- الإعلانات -

اپناسب کچھ قربان کرتے ہیں

انسانیت پر جب وحشت کا غلبہ ہوجاتا ہے تو انسانی سماج کے ترقی کے درووازے بند ہوجاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں انسان سماجی حیوان قرار پاتا ہے اور سماج کی تشکیل پھر نظریہ حیوانی کی اصول پر ہوتی ہے اور ایک ایسا معاشرہ وجود میںآتا ہے ۔ جسمیں انسان اور حیوان کی تمیز ختم ہوجاتی ہے انسانی اصول پامال ہوجاتے ہیں۔بے شعور لوگوں کے بھیڑجمع کرنے کو مقدس عنوان دیا جاتا ہے افرا تفری کے عالم میں قوم کی وحدت ختم ہوجاتی ہے اور اسکی سزا پوری قوم کو بھگتنا ہوتی ہے ۔ انسانی سماج انسانوں کے آپس میں تعلقات اور معاہدات اور آپس میں ملنے جلنے کا نام ہے انسانیت کی بنیاد پر سماج کی تشکیل ہوتی ہے ایک ایسا سماج جس میں انسانیت کو پہلا درجہ حاصل ہوتا ہے اور انسان کی نسل،علاقے اور زبان کو فوقیت نہیں دی جاتی اور انسانوں کے معاشرتی حقوق یکساں متعین ہوتے ہیں اور دوسرا درجہ انسان کی آزادی کا ہے یعنی صالح سماج وہ ہوتا ہے جوہر انسان کو مکمل آزادی دیتا ہو اور انسان کی غلامی سے وہ آزاد ہو اور پھر اس سے اور اس سماج میں ایک ایسے معاشی نظام کا ڈھانچہ قائم ہو جسمیں انصاف کا بول بالا ہو اورمعاشرے کے تمام افراد کے ضروریات پوری ہوتی ہواور یہ نظام اجتماعیت کے اصول پر قائم ہو جسمیں طبقاتیت اور انفرادیت پسندی کو کوئی عمل دخل نہ ہو اور اس نظام سے ہر انسان کو مستفید ہونے کے مواقع حاصل ہو۔دیکھا جائے تو اس وقت ہر فرد انفرادیت کے نشے میں مبتلا ہے نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہے انہیں کوئی رہنما نہیں مل رہا ہے فرقہ واریت کو فروغ حاصل ہے اور مسلمان مسلمان کو کافر بنانے پر تلا ہوا ہے نظریہ انسانیت کو چھوڑکر عوام کو فرقہ واریت کی اندھیر نگری میں دکھیلا جارہاہے ،چند شہزادوں اور بیبیوں جو جاگیرداراور سرمایہ اور مراعات یافتہ طبقہ کہلاتے ہیں امت مسلمہ کو انہوں نے اپنے قبضے میں جکڑا ہواہے۔عوام بیچارے خوف اور افلاس کی بیماری میں مبتلا ہیں اور ان پر جہالت اور بھوک مسلط ہے۔نوجوان نسل جس پر قوموں کی ترقی کا انحصار ہوتا ہے وہ مایوسی کا شکارہے ،چونکہ سماج کا ڈھانچہ سرمایہ داریت پر قائم ہے اور اس نظام کا خاصہ یہ کہ اس میں انسان کے خواہشات کے گھوڑے بے لگام ہوجاتے ہیں اورخاص کر نوجوانوں کیلئے ان خواہشات کا پورہ کرنا ضروری ہوتا ہے اس لئے وہ تشدد کا راستہ اپناتے ہیں ، منفی اقدامات اٹھانا ان کا معمول بن جاتا ہے اور یہی وہ عناصرہوتے ہیں جو جرائم پیشہ کھلاتے ہیں۔ نوجوانوں کو جو تاریخُ پڑھائی جاتی ہے ا س سے مایوسی پھیلتی ہے اور تاریخ کاہرباب خون سے رنگین ہوتاہے اور اس کا سارا مواد قتل اور غارت گیری سے بھرپورہوتاہے اس طرح ان میں نفرت کے جراثیم نشوونماں پاتے ہیں اورقنوطی ذہنیت کو فروغ ملتا ہے ، اس محدود نظریہ نے عوام نفرت ،انفرادیت پسندی اور مفاد پرستی کاسبق دیا ھے قومی سوچ ختم ھوگئی ہے اور قومی جزبہ کا فقدان ہے حالانکہ اصل طاقت قومی جزبہ ہے جس سے دشمن کو مرعوب کیا جاسکتا ہے ، چائنا ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا ور اآج وہ ہم سے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ایک سو سال آگے ہے چونکہ وہاں قومی سوچ کو فروغ دیاگیا ہے اور وہاں کود غرضی، فرقہ پرستیاورانفرادیت پسندی جیسے برے اخلاق نہیں پھیلے ہیں اس لئے آج کے دور کا طاقت ور ترین سامراج اس سے ڈرتا ہے اور اعلانیہ اس کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے اور اسی قومی جزبہ کے تحت اس نے دنیا کی تمام منڈیوں کو اپنی مصنوعات سے بھر دیا ہے اور موجودہ سائنسی دور میں فطرت کی تسخیر جس قدر اس ملک نے کی ہے ماضی میں اس کی نظیر نہیں ملتی ہے اور اس ترقی کے بدولت چائنہ کی مصنوعات دنیا کی مجبوری ہے ۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ فی الوقت زوال کے دور کی ہوائیں چل رہی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ طبقاتی نظام اور اور مذہبی فرقہ واریت سے مایوس نوجوانوں کے شعور کوجگایا جائے اور ان کے سامنے سچے اور حریت پسند اسلاف کا تعارف پیش کیا جائے ۔آج کے نوجوان کو سچائی کی تلاش ہے اور وہ سچ کا پیاسا ہے ، انہیں کوئی رہنما نہیں مل رہا ہے اور انہیں اس فلسفہ سے روشناس کرانا بھی ہے جس کے زریعے مسلمانوں نے گیارہ سو سال تک دنیا کی قیادت کا فریضہ ادا کیا ،دین کا وہ اعلیٰ فلسفہ جو انسانیت دوستی اور جذبہ حریت پر مبنی اب مفقود ہے اور جو رہنمائے قوم ہیں وہ انسانی حقوق،سماجیات اور معاشیات کے بنیادی اصولوں سے نابلد اور کورے ہیں ، ہر طرف فرقہ واریت کی آگ جل رہی ہے اور اسے بجھانے والا کوئی نہیں ہے۔اسلام تو ظلم توڑنے اور مظلوم کی حمایت کا درس دیتا ہے اور یہ تعلیم دیتا ہے ظلم کرنے والا ظالم ہے خواہ اسکا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو،یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ظالم کو ظالم نہ کہنا جرم ہے اور پیغمبر اسلام ﷺنے جو خطوط اس وقت کے دو سامراجی طاقتوں روم اور فارس کے سربراہوں کے نام روانہ کیئے تھے ان میں بھی مظلوم مجوسی اور مظلوم کاشتکار کی حمایت کی بات کی تھی اور آپﷺنے جو جماعت صحابہؓ تیار کی تھی وہ ایک انسان دوست جماعت تھی اور سچائی اس جماعت کا امتیازی نشان تھا جسمیں خاندانی، نسلی،قومی یامذہبی تعصب نہیں تھا ۔وہ ظلم کے مٹانے کے جذبے سے سرشار تھے اور ان کی قربانیوں کی بدولت دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہوا اور اسلام کو گیارہ سو سال تک مسلمانوں کے اقلیت ہونے کے باوجود غلبہ حاصل رہا اور مسلمان صدیوں تک ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچاتے رہے اورمظلوم کی حمایت کے باعث عوام خوشحال تھے اور امن قائم رہا۔آج المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے متجاوز ہے اور ان کی ساٹھ اسلامی حکومتیں بھی ہیں مگر ان کی طاقت سامراج کی حمایت میں استعمال ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف سامراج کو اڈے فراہم کر نے میں اپنی عزت سمجھتے ہیں اور وہ بطور آلہ کارسامراج کے حق میں اپنا سب کچھ قربان کرتے ہیں۔
*****