- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی داستان

جنت نظیر وادی میں بھارتی بربریت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے گزشتہ 7 ماہ کے دوران 150 سے زائد کشمیری شہید اور مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال سے 800 سے زائد افراد کی بینائی متاثر ہو چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع کلگام کے علاقے فریصل میں بھارتی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کا بتا کر کریک ڈاؤن کیا اور سرچ آپریشن کے دوران اندھا دھند فائرنگ کر کے 6 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا جس کے جواب میں بڑی تعداد میں کشمیری اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور جھڑپوں کے دوران 3 بھارتی فوجی بھی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔بھارتی فوج نے ایک گھر کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے ملبے سے ایک نوجوان کشمیری کی لاش برآمد ہوئی جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ گھر کے مالک کابیٹاہے۔ اس واقعے کے بعد سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے قابض فوج کے خلاف مظاہرے اور مارچ کیا۔ مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ شیلنگ سے ایک اور کشمیری نوجوان شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ کشمیری شہداکی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اورانھیں سلامی بھی دی گئی۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ وادی میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا۔ حریت رہنمایوسف نقاش نے کہاکہ وردی پوشوں نے دہشت گردی کامظاہرہ کیا۔ شہدا کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیرکو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیاہے جہاں قانون وانصاف نام کی کوئی چیزموجود نہیں۔ ان ہتھکنڈوں سے کشمیری عوام کو مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔ شہید افضل گورو کی اہلیہ تبسم گورونے ایک بیان میں کہاکہ ان کے شوہر نے کشمیر کاز کیلئے اپنی جان قربان کی ہے۔ اپنے بیٹے کوکسی بھارتی شہرمیں جانے کی اجازت نہیں دوں گی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جس کے باعث وادی میں کشیدہ صورتحال ہے اور علاقے میں کرفیو نافذ ہے۔بھارتی فوج نے نہتے کشمیریوں پر زندگی اجیرن کررکھی ہے جب کہ علاقے میں تقریبا 3 مہینے سے کرفیو نافذ ہے جس کے باعث نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے۔کرفیو کے باعث تمام تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ بند جب کہ ریاست کی کٹھ پتلی حکومت نے علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی بند کر رکھی ہے۔حال ہی میں ضلع کشتواڑ میں بھارتی فوج نے بھارت مخالف نعرے لگانے کے الزام میں 3 حریت رہنماؤں کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد علاقے میں فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔مقبوضہ وادی میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سری نگر کے اسپتال میں پیلٹ گن کے استعمال سے زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے جس میں سے 300 افراد کے پیلٹ گن کی وجہ سے بینائی سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے باعث اب تک 108 کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ہندوستانی فوج کشمیر میں نہتے اور بے گناہ شہریوں پر طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی ہے اور خواتین و بچے بھی ان سے محفوظ نہیں ہیں۔ تشدد کی تازہ لہر کے دوران بھارتی مظالم کے باعث ایک سو دس کے قریب کشمیری شہید ہوچکے ہیں جبکہ بھارتی فوج کی جانب سے پیلٹ گنز کے استعمال کے سبب سیکڑوں بینائی سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارتی بربریت انتہا کو پہنچ رہی ہے لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ آزادی متزلزل ہونے کے بجائے مزید بڑھتا جارہا ہے۔اسی دوران بھارتی فورسز نے اڑی میں بریگیڈ کیمپ پر حملے کا ڈرامہ رچا کر دنیا کی توجہ کشمیر کی صورتحال سے ہٹانے کی کوشش کی جبکہ پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیکس کا شوشہ بھی چھوڑ اگیا لیکن اس کا یہ ڈرامہ اس کے اپنے ہی گلے پڑ گیا۔ کرفیو کے سبب کشمیری عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی معطل ہے جبکہ سکول بند ہونے کی وجہ سے طلبا کا قیمتی سال ضائع ہونے کا بھی خدشہ ہے۔مقبوضہ جموں کشمیر سے متعلق کشمیر کی ایک انسانی حقوق تنظیم کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشتگردی کی جاری کارروائیوں میں جنوری 1989ء سے اب تک 95136بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیاہے جن میں 7245کو دوران حراست شہید کیاگیا۔ ان واقعات سے 22,788خواتین بیوہ، 107,800بچے یتیم، 10,229، خواتین کی بے حرمتی،8ہزار سے زائد افراد کو حراست کے دوران لاپتہ ،106,025عمارتوں کو تباہ، ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار جبکہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سینکڑوں کشمیریوں کو مختلف جیلوں میں قید کر دیا گیا۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں تعینات بھارتی قابض فوج راشٹریہ رائفلز نے معصوم کشمیریوں کے قتل عام کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران 8522 کشمیریوں کو شہید کیاگیا۔ راشٹریہ رائفلز کے اکتوبر 1990ء میں مقبوضہ جموں کشمیر میں داخل ہونے کے 25سال مکمل کرنے کے بعد بھارتی قابض فوج کی شمالی کمان کے ترجمان کرنل ایس ڈی گھوسوامی نے میڈیا کو بتایاکہ راشٹریہ رائفلز نے جموں کشمیر میں 25 برسوں کے دوران 8522کشمیریوں کو شہید کیا۔ اس وقت کے بھارتی آرمی چیف جنرل وی این شرما نے کشمیریوں کی تحریک کو کچلنے کیلئے آر آر کو یکم اکتوبر 1990ء کو مقبوضہ جموں کشمیر میں بھیجااور اس کی تجویز اس وقت کے لیفٹیننٹ جنرل بی سی جوشی نے دی تھی۔کشمیر میں مظاہروں کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بھارت پاکستان پر مظاہرین کی حمایت کرنے اور علاقے کے عوام کو اشتعال دلانے کا الزام لگا رہا ہے جبکہ پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے مطالبات کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے اور وہ کشمیری عوام کیساتھ یکجہتی کو جاری رکھے گا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان خطے میں دہشت گرد "برآمد” کر رہا ہے اور وہ سفارتی طور پر اپنے اس پڑوسی ملک کو بین الاقوامی برادری میں تنہا کر دیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر کے جواب میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ ‘یہ امر افسوس ناک ہے کہ ہندوستان ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اشتعال انگیز بیانات اور بے بنیاد الزامات لگاکر پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