- الإعلانات -

عقل سے کا م لو

گزشتہ سے پیوستہ
تو وہیں پاکستان میں آمریت بھی تو ایسی کبھی نہیںآئی ہے جیسی کے دنیا کے بہت سے مما لک میں آئی ، مگر ہمیشہ اپنے جمہوری دور میں عوام کی آنکھو ں میں دھول جھونک کر مزلے لوٹنے والوں کیلئے آمر کی آمریت سے بچ نکلنا اور اِس کے سا منے گھٹنے ٹیک کر نہ بیٹھنا بہت مشکل رہا ہے جب بھی آمر کا ڈنڈا نام نہا د جمہوری پچاریوں پر گھوما ہے قسم سے اِن جمہوری مداریوں کو اپنے سربچا نے مشکل ہوگئے ہیں جبکہ عوام کو سِول اور جمہوری حکمرانوسے زیادہ آمر کی آمریت میں زیادہ حقوق ملے ہیں ۔آج جمہوریت اور جمہوری اداروں کی آزادی پر ڈاکہ مار کر اپنا الو سیدھا کرنے والے ہمارے نام نہاد جمہوری حکمرا ن، سیاستدان اور بیوروکرٹیس بس تھوڑا سا انتظار کریں آہستہ آہستہ سب کے سا منے وہ سب کچھ کیا دھراآجا ئے گا جو اِنہوں نے اپنے نام نہاد جمہوری دور میں دیدہ دانستہ اپنی اور دوسروں کی نظروں سے چھپا کر رکھا تھا۔تا ہم موجودہ سیا سی اور آئینی بحرانی صورتِ حال میں راقم الحرف کا بس یہی کہنا ہے کہ سُپریم کوڑٹ کا فیصلہ سوفیصد درست ہے، آج جو اِسے’’ معمولی نوعیت اور کھودا پہاڑ نکلا چوہا وہ بھی مرا ہوا کہہ رہے ہیں‘‘ دراصل یہی اور اِن جیسے بہت سے لوگ ہیں جو خود کو گلے پھاڑ پھاڑ کر زندہ رکھنے اور اپنا اپنازبردستی کا سیا سی قداُونچا کرنے کی کوششوں میں دن رات ایک کئے جا رہے ہیں دراصل وہ بھی یہ خوب جا نتے ہیں کہ فیصلہ یکدم ٹھیک اوردرست ہے مگر چونکہ اَب اِنہیں اپنی سُبکی بھی تو مٹا نی ہے ناں ، سو اِس کے خا طر اَب یہ ڈرامہ با زی رچا نی پڑرہی ہے۔آج نہ صرف پوری پاکستانی قوم بلکہ ساری دنیا بھی یہ جا نتی ہے کہ نا اہل قراردیئے گئے سا بق وزیراعظم نواز شریف اور اِن کی فیملی کے ممبران سمیت ن لیگ والے چا ہئے کچھ بھی کہہ لیں ،اور اَب اپنی معصومیت اور بے گناہی کا چا ہیں جتنا بھی ڈھنڈوراکیو ں نہ پیٹ لیں، اِنہیں بھی سب کچھ پتہ ہے کہ سُپریم کورٹ کے فیصلے کے پسِ پردہ کیا کچھ پوشیدہ ہے ؟؟ جو بہت سوں کے سیاسی کیریئر کے با ب کو ختم کرنے اور کئی لوگوں کے کرپشن سے داغ دار دامن کاوراِن کی ذاتی حیثیت کو سپوتاژ کرنے کے لئے بہت ہے۔جبکہ یہاں یہ ایک نقطہ یقیناًسب کے لئے قا بل غور اور توجہ طلب ضرور ہونا چا ہئے کہ ما ضی میں جب اپنوں کی تمام التجا ؤں اور درخواستوں اور خوشامد کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے کسی ایک کی بھی نہ سُنتے ہوئے ایک آمر جنرل (ر) ضیا ء الحق مرحوم نے بیرونی سازش کو عملی جا مہ پہناتے ہوئے سیاسی دیدہ ور اور فہم و فراست کے منبع سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکایاتھاتواُس وقت بھی نہ صرف سرزمینِ پاکستان بلکہ پوری دنیا میں یہی تصور کیا جارہاتھا کہ آئندہ پاکستان کا جو بھی وزیراعظم لا ئے گا اور وہ ذرا بھی لا ئین سے اِدھر اُدھرا ہواتو اُس کا بھی حشر بھٹو جیسا ہوگا اَب یہ صحیح ہوگا یا غلط وہ تو مورخ بعد میں گا تارہے گا جیسا کہ آج بھٹو کی پھانسی کوغلط قرار دیاجارہاہے اَب سوا ئے کفِ افسوس کے کچھ فا ئدہ نہیں ہے مگراتنا ضرور ہواہے کہ زیڈ اے بھٹو کی پھا نسی کے بعد آنے والے وزا ئے اعظم ، بھٹو سے زیادہ طاقتور ہوتے رہے رفتہ رفتہ نئے آنے والے وزرا ئے اعظم کو بہت سے معاملات میں استثناحاصل ہویاگیا مگر بھٹو کی پھانسی کے بعد وہ تمام وسوسے اور خدشات جو پاکستان اور دنیا میں جنم لے چکے تھے کہ اَب پاکستان میں پھانسی کا سلسلہ نہیں رکے گاآہستہ آہستہ ایسے خدشات خود بخود اُس وقت دم توڑتے گئے جب سیاستدانوں نے عوام سے زیادہ پارلیمنٹ سے اپنے مفادات اور تحفظات کے خاطر قا نون سازی کی ۔