- الإعلانات -

ہمارے قومی اور انفرادی رویے

نبی رحمت صل اللہ علیہ وسلم کا قول مبارک ہے جس نے دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہم مسلمان ریاست ہیں اور یہ ملک خداد بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کے بابرکت نام پر حاصل کیا گیا تھا جس کے قیام کیلئے لاکھوں شہادتیں ہوئیں لاکھوں گھر اجڑے لاکھوں عصمتیں پامال ہوئیں بچوں بوڑھوں اور خواتین نے قربانیاں دیں اور ہم خود کو شہدا کے وارث کہتے نہیں تھکتے دیکھیں کہ اس قول نبویؐکی روشنی کا اثر ہماری زندگیوں پر کس قدر ہوا ہے جھوٹ بولنا پہلے فیشن تھا پھر یہ دانش مندی کا نعم البدل ٹھہرا اب عادت بن چکی ہے بلکہ ضرورت بن چکی ہے اور کوئی بھی کام جھوٹ کے تڑکے کے بغیر نہیں ہوتا مثلا کسی دفتر میں بیٹھے اہلکار کو دیکھ لیں وہ اس لئے نہیں بیٹھا کہ خلق خدا کی خدمت کا فریضہ انجام دے رہا ہے اور اس کے بدلے ریاست کی جانب سے اسے معقول مشاہرہ دیا جارہا ہے بلکہ مشاہرہ یا تنخواہ تو اس بات کی لے رہا ہے کہ وہ ڈیوٹی پر آگیا اور بس کام کرنے معاوضہ وہ الگ سے رشوت کی صورت میں لے رہا ہے وہ عوام کو سہولت دینے کی بجائے کوشش کرے گا کہ کس طرح اور کس بہانے سے آپ کام روک سکے یاتو آپ کی فائل دبا کر بیٹھ جائے گا یا اس پر کوئی مہمل سا اعتراض لگا دے گا اگر آپ نے اس کے بالا افسر سے شکایت کی تو یا وہ اس اہلکار کا ہمنوا ہوگا یا پھر ایمپلائز یونین کے ذریعے سے اسے دبا کر رکھا جائے گا کراچی کی حد تک تو ایک لسانی پارٹی ان کاموں میں باقائدہ فریق بنکر حصہ وصول کرتی تھی اور اس کا زیادہ تر حصہ ایک گینڈے نما شخص کو شراب و کباب کے لئے بھیجا جاتا تھا پورے پاکستان میں کم و بیش یہی حال ہے ہر محکمے میں ان کے اپنے ایجنٹ ہوتے ہیں جن کے ذریعے سب کام ہاتھوں ہاتھ ہوتا ہے بس معقول سا معاوضہ یا نذرانہ اور تمام اعتراض ختم ہو جاتے ہیں خوراک اور ادویات کے شعبے کا تو بے حد برا حال ہے جہاں حرام اور حلال کی کوئی تمیز نہیں برسوں پہلے ایک مشہور بروسٹ شاپ کے ایک ملازم نے بتایا کہ ہمارے مالکان کا اپنا پولٹری فارم بھی ہے جہاں سے ٹھنڈا چکن آتا ہے( قارئین کرام بغیر ذبح کئے مرنے والے حرام چکن کو ٹھنڈا کہا جاتا ہے) جو بکنے والے مال کا 30 فیصد تک ہوتا ہے گدھے کی کڑاہی اور تکے کا تذکرہ اب عام سی بات لگتی ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں گدھوں کی دو لاکھ کھالیں چین کو برآمد کی گئیں اب اس کا گوشت کہیں کسی نہ کسی کے پیٹ میں تو گیا ہی ہوگا بے شمار لوگ گدھے ذبح کرتے پکڑے گئے کئی لوگوں کے قبضے سے گدھے کا گوشت برآمد ہوا مردہ جانوروں کا گوشت قصاب حضرات دکانوں پر رکھ کر بیچ رہے ہوتے ہیں آج دودھ کی جگہ سفید زہر بیچا جارہا ہے جو واشنگ مشینوں میں بلویا جاتا ہے دوکلو گھٹیا سا دودھ پوڈر ایک کلو کوکنگ آئل اور 37 کلو پانی اور 40 کلو دودھ تیار اس میں ڈیٹرجنٹ اور مردوں کو سڑنے سے بچانے والے کیمیکل ڈالے جاتے ہیں یہ مکمل زہر ہوتا ہے جس سے صارفین کے لئے صحت کے شدید مسائل پیدا ہوجاتے ہیں خاص طور بچوں کی صحت بہت متاثر ہوتی ہے مردہ جانوروں کی ہڈیوں میں سے تیل کشید کیا جاتا ہے ان جانوروں میں حرام اور حلال جانوروں کی ہڈیوں کی کوئی تمیز نہیں ہوتی یہ تیل پھر سستے داموں مارکیٹ میں بیچ دیا جاتا ہے جس سے پکوڑے