- الإعلانات -

قطربحران

قطر ایک چھوٹی خلیجی ریاست ہے جو تیل گیس کی دولت سے مالامال ہے ! اطراف میں سمندر اور ہمسایوں میں بحرین سعودی عرب عرب امارات کی اسلامی ریاستیں آباد ہیں۔ خلیج کی اسلامی ریاستوں میں جمہوری نظام نہ ہونے کی وجہ سے ملکی دولت پر حکمران بادشاہ بن کر قابض ہیں اور قومی دولت کو خوب عیاشی کرکے یورب و امریکہ میں اڑاتے ہیں۔ ان شاہی ریاستوں پر جب تک حکمرانوں کے جبراور استبدار کے قوانین لوگو ہیں قائم رہیں گی !اورکب تک یہ شاہی و عیاشی کا نظام جاری رہے گا! اولاًد وقت کے ساتھ ساتھ یہ نظام خو بخود بر طانوی بادشاہت کی شکل صورت کرلے گا! دوئم یورب و امریکہ جب چاہیں گے ان بادشاہوں کے خلاف انقلاب برپا ہوجائے گا! قطر پر امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب ے دورہ کے دوران الزامات لگاکر کئی شکار کئے ! اول خلیجی عرب ممالک میں باہمی بھائی چارے ہمسائیگی! دوستی اوراتحاد پر کاری ضرب لگا کر مسلم امہ کا شیرازہ بکھیرنے کی عملی بنیاد رکھی ۔ دوئم سعودی عرب کو خوش کرنے کیلئے قطر پر دہشت گردی جیسے بیہودہ الزامات لگا کرحلیج میں عرب ممالک کے درمیان جنگ کرانے کی بنیاد رکھ دی ہے! سوئم امریکی صدر نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دنیاء اسلام دہشت گرد ی کا مرکز ہے افغانستان پر الزام لگا کر افغانستان پر حملہ کرکے افغانستان پر پرامن حکومت اور ماحول کو جنگ میں بدل کر افغان قوم کو دہشت گرد قرار دیا۔ مصر کی اسلامی جمہوری حکومت کو باغی قرار دیکر اپنے احامی جرنیل کے ذریعے ختم کرکے مصر میں مسلمانوں کو باہم لڑا گر اسرائیل کو تحفظ اور مسلمانوں کو بد نام کیا۔ عراق کی خوشحال اور پر امن صدام حکومت کا خاتمہ کرکے عراق کو آگ اور خون کے حوالے کر دیا امریکہ نے دہشت گردی کی انتہا کی ! سعودی عربیہ اور یمن کے درمیان جنگ کراکر امریکہ نے سعودی عربیہ کو بدنام او ر مسلمانوں میں منافرات انتشار پیدا کیا ۔ پاکستان کا جھوٹا بنیادی اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کے دشمن اور روس کے سابق اتحادی بھارت پر انعام و اکرام اور پاکستان پر بابندیاں اور دہشت گردی کے الزامات لگا کر پاکستان کو دہشت گردوں کے حوالے کرنے والے امریکہ نے پاکستان میں دہشت گردی کرپشن اور افراتفری کی راہ ہموار کی یعنی امریکہ نے اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات بنا کر منافقت سے کام لیتے ہوئے ان کو نہ صرف آپس میں لڑایا بلکہ ان کی دولت سے اپناکاروبار حکومت چلایا اور دنیا پر بدمعاشی کی ۔مسلمانوں یا عربوں میں اگر کوئی تنازعہ ہے تو اسے عربوںیا مسلمانوں کی قیادت میں مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے یا امریکی صدر کے نوٹس میں لاکر اس میں مزید بگاڑ پیدا کرنا چاہیے امریکہ کی مثال تو اس شاطر لومڑی کی ہے جو ایک بندر اور بلی کے درمیان انصاف کرتے کرتے سارے کا سارا مکھن کھا جاتا ہے ۔ جب بھی فلسطینیوں کے خلاف ظلم و زیادتی پر اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی قرار دادلائی جاتی ہے۔ امریکہ اس کو و یٹو کرکے اسرائیلی مظالم کی مزید راہ ہموارکر دیتا ہے ! عرب خطے میں اسرائیل سے عربوں کی جنگیں ہوئیں اور مزید جنگوں کا بھی مکان تھا۔ مگر امریکہ بہادر کی منصوبہ بندی نے عربوں کو اسرائیل سے جنگوں کی بجائے باہمی جنگوں کے قریب لاکھڑا کیا ہے۔ ایران اور عربوں کی جنگ بھی ہوگی! سعودی عربیہ اور قطر کے درمیان بھی جنگ کرائی جائے گی ۔ سعودی عربیہ جو مسلم ممالک میں باپ کے درجے رکھنے والا ملک تھاآ ج ایران ۔ قطر یمن اور شام کے ساتھ سعودی عربیہ حالت جنگ میں ہے مسلم ممالک جب تک اپنی مسلم اقوام متحدہ تشکیل نہیں دیتے۔ سب کچھ کے مالک ہونے کے باوجود یعنی افرادی قوت اور دولت ہونے کے باوجود مسلمانوں کی رسوائی یہود ہنوؤ کرانے میں کامیاب ہوتے رہیں گے! مسلمانوں کو باہمی اختلافات فراخ دلی سے ختم کرنا ہوں گے۔ اپنی عوام کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا! دشمن ملکوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے عقل و دانش کو استعمال کرناہوگا۔ قومی دولت کی عیاشی و باشی کی بجائے قومی تعمیرو ترقی پر خرچ کر نا ہوگا! باہمی اختلافات کو آپس میں ملکر حل کرنا ہوگا! ذاتی دولت اور اختیارات بڑھانے کی حکمرانوں کو خواہشات پر قابوپانا ہوگا۔ دشمن کو دشمن سمجھ کر دشمن کی چالوں اور سازشوں پر نظر رکھنی ہوگی۔ ورنہ دولت کام آئے گی اور نہ عددی اکثریت کا کوئی فائدہ ہوگا۔ بلکہ سب کچھ پاس ہوتے ہوئے مسلمان آپس میں دست گریباں ہوں گے اور دنیا ہمارے تماشے دیکھے گی اور آج کی حکمران کی نسلیں غیروں ک آگے غلام بن کر زندگی گزاریں گی۔
*****