- الإعلانات -

اداروں سے ٹکراؤ جمہوریت کیلئے نقصان دہ

سابق وزیراعظم نواز شریف نے لیگی رہنماؤں اورتاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہتا لیکن سازش بے نقاب کروں گا سویلین بالا دستی کو تسلیم کیا جائے میری حکومت کیخلاف سازش کی گئی آئندہ حکومت میں آکر اس سازش کو ہمیشہ کیلئے ختم کردوں گا۔ اس سے قبل بھی میری حکومت سازش کی نذر ہووئی پانامہ کیس میری حکومت گرانے کیلئے بنایا گیا ہے عوام نے پانامہ فیصلے کو تسلیم نہیں کیا ۔ احتساب کے نام پر استحصال کیا گیا مگر جھکوں گا نہیں مجھے کرسی کی کوئی پرواہ نہیں ڈیڑھ سال بے رحمانہ احتساب کیا گیا ہماری تین نسلوں کے احتساب کے باوجود ایک پائی کے خوردبرد ثابت نہیں ہوسکی ۔ ایمانداری کا یہی سرٹیفکیٹ لے کر عوام کے پاس جاؤں گا ۔ ایک طرف سابق وزیراعظم فیصلہ تسلیم کرنے کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں عوام نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا ۔ بیانات میں تضاد سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سابق وزیراعظم ذہنی تذبذب سے دوچار ہیں ورنہ وہ نیب ریفرنس کی تیاری کرتے اور خود کو وہاں بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے لیکن انہوں نے سرعام ،عوام رابطہ مہم جلسے اور جلوس میں پانامہ فیصلے پر آہ و بکا شروع کردی ہے جس کا مقصد اپنی بے گناہی ثابت کرکے عوام کے دل جیتنے ہیں پانامہ میں نواز شریف اپنی بے گناہی ثابت نہ کرسکے جس کے نتیجہ میں فیصلہ ان کے خلاف آیا ان کے بیانات میں تضادات اور دیگر عوامل ہی ان کی رسوائی کا باعث قرار پائے حالانکہ ان کو بعض مخلص رہنماؤں نے صائب مشوروں سے بھی نوازا لیکن یہ اپنی دھن میں مگن رہے ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس امر کا آئینہ دار ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور عدالت آئین و قانون کی روشنی میں فیصلہ دیتی ہے جس کے خلاف فیصلہ آتا ہے وہ خود کو مظلوم گردانتا ہے جو کہ ہماری نظر میں درست نہیں پانامہ کیس میں سابق وزیراعظم کو بھرپور موقع دیا گیا لیکن وہ صفائی پیش نہ کر پائے ۔ جے آئی ٹی رپورٹ بھی ان کیخلاف قرار پائی پھر اس کے خلاف وزراء کے بیانات اور جارحانہ رویہ تلخیاں بڑھانے اور مسائل و مصائب کا ذریعہ قرار پایا ادارے اگر آزاد ہوں اور ان کو صاف و شفاف تحقیقات کا موقع دیا جائے تو یہ مکروہ فریب کے سیاسی چلن میں سچ کو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ سابق وزیراعظم کیلئے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ اس فیصلے کو دل سے قبول کریں اور اپنے خلاف دائرریفرنس کے دفاع کیلئے تیاری کریں اور اپنی تمام تر توانائیاں اس طرف مرکوز رکھیں اداروں سے ٹکراؤ جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہے ۔ اس لئے جوش کے بجائے ہوش کی ضرورت ہے۔ سیاسی تدبر بصیرت اور برداشت کو اپنا کر ہی میاں نواز شریف میدان سیاست میں اپنے وجود کو برقرار رکھ سکتے ہیں رہا معاملہ ان کی حکومت کیخلاف سازش کا توہ اس سازش کو بے نقاب کرنے میں دیر نہ کریں عوام متجسس ہے بے تاب و بے قرار ہے اس سازش کے راز کو جاننے کیلئے اب وہ سازش سابق وزیراعظم کو لازماً بے نقاب کرنا ہوگی ورنہ عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا ۔ ویسے بھی سچ کو جھوٹ کے پردے میں چھپانا ہماری اسلامی روایات کے خلاف ہے۔ آپ کی حکومت گرانے کی سازش ہر دفعہ کون کرتا ہے ۔ اشاروں سے معاملہ نہیں چلے گا ۔ حقائق کو منظر پر لانا ہوگاورنہ آپ کی ساکھ وقار پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونگے۔ ہمارے خیال میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہے اور یہ فیصلہ دوررس نتائج کا حامل قرار پائے گا اس فیصلے سے رول آف لاء کی عکاسی دکھائی دیتی ہے جب تک رول آف لاء نہیں تھا آئین اور قانون ہی پامالی کا شکار ہوتا رہا اور ہر ایک اپنی مرضی کے فیصلے کرتا تھا ۔ اچھی طرز حکمرانی کیلئے قانون سے بالاتر کوئی نہیں یہ سب کیلئے برابر ہوا کرتا ہے اور اسی سے انصاف کا بول بالا اور قانون کی بالادستی ہوتی ہے اور ملک ترقی اور خوشحالی کے راستے پرگامزن ہوتا ہے اس وقت ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور مکار دشمن بھی اسی تاک میں ہے کہ پاکستان عدم استحکام سے دوچار ہو اور وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو، میاں نواز شریف کیلئے ہمارا مشورہ اور رائے یہ ہے کہ وہ برداشت کے ساتھ معاملات کو سنبھالیں اور قانونی مشاورت پر اپنی توجہ مرتکز رکھیں اور خود کو بے گناہ ثابت کریں یوں پانامہ کیس کے فیصلے کو متنازعہ بنا کر وہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں اداروں سے ٹکراؤ جمہوریت کیلئے سود مند قرار نہیں پاتا سیاسی اُفق پر منڈلاتے طوفانی بادلوں کو دیکھیں اور سیاسی بصیرت سے کام لیا جائے ۔ ہاں احتساب سب کا ہونا چاہیے اور بلا امتیاز احتساب ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔
سیاست میں برداشت اور تحمل ضروری
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے تحقیقات کے بعد متفقہ فیصلہ دیا تاہم سپریم کورٹ کو چیلنج کرکے نواز شریف عدالتی نظام کو تباہ کررہے ہیں نواز شریف عدالتی نظام کو تباہ کررہے ہیں نواز شریف کا جی ٹی روڈ سے جانے کا منصوبہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا مذاق کے متردف ہے نواز شریف اپنی نا اہلی کے بعد پورا نظام تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ یہ کرپشن بے نقاب ہونے پر ہی قیادت کا اخلاقی جواز کھوچکے ہیں جبکہ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ن لیگ عدالتی فیصلہ تسلیم نہ کرکے آمریت کی راہ ہموار کررہی ہے حکمران پہلے ہواؤں میں رہے پانامہ کے بعد وہ بھی جی ٹی روڈ پر مجبور ہیں جو ہماری کامیابی ہے بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست اور جمہوریت چند خاندانوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے مگر ہم اس کو آزاد کریں گے اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف الوداعی دورے کررہے ہیں اور شہباز شریف شکست کے خوف سے الیکشن سے بھاگ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کرے جس سے بلا امتیاز احتساب ہو درج بالا بیانات کے تناظر میں سیاسی اُفق پر طوفانی کیفیت دکھائی دیتی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ ہماری سیاست کا جی ٹی روڈ کا رجحان بڑھ رہا ہے بہتر قرار پاتا کہ اداروں کی ساکھ اور وقار کا خیال رکھا جاتا اور ٹکراؤ کا راستہ اختیار نہ کیا جاتا بہرحال سیاسی درجہ حرارت تیز ہوتا جارہا ہے اور ایک طرف مسلم لیگ ن اوردوسری طرف پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں سیاسی محاذ پر مورچہ زن ہیں اور آنے والے دنوں میں سیاسی محاذ پرالفاظی جنگ میں شدت پیدا کرنے کا باعث بننے کا امکان ہے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ سیاست میں ٹھہراؤ اور برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دیا جائے اس کے بغیر سیاسی استحکام نہیں آسکتا محاذ آرائی کی سیاست نقصان دہ ہے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور ماحول کو خوشگوار بنایا جائے اور سیاسی فضا خراب نہ کی جائے ۔