- الإعلانات -

بھارت افغان گٹھ جوڑ اور دہشت گردی

پاکستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاک۔افغان تعلقات کو سبوتاژ کرنے کیلئے بھارت افغانستان میں ریاستی دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ دہشت گردی کی لعنت کے خاتمہ کیلئے پاکستان اور افغانستان کو قریبی روابط کو فروغ دینا چاہئے۔ افغانستان گزشتہ 40 برسوں سے بحران اور خانہ جنگی کا شکار ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے دہشت گردوں کو وہاں پر قیام کی جگہ ملی۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں جس کے ثبوت اقوام متحدہ میں بھی پیش کر دیئے ہیں۔ جب سے مودی حکومت آئی ہے تو بھارت کا مقصد صرف علاقائی دہشت گردی کو فروغ دینا ہے۔ بھارت اور افغانستان پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں اور ننگرہار میں امریکی فضائی حملے میں 15 بھارتیوں کی ہلاکت اس گٹھ جوڑ کا ثبوت ہے۔ پہلے کلبھوشن کی گرفتاری اور اب ننگر ہار میں بھارتیوں کی ہلاکت سے پاکستان میں بھارتی مداخلت سامنے آ گئی ہے۔دنیا کو بتایا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے ہر حربہ آزماتا ہے۔ افغانستان کے ذریعے بلوچ علیحدگی پسندوں کی مالی اور اسلحی مدد کی جاتی ہے۔ افغانستان میں بھارت کے قونصل خانے دہشتگردوں کی تربیت کا کام کرتے ہیں۔ کراچی میں بھارت کی مداخلت ثابت ہو چکی ہے پاکستان نے بھارت کی پاکستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کے ثبوت اقوام متحدہ کو پیش کر دیئے ہیں۔ بھارت کالاباغ ڈیم کی مخالفت کیلئے ہر سال فنڈز مختص کرتا ہے۔ پاک چین راہداری کیخلاف ’’را‘‘ بھی متحرک ہو چکی ہے۔ بھارت پاکستان کیخلاف وسیع نیٹ ورک کے ساتھ مصروف عمل ہے۔ بھارت بے شک کراس بارڈر دہشت گردی کا پروپیگنڈا کرتا رہے مگر شواہد اس کے برعکس ہیں۔ بھارت و پاکستان کی ہی نہیں بلکہ دنیا اور خطے کی بھی یہ کم نصیبی ہے کہ بھارت کا وزیراعظم ایک ایسا شخص ہے، جو دنیا کا تسلیم شدہ انتہا پسند اور دہشت گرد ہے۔ ایسے آدمی سے خیر کی توقع کیا ہے؟ بھارتی و افغان خفیہ ایجنسیاں مل کر پاکستان کے اندر دہشت گردی کروا رہی ہیں۔ شاطر بھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر پاک افغان سرحد کے قریب فرقہ وارانہ دہشت گردی کیلئے ٹریننگ کیمپ بنائے۔ شدت پسند مذہبی گروہوں کے جنگجو دہشت گردوں کو نہ صرف دہشت گردی کی ٹریننگ دی بلکہ انھیں ٹارگٹ بھی دیئے گئے۔ سوات میں ملا صوفی محمد اور مولوی فضل اللہ جیسے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا۔ مگر افغان حکومت نے انہیں پناہ دی۔پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کیلئے جو آگ برساتی ہوائیں آئیں، وہ افغانستان سے ہی آئی ہیں۔ پاکستانی ریاست کے مخالف عناصر دھائیوں سے افغانستان میں نہ صرف پناہ گزین ہیں بلکہ وہاں انھیں باقاعدہ دہشت گردی کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ افغان صدر ایک طرف کہتے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے تو دوسری طرف ملا فضل اللہ کو پناہ دینے سے لے کر سپاہِ صحابہ، لشکر جھنگوی اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ افغانستان ہی رہی، اب بھی ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج کل افغان صدر اشرف غنی کے منہ میں مودی کی زبان ہے؟ افغانستان یا بھارت میں پٹاخہ بھی پھٹ جائے تو بلا جھجک دونوں ممالک الزام پاکستان پر لگا دیتے ہیں، مگر افغانستان یہ بھول جاتا ہے کہ لاکھوں افغانیوں کو پاکستان نے اپنے ہی شہریوں کی طرح کی سہولیات دے رکھی ہیں؟ پاکستان کے شہر کراچی سے لے کر کوئٹہ تک اور کوئٹہ سے لے لاہور و پشاور سمیت ہر بڑے شہر میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات کے تانے بانے ’’را اور افغان خفیہ ایجنسی‘‘ سے جا کر ملتے ہیں۔طے شدہ بات تو یہی ہے کہ کئی ایک خطرناک دہشت گردوں نے پاکستان میں دہشت گردی کیلئے دہشت گردوں کو افغانستان میں ٹریننگ دی، جبکہ را نے مالی و تکنیکی معاونت کی۔بے شک پاک افغان بارڈر طویل ہے، مگر پاکستان اب ڈرون بنا چکا ہے، اسے مزید بہتر کرکے پاک افغان سرحدی نقل و حرکت کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ہماری پہلی ترجیح بھارت اور افغانستان کا پاک مخالف مکروہ گٹھ جوڑ توڑنا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے، جب دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ شہروں میں چھپے دہشت گردوں کے وائٹ کالر ہمدردوں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے اور ملک میں امن چاہتی ہے۔ پاک فوج پاکستانی عوام کی مدد اور حمایت سے مٹھی بھر دہشت گردوں اور ان کے وائٹ کالر ہمدردوں کو ناکوں چنے چبوا دے گی۔