یہی وجہ ہے اتنا عرصہ گزرجا نے کے بعد کسی بھی وزیراعظم بھٹوکو کی طرح پھا نسی پر نہیں چڑھا یا گیا ہاں البتہ ، آئین کی آرٹیکل 58B-2کے تحت کئی وزرائے اعظم کی حکومتیں تو جا تی رہی یہیں مگر بھٹو کی پھا نسی جیسا سا نحہ دوبارہ رونما نہیں ہوا ہے اگر ایسا ہوتا تو اَب تک کوئی بھی ایسا وزیراعظم نہیں گزراہے جو بہت سے معا ملے میں بھٹو سے کم تر یا پیچھے رہاہو۔آج اگرسا بق وزیراعظم نوازشریف اعلی ٰ عدلیہ کی نظر میں اپنے کسی رو پوش اورپوشیدہ کرپشن کی وجہ سے نا اہل قرار پا گئے ہیں تو اِس سے کسی کو پریشان ہونے یا یہ سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ بار بار ایسا ہوتارہے گا اِس لئے کہ غالب گمان تو یہی ہے کہ آئندہ نوازشریف کی طرح کوئی بھی آئین کی آرٹیکل 63/62کے تحت کسی بھی وجہ سے نا اہل قرارنہیں پا ئے گا ،کیو نکہ آج کا سیاستدان بہت زیادہ شا رپ ہوگیاہے اِس کی اپنے مفاد میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت روشنی کی رفتار سے بھی کئی گنا زیادہ تیز اور دوراندیشن ہوگئی ہے جب گدھ کی طرح چمٹ کرسیاستدان پارلیمنٹ سے 58B-2کے ہمیشہ کے خاتمے کے یکدل یک جان ہوکر اِس قا نون کو ختم کراسکتے ہیں تو پھرآج بھی سیاستدان اپنی سیاہ کاریاں چھپا نے اور اِنہیں بے نقا ب ہونے سے بچا نے کے لئے اِسی طرح �آئین کی آ رٹیکل 63/62کو بھی ختم کرانے کیلئے کمر بستہ دکھا ئی دیتے ہیں اِس کا انداز چیئرمین سینٹ میاں رضاربا نی کی اِ س بات سے بھی لگایاجا سکتاہے کہ ’’جمہوری قوتوں نے 58ٹو بی کو ختم کیا تواسمبلیاں ختم کرنے کا نیا طریقہ آگیا‘‘ بیشک پارلیمنٹ میں بیٹھے سیاستدان اپنے مطلب اور اپنے مفادات کی قا نون سازی کرنے میں توپارلیمنٹ کو مضبوط ترین ادارہ گردانتے ہیں مگر درحقیقت یہ تجربے اور مشا ہدے میں آیا ہے کہ عوامی مفادِ عامہ کے لئے جب کبھی فوری قا نون سازی کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی تو حکمرانوں اورسیاستدانوں کے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لئے تُرنت قا نون سازی کرنے والا ادارہ بیشک پارلیمنٹ سب سے کمزور ترین ہوجاتا ہے تب ہی تو ایگزیکٹیو پارلیمان و عدلیہ پر عدلیہ پارلیمان و ایگزیکٹیو پر حاوی ہونے کی کوشش کرتی ہے،ہاں میاں رضا ربا نی تب ہی تو اسمبلیاں ختم کرنے کا یہ ٹھیک طریقہ ہے جب حکمران ، سیاستدان اور اِن کے اردگرد اِدھر اُدھر منڈلاتے بیوروکریٹس قومی خزا نہ لوٹ کھا ئیں اور قوم اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہیں اور یہ کرپٹ حکمران ، سیاستدان او ر خوشا مدی بیوروکرٹیس قومی اداروں کا مل کر بیڑا غرق کریں اور جیب ورکس سے ہزاروں ، لاکھوں ، کڑوروں ، اربوں اور کھربوں کی کرپشن کرکے اپنا اپنا پیٹ بھر یں اور بیچارہ غریب پاکستانی دووقت کی روٹی کو ترستارہے آخر ایسا مُلک میں کب تک ہوتا رہے گا کہ حکمران اور سیاستدان اپنے گلے کی جا نب احتساب کے خاطر بڑھتے ہوئے قا نون کو جب چا ہیں اپنی مرضی سے تبدیل کردیں اور اپنی لوٹ مار اور کرپشن کو بے لگام کرنے کے لئے نیب کو نکیل ڈال دیں اور مدرپدرآزاد کرپشن کے حمام میں غسلِ کرپشن کریں ۔(ختم شُد)

گھرکی بھیدی۔۔۔ شوق موسوی
ایک خاتون نے الزام لگائے ایسے
پارٹی اُن کی کسی بات پہ محظوظ نہیں
کہتی ہیں عزتیں کرنا تو الگ بات ہوئی
اُن سے تو عورتوں کی عزتیں محفوظ نہیں