- الإعلانات -

دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں

حضرت اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا۔
خُرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
دل انسانی جسم میں مرکزیت کا حامل ہے۔ قلب مومن کو عرش الٰہی کہا گیا ہے ۔ علماء سے لیکر شاعروں تک نے اس پر بہت طبع آزمائی کی لیکن نیوز یہ موضوع تشنگی کا شکار ہے لیکن جب قرآن کریم اور سرکار دو عالمؐ کی احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیراب ہوگئے ۔ حضور پر نورؐ نے ارشاد فرمایا سنو جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہوتا ہے تو سارا جسم درست ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے ‘‘۔ اللہ کریم نے انسانوں کے غورفکر کیلئے اپنی اس وسیع کائنات میں لاتعداد نشانیاں بکھیر دیں تاکہ ان نشانیوں پر غور ، فکر کے ذریعے وہ معرفت الٰہی حاصل کرسکے ۔ انسانی جسم میں دل کی اہمیت کے بارے میں حضورؐسرور کونین کا ارشاد ہے انسان کا دل بہت قیمتی چیز ہے کیونکہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی پہچان سماتی ہے جس ذات کو وہ ظہری آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا وہ دل کی معرفت سے دیکھ سکتا ہے‘‘۔ قلب کے صرف یہ معنی نہیں کہ وہ انسانی جسم کو صرف خون پمپ کرتا ہے بلکہ یہ گوشت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا معرفت الٰہی اور ادراک کا اہم ترین ذریعہ ہے جسکا اثر پوری انسانی زندگی پر قائم ہے۔ انسان اپنے تمام اعضاء کو اسی سے کنٹرول کرتا ہے ۔ دل انکا سردار ہے نیکی اور بدی کا خیال بھی پہلے دل ہی میں پیدا ہوتا ہے طبی اور روحانی طورپر بھی جب دل میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو انسان کے اعمال ، افعال میں بھی بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے ۔ تخلیق آدمؑ کے بعد اسے معرفت کی تعلیم اور برائیوں سے بچانے کیلئے اللہ رب العزت نے انبیاء کو معبوث فرمایا اور انہیں یہ فریضہ عطا فرمایا کہ وہ اللہ کی آیات انسانوں کو سنائیں انہیں پاکیزہ کریں اور پھر کتاب ، حکمت کی تعلیم سے نوازیں ۔ دل سے مراد وہ کیفیات ہیں جو مسلسل وارد ہوتی ہیں اسرار ، رموز دل میں مخفی ہوتے ہیں اور علوم ، اتوار سے دل معنی ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں مجموعی طورپر 133 مرتبہ دل کا ذکرفرمایا گیا اس سے اندازہ لگا لیجئے کہ یہ موضوع کتنا اہم ہے ۔ دل اگر صالح اور درست ہو اسمیں خوف الٰہی موجود ہوتو شیطان کے تمام وسوسوں بچاجاسکتا ہے ورنہ ہر کام پر چیلنج موجود ہوتا ہے۔ ذکر الٰہی سے دل دنیاوی فتنوں سے محفوظ رہتا ہے ورنہ دل پر فتنوں کے حملے تو مسلسل ہوتے رہتے ہیں ۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا جو شخص ان فتنوں کو قبول کرلیتا ہے تو اسکے دل پر ایک سیاہ داغ ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اگر وہ اسی کیفیت میں رہے تو پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے ۔ یعنی دل معصیت، کفر اورشرک میں گھر جاتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے ’’ خبردار سن لو ان کے دل پر زنگ چڑھ جاتا ہے اور اسکی وجہ انکا اپنا کیا دھرا ہے‘‘ اللہ تعالی نے دل کے ساتھ کان اور آنکھ کا ذکر بھی فرمایا ہے ۔ دل گوشت کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ اسکو عقل ، قلب اور فواد سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ سوچ کا تعلق بھی دل سے ہے اور پھر قوت ارادہ کا تعلق بھی دل سے ہے۔ اور اللہ نے فرما دیا کہ کان آنکھ اور دل کا بھی حساب ہوگا ۔ آخرت میں زبان بند ہوگی اور اعضاء اللہ کو اپنے اعمال کے بارے میں بتائیں گے اورجہنم کی آگ کا سب سے پہلے اثر بھی دل پر ہوگا۔ دل ہی منبع اخلاق ہے۔ محبت ، نفرت کے تمام جذبات دل ہی میں پیدا ہوتے ہیں کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ بھی دل سے متعلق ہے۔ نبی اکرمؐ کی حدیث مبارکہ ہے دل چار قسم کے ہوتے ہیں ’’ قلب اجرد ایسا دل جو صاف شفاف ہو دوسری قسم قلب اعلف ایسا دل جو غلاف میں بند ہو تیسری قسم قلب منکوس ایسا دل جو اوندھا ہوا اور چوتھی قسم قلب معضع ایسا دل جو پہلو والا ہے ۔ فرمایا صاف اور شفاف دل تو مومن کا ہوتا ہے دوسری قسم کا فر کے دل کی ہے جو غلاف میں بند اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا جیسے پرندے کو پنجرے میں بند کردیا جائے تیسری قسم اوندھا دل جو منافق کا ہوتا ہے جس نے ایمان کو پہچان کر قبول نہ کیا اور چوتھی قسم وہ ہے جس میں ایمان بھی ہوا درنفاق بھی ۔ ایمان کی مثال تو اس پودے کی طرح ہے جسے پاکیزہ پانی سیراب کرتا ہے۔ اسکی نشو ونما بہترین ہوتی ہے ۔ دل کی کیفیات حالات بھی یکساں نہیں رہتے ایک بزرگ حضرت ابوبکر وراقؒ فرماتے ہیں کہ قلب پر چھ قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں، حیات، موت ، صحت ، بیماری بیداری اور نیند، قلب کی حیات ہدایت پر منحصر ہے۔ اگر ہدایت نصیب ہو جائے تو دل زندہ ہے اگر محروم رہے تو اسکی موت ہے قلب کی صفائی اور صحت طہارت اور پاکیزگی پر منحصر ہے۔ دل کی بیداری ذکر الٰہی میں ہے اور اگر یاد الٰہی سے غفلت ہے تو سمجھ لیں یہ دل کی موت ہے۔ قرآن کریم میں مالک کل نے فرمایا ’’ جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی اور ان انسانوں کے قلوب کی متعدد اقسام بھی ظاہر فرما دیں جسے قلب سلیم ، قلب منیب ، قلب قاسی سخت دل قلب منجت جھکنے والا دل ، قلب تقی ، قلب مہدشی ، قلب مطمئن ، قلب حئی ، قلب مریض قلب عمیٰ، قلب علف، قلب زائغ، قلب مریب ، قلب منافق، قلب وجل، قلب دانشنمد، زنگ آلود قلب ایمان والے قلوب اور بے ایمان قلب دل ہی غوروفکر فہم و تدبر اور فیصلہ کرنے والا عضو ہے۔ الہام ربانی کا مرکز بھی ہے دین کی عمارت کی بنیاد بھی دل ہے قلب اللہ تعالیٰ کی توجہ اور اسکی عنایت کا محل ہے حدیث قُدسی ہے اللہ نے فرمایا میری گنجائش نہ زمین میں ہے اور نہ ہی آسمان میں میری گنجائش مومن کے نرم اور پرسکون دل میں ہے جس دل میں صدق نہیں وہاں برائیاں جنم لیتی ہیں ۔ اللہ اور اسکے محبوبؐ کی اطاعت دل کو آباد رکھتی ہے اوربرائیاں جگہ نہیں بنا سکتیں۔ سرکارِ دو عالم ؐنے فرمایا نیکی وہ ہے جس سے دل مطمئن ہو اور دل کو اطمینان نصیب ہو اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے اور دل میں تردد پیدا ہو ، اصل میں ہاتھ پاؤں آنکھ اور دیگر اعضاء دل کے معاونین ہیں یہ چاہیں تو دل کو مطہر اور روشن رکھیں یا پھر دل کو سیاہ کردیں۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ قرآن پاک کا نزول بھی سرکار مدینہ کے قلب اطہر پر ہوا جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ایمان والوں کیلئے ہدایت اور بشارت ہے۔ اللہ کی رضا سے دل افسردگی ملال بیزاری وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہنے سے برائیوں سے نجات ملتی ہے ارشاد ربانی ہے جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی ہوتی ہے۔ قرآن کریم اور حدیث مبارکہ کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کا مخاطب دل ہی ہے علامہ اقبال کا شعر ہے
غافل تر زمرد مسلمان نہ دیدہ ام
دل میان سینہ اد بیگانہ زد لٰ ست
*****