- الإعلانات -

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے مظالم کا نوٹس لے

ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں سنگین مظالم میں اضافہ ہورہا ہے اور حریت قائدین کو ہراساں کیا جارہا ہے اور کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی تحریک کو دہشت گردی سے منسوب کرنے کی کوشش کررہا ہے‘ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے‘ عالمی برادری صورتحال کا فوری نوٹس لے‘ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل کے لئے پائیدار اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے‘ پاکستان کو افغانستان میں داعش کی موجودگی اور سرگرمیوں پر شدید تشویش ہے اور اس کے خطرات سے نمٹنے کے لئے اقدامات کررہا ہے‘ پاکستان نے دہشت گردی سے شدید جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے‘ بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونا ایک ناقابل تردید حقیقت ہے‘ سہیل محمود بھارت میں عبدالباسط کی جگہ سفیر کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کے حملے کی مذمت کرتا ہے اور اس پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ امریکہ کے قائم مقام انڈر سیکرٹری پاکستان کے دورے پر ہے۔ وفد نے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کی اور افغانستان اور خطے کی علاقائی صورتحال پر غور کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری ہے گزشتہ چھ دنوں کے دوران آٹھ کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے ایک سو دس لوگوں کو زخمی کیا گیا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو دہشت گردی سے منسوب کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے کوششیں ناکام ہورہی ہیں۔پاکستان مقبوضہ کشمیر میں حریت قائدین کی مسلسل نظر بندی کی مذمت کرتا ہے۔ نوجوانوں اور کارکنوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ چھ ہفتوں سے مسلسل مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو نماز جمعہ ادا کرنے سے روکا جارہا ہے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے۔ پاکستان کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کی تحریک کی اخلاقی‘ سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور امن کے حوالے سے کوششوں میں مخلصانہ طور پر حصہ لیتا رہا ہے۔ سرحد کے آر پار دہشت گردی پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کو تعاون کرنا چاہئے اور بارڈر مینجمنٹ کو موثر بنانے کے لئے تعاون کرنا چاہئے۔ پاکستان کو افغانستان میں دہشت گردی کی موجودگی پر شدید تشویش ہے پاکستان افغانستان سے داعش کے خطرات سے نمٹنے کے لئے موثر اقدامات کررہا ہے اور سرحد کو ڈرگ سمگلنگ اور دہشت گردوں کو روکنے کے لئے موثر بارڈر مینجمنٹ پر زور دیتا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے اداروں نے ان کے پاکستان کے حوالے سے کسی کے خلاف بیان رپورٹ نہیں کیا تھا۔ کئی مواقعوں پر امریکی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تسلیم کیا ہے۔ امریکی وفد کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران افغانستان کے مسائل اور کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کو دہشت گردی سے لنک کرنے کی کوشش کی ہے پاکستان نے دہشت گردی کی وجہ سے شدید جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے۔ بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونا ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی میں ملوث ہے الزام تراشیوں سے مثبت نتائج سامنے نہیں آتے۔ چار ملکی رابطہ گروپ کے تحت چین افغانستان میں امن کے لئے کوشش کررہا ہے اور پاکستان اور امریکہ بھی سہولت کار ہیں۔ بھارت خطے میں امن کے خلاف کام کررہا ہے۔ عالمی برادری اس کا نوٹس لے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔
وفاقی کابینہ کی تقریب حلف برداری
ایوان صدرمیں46رکنی وفاقی کابینہ نے عہدوں کا حلف اٹھالیا۔ صدرمملکت ممنون حسین نے وفاقی کابینہ کے نئے ارکان سے حلف لیا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کے ارکان کی تعداد 46 ہے جس میں اسحاق ڈار، خواجہ آصف، احسن اقبال، سعدرفیق، عبدالقادر بلوچ وفاقی وزیرمقررہوگئے۔ وفاقی وزرا میں خرم دستگیر، راناتنویر، اکرم درانی، سکندرحیات بوسن، پیرصدرالدین، شیخ آفتاب ، کامران مائیکل، مرتضی جتوئی، ریاض پیرزادہ، برجیس طاہر، زاہد حامد، حاصل بزنجو، سرداریوسف جب کہ مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان، جام کمال، امین الحسنات وزرائے مملکت مقررکیے گئے ہیں۔عابدشیرعلی انچارچ وزیرمملکت، عثمان ابراہیم، جعفراقبال وزیرمملکت مقرراحسن اقبال وزیرداخلہ، خواجہ آصف وزیرخارجہ مقرر ہوگئے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار، خرم دستگیر وزیردفاع ، مشاہداللہ وفاقی وزیرکلائمیٹ چینج جب کہ پچھلی حکومت کے دووزرائے مملکت کووفاقی وزیربنادیا گیا۔ سائرہ افضل تارڑوفاقی وزیرصحت، بلیغ الرحمان وفاقی وزیرتعلیم مقررہوگئے۔ وزارت پانی وبجلی کوتوڑدیا گیا، پٹرولیم اورپاورکوملا کرنئی وزارت توانائی بنادی گئی جس کے انچارج وزیرعابدشیرمقررکردیئے گئے۔ سید جاوید علی شاہ آبی ذرائع کے وزیر، طلال چودھری وزیرمملکت داخلہ، مریم اورنگزیب انچارج وزیرمملکت برائے اطلاعات مقررہوگئیں۔ پرویزملک وزیرتجارت، طارق فضل چودھری وزیرکیڈ، محسن شاہ نوازرانجھا، عبدالرحمان کانج، دانیال عزیزوزیربرائے امور کشمیر، جنیدانورچودھری وزیرمملکت جب کہ عثمان ابراہیم وزیرمملکت برائے قانون مقررہوگئے۔ ڈاکٹردرشن لعل وزیرمملکت برائے بین الصوبائی رابطہ اورفاٹا سیاکرام خان وزیرمملکت برائے سیفران ہوں گے۔ جنوبی پنجاب کے وزرا میں اویس لغاری، ارشد لغاری، حافظ عبدالکریم، عبدالرحمان کانجو، جاویدشاہ شامل ہیں جہاں اویس لغاری سائنس وٹیکنالوجی کے وزیر جب کہ پلاننگ ڈویژن وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کے ماتحت رہے گا۔نوازشریف کی کابینہ میں 20 وفاقی وزرااور9 وزیرمملکت تھے، سینیٹرصلاح الدین ترمزی اینٹی نارکوٹکس کے وفاقی وزیر ہوں گے، ٹیکسٹائل کی الگ وزارت ختم کرکے تجارت کیساتھ منسلک کردیاگیا، پوسٹل سروسزکومواصلات سے الگ کرکے علیحدہ وزارت بنا دیا گیا جب کہ وزارت پانی وبجلی کوبھی دوحصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میرے دروازے تمام ارکان پارلیمنٹ کیلئے کھلے ہیں، ہمارے پاس مختصر وقت ہے عوام کے پاس جائینگے، کابینہ ارکان عوام کے مسائل حل کریں۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا نئی کابینہ سے عوام کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں ان پر پورا اترنا وقت کا تقاضا ہے اس وقت ملک کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا ہے جن کے ادراک کیلئے سیاسی بصیرت اور تدبر کا مظاہرہ کیا جائے اور برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دے کر ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالا جائے۔