- الإعلانات -

خدارا پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ جائیں

اس وقت ملک میں ایک عجیب ”ڈرٹی سیاست “کا کھیل جاری ہے ۔خدا جانے یہ کہاں جاکر رکے گا۔اس کاآغاز انتہائی خطرناک ہے ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی بھی سیاستدان پر کسی خاتون کی جانب سے ایسے الزامات عائد کیے گئے ہیں جس کی ماضی میںکوئی مثال نہیں ملتی ۔اب یہ حقیقت ہیں یا دروغ گوئی اس کے بارے میں تو وقت ہی فیصلہ کرے گا یا پھر جو پارلیمانی کمیٹی بنی ہے شاید وہ کسی نتیجے پرپہنچ سکے ۔نہیں تو آخری نتیجہ تو بلیک بیری کے فرانزک ٹیسٹ کا ہے ۔سارے سیاستدان یک زبان ہوکر فرانزک ٹیسٹ کی بات تو کررہے ہیں مگر شاید وہ اس کے نتائج سے بے بہرہ ہیں ۔کیونکہ یہ بات جب چلے گی تو بہت دور تک نکل جائے گی ۔ابھی عائشہ گلالئی کے الزامات کی بات ہورہی ہے ہر ایک یہ چاہ رہا ہے کہ اس کی تحقیقات ہوں ۔گذشتہ روز ہی الیکٹرانک میڈیا پر عائشہ احد بھی نمودارہوگئیں اور اس سے کچھ دن قبل ایک بیرونی دنیا کی کِم پارکر نامی صحافی کا بھی انٹرویو ایک نجی چینل پر پھر سے دکھایا گیا ۔جس میںاس نے بھی کچھ ایسی ہی باتیں کی ہیں ۔جو کہ سابقہ نااہل ہونے والے وزیراعظم نوازشریف کے حوالے سے تھیں ۔اب اس میں کتنی سچائی ہے اس کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔البتہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ ایک ایسا گندگی کا ڈھیر کھیل شروع ہوا ہے اس میں جتنے بھی پتھر مارے جائیں گے اتنی ہی اس کی چھینٹیں اڑیں گی یا پھر اسے جتنا بھی کریدا جائیگا اتنی زیادہ ہی بدبو باہر آئے گی ۔لہذا ایسی سیاست کو کہیں دور تاک میں رکھ کرختم کردینا چاہیے ۔آخر اس کے نتائج کیا نکلیں گے یہاں کسی ایک کا بلیک بیری کا فرانزک ٹیسٹ نہیںکیا جائیگا ۔جب بات چلے گی تو پھر یہ لام کی لڑی ثابت ہوگی ۔بہت سوں کے موبائل لیے جائیں گے اور پھر نامعلوم کتنے کتنے پردہ نشینوں کے چہرے واشگاف ہوجائیں گے ۔اس بلیم گیم میں کچھ بھی کسی کے ہاتھ نہیں آئیگا ۔البتہ بہت سارے لوگ سیاست سے آﺅٹ ہوجائیں گے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تو پارلیمانی کمیٹی کے قائم کرنے کوویلکم کیا اور اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ عائشہ احد کے بارے میں کیا حکومت کوئی کمیٹی بنائے گی یا خاموشی اختیار کرے گی اس اعتبار سے دیکھا جائے تو کپتان حق بجانب ہیں ۔سلوک سب کے ساتھ برابر ہونا چاہیے ۔جب اصلیت سامنے ہی آنی ہے تو پھر پردہ کیسا ۔اس سلسلے میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو پھر کوئی پارٹی کی سطح پر کردار ادا کرنا چاہیے ۔کیونکہ عمران خان نے اپنی پارٹی کو کہہ دیا کہ وہ عائشہ گلالئی کے بارے میں کوئی بیان بازی نہ کریں لہذا میاں صاحب کو بھی چاہیے کہ خدارا وہ جی جی بریگیڈ سے باہر نکلیں ۔اب نئی حکومت بن چکی ہے اس کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہیں مگردیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ ان کے اردگرد بھی وہی کچن کیبنٹ ہے جس نے نوازشریف کو اس حد تک پہنچایا ۔اب شاہد خاقان عباسی کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ معاملات کو کہاں تک لیکر چلتے ہیں ۔باخبر حلقے تو یہ بات بھی کررہے ہیں کہ اگر نوازشریف نے اپنی سیاست کو بچانا اور زندہ رکھنا ہے تو پھر انہیں کچھ اقدام جلد اٹھانا ہونگے ۔اس سلسلے میں بہت زیادہ ممکن ہے کہ اسمبلیوں کو توڑ دیا جائے اور حکومت الیکشن میںچلی جائے ۔اگر ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا جاتا تو پھر یہ بلیک بیری سکینڈل بہت سے سیاستدانوں کو لے ڈوبے گا اور اس کے نتائج یہ نکلیں گے کہ جو اس سلسلے میں نااہل ہوں گے ۔وہ ہمیشہ کیلئے آﺅٹ ہوجائیں گے اور پھر امکانات یہ ہیں کہ ایک نیشنل ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنے گی جو آگے تمام سلسلے چلائے گی ۔آج نوازشریف کو مشورے دینے والے وہی مشورے دے رہے ہیں کہ قدم بڑھاﺅ نوازشریف ہم تہمارے ساتھ ہیں مگر جب قدم بڑھانے کے بعد وہ پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو شاید پلوںکے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہوگا ۔ہمارے صحافتی زندگی میں آج جو ملک میں سیاست چل رہی ہے وہ نہ اس سے پہلے دیکھی اور نہ ہی اللہ آئندہ دکھائے ۔کیونکہ اس کے آنے والی نسلوں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔آنے والا سیاست کا طالبعلم اپنے سیاسی رہنماﺅں کے بارے مں کیا کہے گا کہ کس کردارکے مالک تھے اور انہوں نے قوم کو کن اخلاقی پستی کی گہرائیوں میں ڈبو کر رکھا ۔ہماری تو رائے یہ ہے کہ اس میں چاہے ن لیگ ہو ،تحریک انصاف ہو ،ق لیگ ہو ،جماعت اسلامی ہو ،جے یو آئی (ف)ہو ،جمہوری وطن پارٹی ہو ،ایم کیو ایم لندن یا پاکستان ہو،پیپلزپارٹی ہو،اے این پی ہو یا بی این پی ہو غرضیکہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔اس ملک کیلئے سوچیں اس کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے بارے میں فکر کریں ۔حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں اللہ تعالیٰ اس وطن عزیز کو قائم رکھے تو سب کچھ قائم دائم ،ورنہ وقت بتارہا ہے کہ زیادہ تر سیاستدان اب ”کھڈے لائن “لگنے جارہے ہیں۔اب بھی وقت ہے عقل کو ہاتھ ڈال لیں ورنہ اس کے بعد تو پھتیا پھت ہی ہے ۔