- الإعلانات -

دہشت گردی کیخلاف پاک فوج کا ناقابل فراموش کردار

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا وادی راجگال کا دورہ بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا اس دورے میں عسکریت قیادت نے آپریشن خیبر فور میں پیشرفت پر جہاں اطمینان کا اظہار کیا وہاں اس میں حصہ لینے والے سیکورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ مہارت اور پاک فضائیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے 90فیصد سے زائدعلاقہ کلیئرکرالیا ہے ۔ آرمی چیف نے آپریشن میں حصہ لینے والے سیکورٹی فورسز کی پیشہ وارنہ مہارت بالخصوص پاک فضائیہ کی کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ دہشتگردوں کے مضبوط ٹھکانوں کونشانہ بنانے پر پر تعریف کی ۔ آپریشن کے مکمل ہونے پر خیبر ایجنسی دہشتگردوں کے اثرو رسوخ سے آزاد ہوجائے گی اور ٹی ڈی پی ایز کی واپسی کیلئے اور ترقیاتی کاموں کیلئے ساز گار ماحول میسر آئے گا۔فوجی افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہاکہ اللہ کا شکر ہے کہ پاک فوج ملک میں دہشتگردی اور عسکریت پسندی کے خلاف کامیابیاں حاصل کرکے قوم کی توقعات پر پورا اتری ہے ۔ہم عوام کے مکمل تعاون کے ساتھ ایک نارمل پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ریاست کی عمل داری ہوگی اور کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہوگا ۔امن قائم ہونے کے بعدقبائلی اور دور دراز کے علاقے ملک کی تعمیر وترقی میں مثبت کردار ادا کریں گے ۔اس سے قبل کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ اور آئی جی ایف سی خیبرپختونخوا نارتھ میجر جنرل شاہین مظہر محمود کمانڈر خیبرفور آپریشن نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید کاعلاقے میں پہنچنے پر استقبال کیا۔ آرمی چیف کا دورہ وادی راجگال دوررس نتائج کا حامل قرار پایا ۔ آرمی چیف نے بجا فرمایا قانون سے بالاتر کوئی نہیں سیاسی عملداری کا جاری رہنا جمہوریت کیلئے نیک شگون ہے یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کیخلاف پاک فوج کی قربانیاں قابل ستائش ہیں جن کی عالمی برادری بھی معترف ہے۔ پاک فوج دہشت گردوں کیخلاف اس وقت فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے جس کی بدولت ملک میں امن کی بحالی دکھائی دے رہی ہے۔ پاک فوج کا کردار تاریخ کے سنہری اوراق میں لکھا جائے گا اور قوم اس کو تادمِ زیست فراموش نہ کرپائے گی۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا ایک ہی مشن ہے ملک میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانا دنیا کا کوئی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کا تو یہ درس ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور اسلام اقلیتوں کو بھی تحفظ کی تلقین کرتا ہے یہ کیسے طالبان ہیں جو انسانیت کو دھماکوں اور بموں سے اڑا رہے ہیں۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کو منطقی انجام تک پہنچانا ہی وقت کی ضرورت ہے دہشت گردی کیخلاف جاری آپریشن ردالفساد اہداف پورا کرتا دکھائی دے رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اس آپریشن کے مطلوبہ مقاصد پورے ہونگے اور ملک میں امن قائم ہوگا۔ دہشت گردی کو ختم کیے بغیر ملک میں امن کی فضاء قائم نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ملک کو ترقی و خوشحال کے راستے پر ڈالا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی کا کب کا خاتمہ ہوچکا ہوتا اگر نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جاتا اب بھی وقت ہے کہ دہشت گردوں کیخلاف بلا امتیاز آپریشن کرکے ان کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔ دہشت گردی پوری دنیا کا مسئلہ بن چکا ہے اور اس کیخلاف پاکستان کا کردار قابل تقلید ہے جس کی عالمی برادری بھی اعتراف کررہی ہے بلا شبہ پاک فوج کا دہشت گردی کیخلاف کردار قابل ستائش اور دادبیداد ہے۔
