جا سکے۔ تحصیل ساہیوال میں تین جبکہ تحصیل چیچہ وطنی میں بھی تین کلسٹرز بنائے گئے ہیں۔ ہر کلسٹر میں کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ چار بنیادی مراکز صحت شامل کیے گئے ہیں تاہم ایمبولینس ایک منتخب بنیادی مرکز صحت پر موجود ہو گی۔ کال کرنے پر ایمبولینس متعلقہ جگہ پہنچ جائے گی تاکہ حاملہ خواتین یا مریض بچوں کو کلسٹر میں شامل متعلقہ بنیادی مرکز صحت پر منتقل کیا جا سکے۔یحام بیگ بنیادی مرکزِ صحت 110 سیون آر میں بطور میڈیکل آفیسرکا کہنا ہے ان کوشش کی جا رہی ہے کہ چار ہندسوں پر مشتمل کوئی ایک مرکزی نمبر حاصل کر لیا جائے تاکہ کال کرنے میں آسانی ہو تاہم جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک ڈرائیور کے نمبر پر کال کر کے ایمبولینس منگوائی جا سکتی ھے۔ لیڈی ہیلتھ وکرز کی مدد سے اس سہولت کے متعلق عوام کا آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ضرورت پڑنے پر اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔یہ سروس دیہی علاقوں میں بہت تیزی سے مقبول ہورہی ہے اور اس وقت اوسطا 200 دیہی حاملہ خواتین کو اس سروس کے ذریعے بنیادی مراکز صحت تک پہنچایا جارہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں اس سہولت بارے آگاہی بڑھے گی اور خادم پنجاب دیہی ایمبولینس سروس کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوگا۔لوگوں نے حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کے لیے کی جانے والی حکومت کی اس کاوش کو سراہا ہے۔ان کے مطابق شہروں میں تو لوگ باآسانی پرائیویٹ ایبمولینس کو کال کر لیتے ہیں یا پھر 1122 کی ایمبولینس سروس سے مستفید ہو جاتے ہیں لیکن دیہات کی سطح پر ایمبولینس کی بروقت دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے۔’رورل ایمبولینس سروس کی بدولت یہ مسئلہ کافی حد تک کم ہو جائے گا۔دیہی علاقوں کے عوام نے خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا ہے کہ پسماندہ علاقوں کو یہ سہولیات فراہم کرنے سے ان کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔ اسی پروگرام کے تحت ان کے نوزائیدہ بچوں کی صحت اور بہتری کیلئے 17بنیادی مراکز صحت نے غذائی کمی کا شکار بچوں اور ماؤں کا مفت علاج کیا جا رہا ہے۔اس پروگرام کے تحت محکمہ صحت نے کنٹریکٹ پر بھرتی ملازمین کو ریگولر کر دیا ہے جس میں پنجاب کے 234ملازمین شامل ہیں۔
*****
گھرکی بھیدی۔۔۔ شوق موسوی
ایک خاتون نے الزام لگائے ایسے
پارٹی اُن کی کسی بات پہ محظوظ نہیں
کہتی ہیں عزتیں کرنا تو الگ بات ہوئی
اُن سے تو عورتوں کی عزتیں محفوظ نہیں