- الإعلانات -

عمران خان اور عائشہ گلالئی کے الزامات۔۔۔!

پاکستان تحریک انصاف کی ایم این اے عائشہ گلالئی نے پہلا الزام یہ لگایا ہے کہ” عمران خان کی وجہ سے پاکستان کی ماؤں اور بہنوں کی عزت محفوظ نہیں ہیں۔ دو نمبر شخص خود کو پٹھان کہتا ہے۔ ” عائشہ گلالئی پریس کانفرنس میں عمران خان خان کی بجائے وہ عمران نیازی کا لفظ استعمال کرتی رہی۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی اکثر مواقع پر عمران خان کی بجائے عمران نیازی کہتا رہتا ہے۔ غالباً عائشہ گلالئی اور میاں شہباز شریف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عمران خان پٹھان نہیں ہے ۔ سیاست اپنی جگہ لیکن حقیقت اپنی جگہ،آپ کو معلوم ہوگا کہ پٹھانوں کے 72قبائل ہیں جس میں سے آفریدی ، خٹک ، نیازی ،ممند، اورکزئی وغیرہ وغیرہ ہیں ۔ پٹھانوں کے بارے میں تاریخ بتاتی ہے کہ پٹھان حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے ہیں اورحضرت اسحاق ؑ کی اولاد ہیں اور قومیت کے لحاظ سے بنی اسرائیل ہیں۔بعض مورخین کے مطابق پٹھان ارجینیا میں رہتے تھے۔ ایک انگریز مورخ کے مطابق اسرائیل قبائل بہت تکالیف اور مسائل کے بعد افغانستان میں آباد ہوگئے تھے۔پٹھانوں کے قبول اسلام کا واقعہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ پٹھان قوم کا سردار قیس عبدالرشید اپنے قبیلہ کے ہمراہ حضور اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضرہوا اور اسلام قبول کیا ۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے آخری خطبہ میں قوم و نسل اور رنگت کی بجائے تقوی پر زور دیا ۔ اصل چیز کردار ہے۔آپ کا کردار اچھا ہے تو آپ بہترین انسان ہیں۔اگر آپ کا کردار ٹھیک نہیں ہے تو پھرآپ اچھے انسان نہیں ہیں۔ عمران خان کو آپ عمران خان کہیں یا عمران نیازی بہرحال وہ پٹھان قبیلے سے تعلق رکھتا ہے لیکن جہاں تک عمران خان کی کردار پر عائشہ گلالئی نے جو الزام لگایا ہے ،اس کی غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہیے جو بھی قصور وار ٹھہرایا جائے ، اس کو سزا ملنی چاہیے اوراس پر62اور63 بھی لاگو ہونا چاہیے۔اگر عائشہ گلالئی نے غلط الزام لگایا ہے تو اس کو سزا ملنی چاہیے اور اگر عمران خان پر جرم ثابت ہوجائے تو اس کو بھی سزا ملنی چاہیے ۔عائشہ گلالئی نے دوسرا الزام یہ لگایا ہے کہ” ڈنڈے کھانے اور قربانی دینے والوں کو پارٹی میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔پی ٹی آئی میں خواتین کی عزت نہیں کی جاتی اور ورکرز کو چھوٹے ورکر کہا جاتا ہے۔پارٹی ورکرز نے کافی ایشو پر پہلے بھی احتجاج کیا لیکن پی ٹی آئی میں ماحول نہیں ہے کہ وہ ورکرز کے ایشو کو سنا جائے۔” سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ڈنڈے کھانے اور قربانی دینے والوں کو پارٹی میں اہمیت نہیں دی جاتی ہے تو پھر ان کو اس پارٹی میں جانے پر کس نے مجبور کیا ہے ؟ اور پھرکس نے پارٹی نہ چھوڑنے سے روکا ہے؟الحمد اللہ پاکستان میں آزادی ہے کہ آپ جس پارٹی میں بھی جانا چاہیے جاسکتے ہیں اور جس کو چھوڑنا چاہیے تو چھوڑ سکتے ہیں۔کوئی کسی پر قدغن نہیں لگا تا ہے۔عائشہ گلالئی نے تیسرا الزام یہ لگا یا ہے کہ "وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کرپٹ ہے۔ اس کی کرپشن کے ثبوت لیکر عمران خان کے پاس گئے لیکن معلوم نہیں،وہ کیوں اس سے بلیک میل ہورہے ہیں۔” کرپشن ناسور ہے ،اس کو وطن عزیز سے ختم کرنا چاہیے لیکن کسی اخبار ی خبر یا محض الزام کی بنیاد پر کسی کے خلاف ایکشن نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور تحقیقات عوام کے سامنے رکھنی چاہیے تاکہ عوام کوبھی اچھے اور برے کے بارے جانکاری ہوسکے۔قارئین کرام !اللہ رب العزت نے ہمیں خوبصورت اور پاک وطن عطا کیا ہے۔اس پاک و خوبصورت سرزمین پر غلط امور کی کسی کوبھی اجازت نہیں ہے اور نہ ہونی چاہیے۔سیاسی پارٹی کوئی بھی ہو ،ان کو باعمل اور اعلیٰ کردار کے مالک لوگوں کو لیڈر اور قائد کا انتخاب کرنا چاہیے ۔ سیاسی پارٹیوں کا ملک کی ترقی میں کلیدی رول ہوتا ہے۔پاکستان دنیا کا خوبصورت ترین اور قدرتی ذرائع سے مالا مال ملک ہے لیکن شومئی قسمت آج ملک پر بے تحاشہ قرضوں کا بوجھ ہے۔یہ ہمارے سیاسی پارٹیوں کی ناقص رول کے باعث ہے۔ اگرہماری سیاسی پارٹیاں بہترین رول ادا کرتیں تو آج پاکستان دنیا کا امیر ترین ملک ہوتا ۔بہرحال جو کچھ ہوگیا ہے ،وہ تو ہوگیا ہے لیکن آئندہ کیلئے سب کو مل کر وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کیلئے تگ و دو کرنی چاہیے۔اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کو دھرانا نہیں چاہیے۔سب کو مل کر بیٹھنا چاہیے کہ کہاں کہاں اور کس کس جگہ پر غلطیاں ہوئی ہیں۔مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اورپاکستان تحریک انصاف سمیت تمام پارٹیوں کو غور کرنا چاہیے ۔ اپنی پارٹی کی خامیوں کو دور کرنا چاہیے اور پارٹیوں کے اندر مثبت تبدیلیاں لانی چاہیے۔یہ ثابت کر نا چاہیے کہ واقعی یہ سیاسی پارٹیاں ہیں، نہ کہ خاندانی کمپنیاں۔جہاں تک عائشہ گلالئی کے الزامات کا معاملہ ہے، اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ دودوھ کادودوھ اور پانی کاپانی ہوجائے ۔تحقیقات کے بغیر اس معاملہ کودبانا یااس پر مٹی ڈالنامناسب نہ ہوگا۔