- الإعلانات -

گائے کے نام پرگائے کے نام پر

چودہ اگست جوں جوں قریب آ رہا ہے یوم آزادی کی تیاریاں بھی عروج پر جا رہی ہیں۔سبز ہلالی پرچم سے کوچہ بازار سجنے لگے ہیں۔گزشتہ برسوں کی طرح انشااللہ اس برس بھی پورے ملی جوش جذبے کے ساتھ یہ دن منایا جائے گا۔یہ رب کا کرم ہے کہ پاکستان کا ستر برس کا یہ سفر حوصلہ افزا ہے۔وہ ہندو رہنما جو یہ خواب دیکھ رہے تھے کہ جلد پاکستان ایک پکے ہوئے پھل کی مانند بھارت کی جھولی میں آ گرے گا وہ یہ حسرت لیے دنیا سے رخصت ہو گئے مگر پاکستان جس نظریے پر الگ ہوا اللہ کے فضل و کرم سے اس پر قائم رہا اور رہے گاجبکہ بھارت جس نے اپنے لیے سیکولرزم کی راہ منتخب کی تھی اس سے کوسوں دور جا چکا ہے۔اگرچہ ہندو توا کی سوچ تقسیم ہند کے بعد ہی سے پنپنا شروع ہو گئی تھی مگر نریندرا مودی کے راج میں آنے کے بعد سب کچھ چوپٹ ہونے لگے گا ہے۔آج تو لگتا ہے بھارت انسانوں کا نہیں گائے بھینسوں کا ملک ہے۔قارئین یہ بھپتی نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے کہ بی جے پی کے رہنما امت شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ گائیوں کیلئے ایک الگ وزارت قائم کرنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔موصوف نے یہ انکشاف اگلے روزلکھن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔اس موقع پر ریاست اترپردیش کے وزیرِ اعلیٰ جوگی ادتیاناتھ بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔حالیہ دنوں میں گائے کے تحفظ کا معاملہ بڑی شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔اس سلسلے میں اب تک کئی مسلمانوں کو مشتعل ہجوموں نے گائے کی بیحرمتی کے جرم میں قتل کیا ہے۔کسی نے درست لکھا ہے کہ ہر بیس سیکنڈ بعد ایک عورت ریپ ہو جاتی ہے لیکن کسی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہوتی لیکن ایسی ریاستیں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں گؤرکھشا کمیشن قائم کیے جاچکے ہیں جو گائیوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کیلئے کام کرتے ہیں۔ریاست ہریانہ بارے اطلاعات ہیں کہ وہاں گائیوں کے تحفظ کے لیے خصوصی پولیس فورس قائم کی گئی ہے۔2014 میں جب نریندر مودی اقتدار میں آئے تھے تو انھوں نے عہد کیا تھا کہ گائے کا قتلِ عام روکیں گے۔وہ اپنے اس عہد کو وفا کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں مگر فرق صرف اتنا ہے کہ اب یہ قتل عام مسلمانوں اور دلتوں کا شروع ہو گیا ہے۔یہ صورتحال معتدل مزاج حلقوں کیلئے باعث تشویش ہے۔اقلتیں کس حال میں ہیں اسکا احوال اس کھلے خط سے ظاہر ہوتا ہے جو بھارت کے 65 سابق فوجی افسروں نے نریندر مودی کے نام لکھا ہے جس کی تفصیلات گزشتہ روز ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔خط میں مسلمانوں اور دلتوں پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔اس خط پر انڈین آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے سابق افسران نے دستخط کیے ہیں۔مسلمانوں اور دلتوں پر مشتعل ہجوم کے بڑھتے ہوئے حملوں کی دو ٹوک انداز میں مذمت کرتے ہوئے انہیں بھارتی سالمیت کے خلاف قرار دیا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی گزشتہ تین سال سے برسراقتدار ہے.مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے مسلمانوں اور نچلی ذات کے دلتوں پر انتہا پسند ہندوں کے دہشت گردانہ حملوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ پچھلے ایک سال سے ہندوتوا یا ہندو دھرم کی بالادستی کے نام پر دہشت گردانہ وارداتوں کا رجحان بڑھ گیا ہے۔درجنوں ہندو ایک ہجوم کی شکل میں چند نہتے مسلمانوں یا دلتوں پر حملہ کرکے انہیں قتل اور زخمی کردیتے ہیں مگر پولیس نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے فائل بند کردیتی ہے۔یہ واردتیں ڈھکی چھپی نہیں بلکہ سرعام ہوتی ہیں لیکن اصل ذمہ داران کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی بھی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ان حملوں کے خلاف نہ صرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی پر خاموشی چھائی رہتی ہے بلکہ مجموعی طور پر بھارتی سیاسی قیادت اور میڈیا بھی کچھ نہیں بولتا جس کی بنا پر انتہا پسند ہندو دہشتگردوں کے پر ہجوم اجتماعی حملوں کا رجحان جڑ پکڑ چکا ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک اور باعث تشویش صورتحال ہے جس پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے بھارتی فوج کے سابق افسران نے نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھ کر آئینہ دکھایا ہے۔ علاوہ ازیں اس خط میں گؤ رکشک اور ہندوتوا رکشک کے نام سے وجود میں آنے والے انتہا پسند جتھوں اور ان کے دہشت گردانہ حملوں پر شدید نکتہ چینی بھی کی گئی ہے۔ بھارتی فوج کے سابق افسران نے دل گرفتگی کے ساتھ لکھا ہے کہ ہندوتوا کے نام پر کیے جانے والے یہ حملے بھارتی فوج اور آئین کی بالادستی، دونوں کیلئے بدترین مثال ہیں۔ مذکورہ افسران نے ان حملوں کے خلاف چلنے والی مہم ناٹ آن مائی نیم مہم کی بھی حمایت کی کہ ہم ان کیساتھ ہیں۔انہوں نے لکھا کہ بھارت کے موجودہ حالات قابلِ نفرت، خوفزدہ کرنے والے ہیں۔اسی طرح انہوں نے بھارت میں اظہارِ رائے کی آزادی کو ملک دشمنی قرار دینے کی روِش اور حکومتی خاموشی کو بھی مجرمانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات بھارت کو تقسیم کررہے ہیں جس سے انہیں شدید تکلیف پہنچی ہے۔انہوں نے خط میں اپنی عوام کو احساس دلایا ہے کہ اگر ہم سیکولر اور اعتدال پسند اقدار کے حق میں نہیں بولیں گے تو اپنے ملک ہی کا نقصان کریں گے۔ہم سابق فوجیوں کا ایک گروپ ہیں، جنھوں نے اپنی پوری زندگی ملک کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ہے۔ منظم طور پر ہم کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے۔ ہمارا مشترکہ عزم صرف انڈیا کے آئین کی سربلندی ہے۔فوج میں اپنی خدمات کے دوران انصاف، کشادگی کا احساس اور منصفانہ رویے نے ہمیں صحیح اقدامات کرنے کی راہ دکھائی۔سابق فوجی افسران کا یہ کھلا خط مودی کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔یہ شرمناک بات ہے کہ ہندوستان کی حکومت اس معاملے میں یا تو کچھ نہیں کر رہی یا پھر ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات اتنے ناکافی ہیں کہ جن کی بھرپور مذمت کرنی چاہیئے۔بی جے پی کی حکومت کے اقدامات اشک شوئی کے سوا کچھ نہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سلسلہ کہاں جا کے رکے گا۔یہ انتہا پسندی آخری ہندوستان کو کہاں لے جائے گی ۔مودی کا نعرہ ترقی تمام کیلئے مکمل طور پر جھوٹا نعرہ بن چکا ہے ۔حالت یہ ہے کہ سیکولر قوتیں خود ناکام ہو چکی ہیں۔لبرل دانشور بھی اب اپنی صدا بلند کرتے ہوئے خوف کھاتے ہیں۔یہ تمام لوگ اب خوف اور دہشت کے پنجرے میں بند ہو چکے ہیں۔سابق فوجیوں نے ملک میں آزادی اظہار پربعض حلقوں کی جانب سے عدم برداشت کا مظاہرہ کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘میڈیا، سول سوسائٹی، یونیورسٹی، صحافی برادری اور دانشوروں کے اظہار رائے کی آزادی پر حملے، باقاعدہ مہم چلا کر انہیں ملک دشمن قرار دینے اور ان کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر حکومتی خاموشی بھی قابل مذمت ہے۔اسی طرح کا ایک خط گزشتہ برس آر جے ڈی کے صدر لالو پرساد یادو نیمودی کو لکھا تھا۔ خط میں انہوں نے مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی۔لالو نے خط میں گجرات کے اونا میں دلت نوجوان کے ساتھ مارپیٹ کیلئے بی جے پی اور آر ایس ایس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ساتھ ہی انہوں نے گؤرکشا کے نام پر ملک میں بڑھتے جرائم پر وزیر اعظم کی خاموشی پر سوال اٹھایا تھا۔ انہوں لکھا تھا کہ میں مکمل عاجزی سے آپ کی توجہ آپ کی آبائی ریاست گجرات میں احمد آباد سے 360کلومیٹر دور اونا میں وقوع پذیراس بدقسمت واقعہ کی طرف لے جانا چاہوں گا، جس کے بارے میں پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ جی نے کہا کہ آپ کو اس واقعہ سے گہرا دکھ پہنچا ہے۔جی ہاں، میں اسی واقعہ کی بات کر رہا ہوں، جس میں چمڑے کی صنعت سے وابستہ چار دلت نوجوانوں کو بے رحمی سے سرعام بری طرح سے صرف اسی لئے پیٹا گیا کیونکہ انہوں نے اپنی روزی روٹی کیلئے مری ہوئی گائے کے چمڑے کو اتارا تھا۔یہ جو گؤ سیوا اور گؤرکشا کے نام پر رمتوں (مشروم) کی طرح جگہ جگہ تشدد نام نہاد گؤ-رکشا دل وغیرہ پنپ رہے ہیں،اس آگ کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ آر ایس ایس اور آپ کا ہی ہے۔یہ ایک تفصیلی خط تھا جس میں لالو پرساد نے کھل مودی کو گائے کی آڑ میں قتل و غارت کا ذمہ دار ٹھہرایا اور یہاں تک لکھ ڈالا کہ آپ نے تو لوگوں کو بانٹ کر، زہر پلا کر ووٹوں کی خوب کاشت کی اور جو چاہتے تھے وہ بن گئے لیکن خوشبویا زہر رہ رہ کرنسل پرستی اور فرقہ وارانہ سانپ کی شکل اختیار کر کے، وقت وقت پر زہریلا پھن اٹھاتا ہے اور ملک کی امن اور ہم آہنگی کو ڈس کر چلا جاتا ہے، مجھے انتہائی دکھ ہے کہ مجھے اپنے ملک کے وزیر اعظم کو یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ یہ آگ آپ ہی کی لگائی ہوئی ہے۔ اس آگ میں بھسم ہو کر جو گؤ پال، کسان بندھو، دلت، قبائلی اور اقلیت مر رہے ہیں،اس کے مجرم صرف آپ، آپ کی پارٹی اور آپ کی عدم برداشت نظریات کی ماں سنگھ ہی ہے۔
*****