اورسموسے تلے جاتے ہیں یہ تیل کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور نتیجہ ظاہر ہے صحت کی تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا پولٹری فارم کے سڑے ہوئے انڈے کیک بنانے میں استعمال ہوتے ہیں مشہور برانڈ کی کیچ اپ کی نقل چٹنیوں کی duplication کی بھرمار ہے کوئی ایجنسی چیک کرنے کیلئے نہیں ہے یا کم از کم متحرک تو بالکل نہیں کبھی کبھی کوئی ٹی وی چینل اگر صورتحال سامنے لانے کی کوشش کرے تو اس کے نمائندوں پر تشدد کیا جاتا ہے کیمرے توڑ دئے جاتے ہیں دباؤ پڑنے پر صلح صفائی کی کوشش شروع کردی جاتی ہے اور معاملہ ختم اگر کہیں معاملہ عدالت میں چلا جائے تو پورا پاکستان جانتا ہے کہ اس کا کیا حشر ہوتا ہوگا مقدمے لمبے ہو جائیں گے اور وہی مکروہ دھندہ پھر سے شروع منشیات کا کاروبار سرکاری اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کی سرپرستی میں ہوتا ہے نشاندہی کرنے والوں کو ہی نشان عبرت بنادیا جاتا ہے معاشرے میں جرائم بھی باقائدہ سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں جہاں تک فارماسوٹیکل انڈسٹری کا تعلق ہے پہلے دوائیوں کی رجسٹریشن کا معیار بہت سخت ہوا کرتا تھا پچھلے چند سالوں میں نہ صرف سینکڑوں کی تعداد میں دوائیوں کی رجسٹریشن کی گئی اور ایک دن میں تھوک کے حساب سے سو سو دوائیاں رجسٹر کردی گئیں حالانکہ دوائیوں کی رجسٹریشن سے پہلے انسانوں پر ان دوائیوں کے اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے ان دواؤں کی طبی تحلیل کی جاتی ہے اورایک دوا کی رجسٹریشن کا معاملہ مہینوں چلتا ہے یہاں تو چند ہی دنوں میں ہزاروں دوائیں رجسٹر ہو گئیں چند ماہ پیشتر دبئی میں کچھ سرمایہ کاروں سے ملاقات ہوئی جو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کرنا چاہتے تھے خصوصا دوا سازی کی صنعت میں، ہماری تحریک پر پاکستان گئے پاکستان میں کچھ ذمہ دار لوگوں سے ملاقاتیں کیں واپس آکر ہم سے ملے جو کچھ انہوں نے بتایا وہ ہمارے لئے باعث شرمندگی تھا کہتے ہیں کہ جس سے بھی بات کی بنیادی نکتہ ایک ہی تھا کہ ہمیں کیا ملے گا سرمایہ کار نے انہیں کہا کہ ہماری قیمتیں یہ ہوں گی اور ہم کم از کم مارجن پر کام کریں گے تو متعلقہ اہلکار نے کہا کہ آپ چاہیں تو 25 سے 30 فیصد قیمت بڑھا دیں اور ہمارا حصہ ہمارے بیرون ملک اکاونٹ میں ڈال دیں اور آپ کی فائل بھی منظوری کے بعد ہفتوں نہیں چند دن میں آجائے گی سرمایہ کار کی یہ بات سن کر ہمیں بھی سبکی کا احساس ہوا ہماری جھینپ دیکھ کر سرمایہ کار کہنے لگے یہ ہر جگہ ہوتا ہے آپ محسوس نہ کریں باتوں باتوں میں انڈیا کے بارے میں کہا کہ وہاں بھی نذرانہ لیا جاتا ہے لیکن انڈیا والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ حتیٰ الوسیع قیمت کم کروائیں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ابھی قوم نہیں بن سکے قبر یاد نہیں مادی اور دنیاوی وسائل کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہیں۔جس کے بارے میں سورۃالحدید کی آیت 20 میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیاوی حیات کو لہو و لعن اور دھوکے کا سامان کہا ہے اللہ ہمیں دنیا کی حقیقت سمجھنے اور حرام و حلال میں تمیز کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین)