- الإعلانات -

آپریشن ردالفساد اور ادیب کا کردار!

ملک سے دہشت گردی خاتمے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا ہے اس آپریشن کو’’ رد الفساد ‘‘کا نام دیا گیا ہے۔ فساد معاشرے میں موجود ہر قسم کی خرابی کو کہا جاتا ہے اس میں رجعت پسندی،انتہا پسندی، لسانی تعصب، دہشت گردی، فرقہ واریت، ملاوٹ، کرپشن ،ہر قسم کی انارکی شامل ہے ملک سے دہشت گردی ختم کر کے امن قائم کرنا آپریشن ’رد الفساد‘ کا بنیادی مقصد ہے۔ ۔ آپریشن ’رد الفساد‘ سابقہ آپریشن ’ضرب عضب‘ کی ان اہداف کو جو کسی وجہ سے باقی رہ گئے تھے پورا کرے گا اور یہ آپریشن بھی ضرب عضب کی طرح کامیاب و کامران ہوگا۔ یہ آپریشن پاکستانیوں کے لیے امید کی کرن ہے اور قوم کو پاک فوج پر اعتماد ہے اور ہر حوالے سے عوام فوج کے شانہ بشانہ ہیں، دہشت گردو نے ملک میں جو خوف و ہراس پھیلادیا ہے اسے ختم کرنے میں یہ آپریشن اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستانی قوم کی تمام تر دعائیں اور نیک خواہشات پاک فوج کے ساتھ ہیں۔اس وقت دنیا نئے سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے سرمایہ داری کے تیروں نے تیسری دنیا کے خوابوں تک کو چھلنی چھلنی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔انسانیت کو سلگتی ، سسکتی کراہوں اور بھیانک اندھیروں میں جھونک دینے کے باوجود موت کے عالمی سوداگروں نے نئے محاذ کھول دیئے ہیں اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مودی سرکار اور کچھ وحشی عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں۔ آج کا انسان اسلحے کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جب تک اسلحے کی فیکٹریاں چلتی رہیں گی امن کو خطرہ لاحق رہے گا۔ ادیب اور شاعر کا کام سیاستدان اور سائنسدان سے ہٹ کر احساس کی سطح پر سوچنے کا ہوتا ہے وہ ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی بجائے ہر واقعے کے مضمرات پر بھی نظر رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی متعصب نہیں ہو سکتا اگرچہ کبھی کبھی اسے اس کی قیمت بھی چکانا پڑتی ہے تاہم وہ اپنے فرائض سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتا۔
وقت کی شاعرہ پروین شاکر نے کہا تھا
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے
اور عہد حاضر کے قمر جلالوی کے رنگ میں رنگے ہوئے شاعر سید حاکم شاہ نوکوٹی نے لکھا
بندوق مانگتے ہیں کھلونوں کو توڑ کر
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے سعادت حسن منٹو نے ’’تماشا‘‘ جیسا افسانہ لکھ کر بتایا تھا کہ جنگ سے لوگوں اور خاص کر بچوں کی نفسیات پر کیا اثر پڑسکتا ہے؟ اور ایک مشہور ترقی پسند ادیب نے کہا تھاکسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کیپٹلزم کے نام پر یا سوشلزم کے نام پر کسی تعصب یا غیر ملکی مفاد کے نام پر لوگوں کے سر پر بندوق لے چڑھ دوڑے۔انہوں نے یہ گتھی سلجھانے کی کوشش کی کہ کس طرح انسان کے ہاتھ سے بندوق چھین لی جائے اور اس کے ہاتھ میں ایک پھول دیا جائے۔مودی سرکار کے بیانات جنون پر مبنی ہیں اور وہ اپنے بیانات سے اشتعال پھیلا کر نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن کو تباہ کرنے کے درپے ہے اسے ہوش کے ناخن لینے ہوں گے بصورت دیگر صورتحال ساحر کے اس شعر سے مختلف نہ ہوگی۔
گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں
گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں
ادیب پر ایک بہت بڑی ذمہ داری آ پڑی ہے۔ آج ادیب اپنے کردار اپنے عمل اور قلم کے ذریعے زندگی کے دھارے کو پلٹ سکتا ہے۔ ادب چونکہ زندگی کا آئینہ ہے اور زندگی کے ساتھ جتنے بھی المیے جڑے ہوئے ہیں وہ اس آئینے میں منعکس ہوتے ہیں ۔ ادب شدت پسندی اور جذباتیت سے گریز کا نام ہے اور یہی سلیقہ دراصل ادیب کو زندگی کا وہ چہرہ دکھاتا ہے جہاں جمال و شعور و آگہی کے آب و رنگ میں ڈوبی فطرت کی تصویریں ہیں۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم جس خطے میں زندگی سے نبرد آزما ہیں وہ مدتوں سے جنگ و جدل اور مختلف قسم کی محاذ آرائیوں کا مرکز رہا ہے اور جس کا براہ راست نشانہ ہمیں بنایا جا رہا ہے لیکن نائن الیون کے بعد ہر گزرتا ہوا لمحہ ہمارے مسائل میں اضافہ کر تا چلا آ رہا ہے۔ آج یہ سوال دور حاضر کے ہر حساس ذہن کیلئے سوہان روح ہوا ہے کہ س عہد کے بڑھتے ہوئے انتشار کا انجام کیا ہوگا؟ تہذیبوں کے تصادم میں بڑی سیاسی طاقتوں اور اتحادیوں نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ عصر حاضر میں کچھ لوگ خطے کو جنگ کی طرف لے جارہے ہیں لیکن نہ تو جنگ کا جواب جنگ ہے اور نہ ہی جنگ مسائل کا حل ہے۔ سرد جنگ ہو ، کورین وار ہو ویت نام کی جنگ ہو یا افغانستان پر حملہ دنیا غیر محفوظ ہوتی جارہی ہے۔ ابتداء ہی سے سامراجی اور استعماری قوتوں نے نوآبادیاتی نظام کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے۔ اایسے حالات میں کتاب سے دوستی کرکے اور قلم کو رفیق بنا کے ارتقاء کے سفر کو جاری رکھنا ہوگا۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق کا زینہ زینہ پلٹتے جائیں تو معلوم ہوگا کہ جنگ نے انسان تباہی کے علاوہ کیا دیا ہے؟پہلی جنگ عظیم میں انسانیت کس قتل ہوا کونسی خوشی حاصل کی گئی؟ ہیروشیما ، عراق، لیبیا، اور افغانستان میں کھوپڑیوں کے مینار بنانے سے انسان کو کس بات کی تسلی ہوئی۔اس وقت میڈیا مغرب کے زیر اثر ہے اور اس پرکچھ مخصوص طبقوں کا تسلط ہے جو نہیں چاہتے کہ حالات بہتر ہو جائیں۔ خاص کر بھارتی میڈیا کا کام سوائے اشتعال پھیلانے کے اور کچھ نہیں یہ ادیب کی زمہ داری ہے اس منفی امیج کو مثبت رخ دینے کیلئے مل کر صحت مند ادب تخلیق کرے کیوں کہ ادب کی دنیا میں صرف ان لوگوں کو زندہ رہنا ہے جو زندگی کے نغمہ گر ہیں نہ کہ موت کے سودا گر۔تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ادیب نے ہمیشہ محبتوں کا سفر جاری رکھا اور انسان کو کائنات کی روح کو سمجھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ ۔ آج ہم جس جنگی صورتحال سے دوچار ہیں اس سے نمٹنے کیلئے جہاں علما کرام، شاعروں ، ادیبوں اور سیاستدانوں پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہیں تحریر و تقریر سے جڑے ہر شخص کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ اپنا مثبت کردار ادا کرکے آگے بڑھے اور معاشرے کو نئی منزلوں کے راستے دکھا دے۔۔۔!
*****