سیاست میں الزام اور بہتان تراشی کا رجحان
عائشہ گلالئی کے الزامات کے بعد عائشہ احد کے انکشاف نے سیاست میں بھونچال پیدا کردیا ہے اور نئے نئے سکینڈل سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں ایک طرف عمران خان کو تنقید کا سامنا ہے تو دوسری طرف شہباز شریف شریف کے بیٹے حمزہ شہباز بھی اس زد میں آئے دکھائی دیتے ہیں۔ عائشہ گلالئی کیلئے تو پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی اب دیکھنا یہ ہے کہ عائشہ احد کی فریاد پر حکومت کیا کرتی ہے۔عمران خان نے عائشہ گلالئی کو غیرمناسب ٹیکسٹ بھیجنے کا الزام مسترد کر دیا ہے اور پارلیمانی کمیٹی کے ماتحت ماہرین کی موجودگی میں تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عائشہ گلالئی اور ان کے والد کے موبائل فونز کا فرانزک آڈٹ بھی کرایا جائے۔یہ لوگ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی این اے 120میں دھاندلی کرینگے لیکن ہم پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔منی لانڈرنگ کیلئے انہوں نے حدیبیہ اور چوہدری شوگر مل بنائی ، پانامہ کیس سے اب لوگوں کو سمجھ آگئی ہے ،نواز شریف اپنا پیسہ بچانے کیلئے زرداری سے رابطہ کریں گے ، عمران خان نے پیپلزپارٹی والوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنی سیاست بچانا چاہتے ہیں تو آصف زرداری سے دوری اختیار کریں کیونکہ آصف زرداری کرپشن کی علامت ہیں ۔ سیاست میں الزام اور بہتان کا رجحان جمہوریت کیلئے سود مند نہیں ہے عائشہ گلا لئی ہو یا عائشہ احد دونوں کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا چاہیے تاکہ ان معاملات کا حل سامنے آئے اس وقت لوگوں میں تذبذب دیکھنے میں آرہا ہے سیاست میں الزام تراشی سے اجتناب کیا جائے اور سیاست کے اندر نئے رجحان اور میلان کو فروغ دیا جائے یہی وقت کی ضرورت ہے ۔ حکومت عمران خان کی بھی سنے اور میرٹ پر دونوں معاملات کو دیکھے اگر ایک کیلئے پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی بنائی جاسکتی ہے تو دوسری کیلئے کیوں نہیں ۔ خواتین کے حقوق کے علمبرداروں کو اب انصاف کرنا ہوگا ورنہ وقت کا مورخ ان کو معاف نہیں کرے گا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی گئی ہے جس کے مطابق پٹرول کی قیمت میں ایک روپے 80 پیسے کمی کر دی گئی جس کے بعد اس کی نئی قیمت 69 روپے 50 پیسے فی لیٹر ہو گی، ڈیزل کی نئی قیمت 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر کمی کے ساتھ77 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گئی ۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ اوگرا نے پٹرول 3 روپے 67 پیسے سستا کرنے کی سفارش کی تھی جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 7 پیسے فی لیٹر سستا کرنے کی سفارش کی گئی تھی ۔ اب پٹرول کی نئی قیمت 69 روپے 50 پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 77 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گی ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ مٹی کا تیل 13 روپے اور لائٹ ڈیزل 10 روپے ایک پیسہ مہنگا کرنے کی تجویز تھی ۔ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں 44 روپے فی لیٹر برقرار رہینگی ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل وزیر اعظم کی مشاورت سے کیا گیا ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ایک مستحکم اقدام ہے حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے اور ان کے مسائل کا ادراک کرے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی بجائے ان قیمتوں میں استحکام لانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو مستقل طورپر استفادہ حاصل ہو اور ان کے مسائل میں کمی واقع ہو تاہم حالیہ فیصلہ مستحسن ہے جو عوام کیلئے اطمینان کا باعث قرار پایا ہے۔